young to old

جلد بوڑھا کرنے والےعوامل

EjazNews

یہ تو آپ سب کو معلوم ہے کہ مناسب غذا اور مناسب ورزش، زمانہ شباب کو طول دے کر بوڑھا نہیں ہونے دیتے مگر زندگی کے بعض واقعات اور حادثات ایسے ہوتے ہیں جو جلد بڑھاپا طاری کر سکتے ہیں اور اگر ان کا علم ہو جائے تو بڑھاپے کو موخر کیا جا سکتا ہے۔
ازدواجی زندگی:
شادی کا اصل بوجھ عورت پر پڑتا ہے اسے نہ صرف سسرال والوں کی اپنی نگاہوں اور طرز عمل سے سابقہ پڑتا ہے بلکہ اس نئی زندگی میں بہت سے نئے کام مثلا ’’کھانا پکانا اور شوہر کی دیکھ بھال بھی کرنا پڑتی ہے۔ اگر وہ باہر جا کر بھی کام کرتی ہے تو پھر کام کی زیادتی اس کی صحت و تندرستی پر اثرانداز ہو سکتی ہے۔ اس کے برعکس مرد کے اپنےکرنے والے گھریلو کام کم ہو جاتے ہیں کیونکہ کوئی ان کو کرنے والا موجود ہوتا ہے۔ اگر میاں بیوی میں تلخی یا علیحدگی ہو تو حالات اور تلخ ہو جاتے ہیں اور نوبت طلاق تک پہنچ جائے تو اس کا کرب دونوں میں جلد بڑھاپا لائے گا اس سے بچنے کے لیے جہاں تک ہو سکے اس نوبت تک پہنچنے سے احتراز کریں۔ شادی کے بعد مرد ،عورت دونوں کا وزن بھی بڑھتا ہے ۔اس لیے اس زمانہ میں احتیاط رکھیں کہ وزن نہ بڑھے۔ بچوں کی پرورش اور اس سلسلہ میں راتوں کو جاگنے کا بوجھ بھی عورت پر پڑتا ہے، جس میں شوہر کی اعانت ضروری ہے تاکہ بڑھاپے کے اس عمل کو روکا جا سکے۔
احساس جوانی:
جو لوگ خود کو جوان محسوس کرتے ہیں اور اپنے انداز میں جوان دکھائی دیتے ہیں ان میں جلد بڑھاپا نہیں آتا ۔ہردم زمانہ حال کا ماتم گسار بن کر پرانے وقتوں کو یاد کرتے نہیں رہنا چاہیے اور یاد رفتگان کا مجاور بن کر نہیں بیٹھ جانا چاہیے۔یہ عمل بڑھاپا جلد لانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان کے اثرات ذہن و جسم دونوں پر پڑتے ہیں، صرف ولادت کا عمل ہی ماں میں ٹوٹ پھوٹ پیدا نہیں کرتا بلکہ پیدائش کے بعد ماں باپ پر جو بچوں کے مطالبات ہوتے ہیں، وہ جلد بڑھاپا لاتے ہیں۔ جن لوگوں کے گال آخر عمر تک پچکے ہوتے رہتے ہیں ان پر بڑھاپا بھی جلد طاری ہوتا ہے ۔بچوں کو بڑا ہوتے دیکھ کر بھی اپنے بوڑھا ہونے کا احساس ہوتا رہتا ہے اور جب بچے شادی کے بعد رخصت ہونے لگتے ہیں تو یہ احساس جلد بڑھاپا لاتا ہے کہ کام ختم ہو گیا۔ اس احساس سے تحفظ کے لیے دوسرے مشاغل کار خیر میں مصروفیت، مشغلے کتب بینی کا شوق اور مجلسی زندگی میں نہیں ہونا چاہیے۔
احساس خودی:
اپنے آپ میں اعتماد رکھنے سے صحت مندی کا بھی احساس رہتا ہے، چنانچہ خود اپنی عزت آپ کرنا چاہیے اور خود کو دوسروں سے حقیر نہیں سمجھنا چاہیے۔اپنے کو حقیر نہ سمجھنے والے وسط عمر کی افسردگی سے بھی بچے رہتے ہیں۔
درد کمر:
کمر کا درد بڑھاپے کی علامت ہے اور سبب بھی۔ درد کمر کی وجہ سے متاثرہ شخص کی زندگی محدود ہو کر رہ جاتی ہے اور یہ بات صحت پر اثر ڈالتی ہے۔ درد کمر کا ایک سبب تناؤ بھی ہے، جس کے نتیجہ میں پٹھے اکڑ جاتے ہیں اور یہ اکڑے ہوئے پٹھے جسم کے مختلف قسم کے درد کی وجہ سےہوتے ہیں۔
باہر کی آب و ہوا:
باہر کی آب و ہوا صحت مند رہنے کے لیے ضروری ہے مگر ضرورت سے زیادہ تمازت آفتاب ہوا کے جھکڑ اور بارش کے طوفانوں کی زد جسمانی صحت کو نقصان پہنچاسکتی ہے۔ دراصل موسم کی سختیاں بھی اسی طرح جھریاں لاتی ہیں، جس طرح تمباکو نوشی سے چہرہ پر جھریاں پڑتی ہیں۔ چنانچہ ضروری ہے کہ موسمی سختیوں میں احتیاط کی جائے ۔ان سختیوں سے بڑھاپے کا احساس شدید ہو جاتا ہے اور ایسے افراد خود کو معاشرہ سے کٹاہوا اور بوڑھا محسوس کرنے لگتے ہیں اس صورت حال کی اصلاح کیلئے ضروری ہے کہ متاثرہ شخص خود کو ذہنی اعتبار سے ازکار رفتہ اور بوڑھا محسوس نہ کرے۔
سیاست کے دنیا:
سیاست خواہ گھر میں ہو یا دفتر میں یا مختلف افراد سے تعلق نبھانے میں جلد بوڑھا کرتی ہے اور جھریاں ڈالتی ہے۔ دراصل جو ہم چاہتے ہیں اور جو دو سرا چاہتا ہے۔ اس خلیج کو بھرنا مشکل کام ہے اور یہ مشکل کام انسان کو جلد بوڑھا کرتا ہے ۔
سرد اور گرم موسم:
سخت سرد اور گرم موسم بھی بڑھاپا طاری کرتے ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ موسم کی سختی سے تحفظ کے لیے مناسب سامان ہو۔
کرب زندگی:
کرب زندگی کے نتیجہ میں خون میں ایک ہارمون ایڈرے نے لین کی ریزش ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے درد سر، جسمانی درد اور دیگر بے نام سے عوراض ہوتے ہیں۔ کرب کے سدباب کے لیے ورزش، تفرت، گپ شپ فرصت کے مشاغل، غزل اور موسیقی سے اپنایت ضروری ہے۔
بڑھاپے کا تعین عمر کی بجائے احساسات سے ہو تا ہے:
قدیم قول ہے کہ جوانی کا تعلق دل یا احساس سے ہے عمر سے نہیں۔ اب اس بات کی تصدیق جدید تحقیق سے ہو رہی ہے کہ بڑھاپے تک پہنچتے پہنچتے اکثر لوگوں کی حالت ایسی ہوتی ہے کہ اولین ان میں ترو تازگی اور شادانی برقرار رہتی ہے یا فرسودگی اور سال خوردگی آ جاتی ہے۔ حالا نکہ اکثر لوگ اپنی صحت کے بارے میں یہی نقطہ نظر رکھتے ہیں۔70یا80 سال کی عمر تک لوگ بدحواس اور کمزور بھی ہو سکتے ہیں اور اس کے بر عکس طاقتور طباع و زمین اور خوش و خرم بھی۔ ان دونوں کیفیتوں کا تعلق اس بات سے ہے کہ انھوںنے اپنی زندگی کس طرح گزاری ہے۔ جو افراد تمام زندگی ذہنی و جسمانی طور پر فعال رہتے ہیں اور اجتماعی طور پر مفید کاموں میں مشغول رہتے ہیں، ان کے شباب پر خزاں کے اثرات گہرے نہیں ہوتے، موروثی مرض اور سال خوردگی کا اثر کم ہوتا ہے۔ خراب صحت بھی زیادہ تر خود اپنا کیا دھرا ہوتا ہے۔ موروثی اثرات زیادہ تر بچپن اور جوانی میں اہم ہیں۔ لوگوں کو اپنی عمر کے باوجود جسمانی اور ذہنی طور پر فعال رہنا چاہیے، چہل قدمی کو شعار بنانا چاہیے۔ رسانی و معاشرتی اور مجلسی خاندانی روابط کو استوار رکھنا چاہے ۔غذا میں سبزیاں، ترکاریاں، دالیں، پھلیاں اور پھل ہوناچاہیں ، مزاج میں تحمل اور بردباری اور پاک ہونی چاہیے۔ اگر کوئی نقصان ہو تو اسے صبر سے برداشت کرنا چاہیے ۔اپنی زندگی اور اپنے معمولات پر اختیار ہونا چاہیے۔ انھیں گوشہ گیر اور سماج سے کٹ کر نہیں رہ جانا چاہیے۔ جو افراد آخر وقت تک ذہنی مصروفیات میں مشغول رہتے ہیں، ان کی ذہنی صلاحیت برقرار رہتی ہے، جسمانی اور ذہنی طور پر فعال رہنے سے نہ صرف عمر بڑھتی ہے، بلکہ زمانہ صحت و تندرستی بھی بڑھتا ہے۔ لوگوں کو تمام عمر مطالعہ جاری رکھنا چاہیے اور ان تمام مشاغل میں حصہ لینا چاہیے جن میں زبان خوب استعمال ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سینے کا دردضروری نہیں دل کا ہو
کیٹاگری میں : صحت