Rahul-Gandhi-sirinagar

انڈین اپوزیشن بھی مقبوضہ کشمیر میں داخل نہیں ہوسکتی

EjazNews

انڈیا میں نریندرا مودی کیخلاف وزیراعظم کا الیکشن لڑنے والے انڈیا کی سب سے بڑی جماعت کے رہنما راہول گاندھی نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کو جاننے کیلئے وہاں جانے کا ارادہ کیا۔ غور کیجئے یہ کوئی عام آدمی نہیں ہیں۔ ان کی نسلوں نے انڈیا پر حکومت کی ہے اور یہ نریندرا مودی کیخلاف الیکشن لڑے ہیں اور انڈین اپوزیشن کانگریس پارٹی کے بڑے رہنما ہیں۔ یہ سری نگر ائیر پورٹ پر پہنچے ہیں جہاں پر انہیں جبراً واپسی کی راہ دکھا دی گئی ہے۔ ان کو ائیر پورٹ سے باہر نہیں نکلنے دیا گیا ان کے ہمراہ اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد اور صحافی بھی تھے ۔
انڈیا کے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد بھی ان کے ہمراہ تھے جنہوں نے سوالات اٹھائے کہ اگر کشمیر کی صورتحال معمول پر ہے جیسا کہ انڈیا دعویٰ کر رہا ہے تو پھر سیاسی رہنمائوں کو کیوں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ کشمیر پہنچنے والے سیاسی رہنمائوں کی اس طرح تذلیل کیوں کی گئی ہے۔ راہل گاندھی نے تو کشمیری رہنمائوں سے ملنا تھا ۔ اگر سب ٹھیک ہے تو پھر واپس کیوں بھیجا جارہاہے۔ وہ بھی ائیر پورٹ کے اندر سے ہی باہر تک جانے نہیں دیا جارہا۔
ایک رپورٹر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر ہو رہی ہے جس نے سری نگر ائیر پورٹ سے باہر جانے کی کوشش کی تو اسے وہاں پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے تشدد کا نشانہ بنایا ۔ جبکہ دیگر اور بھی صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔
دوسری جانب کشمیری پابندیاں توڑ کر احتجاجی مظاہرے کرنے شروع ہو چکے ہیں۔ جبکہ بھارتی فوج نہتے کشمیریوں پر آنسو گیس کی شیلنگ اور پیلیٹ گنز کا استعمال کر رہی ہے ۔جمعہ کے روز کشمیریوں پر ظلم و ستم کی انتہا کی گئی جس کی ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پروائر ل ہو ریہ ہیںجبکہ مقبوضہ کشمیر میں انٹرنیٹ ، فون اور موبائل سروسز مسلسل بند ہے اور میڈیا کو کوریج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق مسلسل کرفیو کی وجہ سے کاروباری اور تعلیمی ادارے مکمل طور پر بند ہیں۔ یہاں پر کتنے لوگوں کو حراست میں رکھا گیا ہے یہ کسی کو پتہ نہیں ہے ۔ کوئی نہیں جانتا کہ کشمیر میں ان کا بیٹا، بھائی، خاوند زندہ بھی ہے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  سری لنکا میں مختلف مقامات پردھماکے