Mishal Malik inteview

تحریک آزادی میں مردوں کے شانہ بشانہ اب عورتیں بھی کھڑی ہیں

EjazNews

یوں تو تحریک آزادی کشمیر کی تاریخ خاصی طویل ہے، تاہم بھارتی فوج کے مظالم نے 1989ء میں کشمیر کی عفت مآب خواتین کو گھروں سے نکلنے پر مجبور کردیا اور پھریہ بھی حریت پسند تحریک کاباقاعدہ حصّہ بننے لگیں ۔اگرچہ طبعاً کمزور ہونے کی وجہ سے کشمیری عورت ہی سب سے زیادہ زدپر ہے ، اس کی عزّت و بقا کو ہمہ وقت خطرات لاحق رہتے ہیں، لیکن اب اس کے شعور کی سطح اس قدر بلند ہو چُکی ہے کہ عصمت دری، جنسی ہراسانی اور بھارتی فوج کے ہاتھوں اپنے پیاروں کے شہید اور لاپتہ ہونے جیسے بے شمار لرزہ خیز واقعات کی عینی شاہد ہیں۔اب وہ تحریک آزادی کو بھی تقویت پہنچا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کشمیری طالبات قابض فوج پر پتھر برساتی اور پیلٹ گنز کا ہدف بنتے دکھائی دیتی ہیں۔ لیکن ان کے حوصلے ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم کرنے کے ساتھ ساتھ انڈیا نے تحریک آزادی کے تمام رہنمائوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ اور ساتھ میں ان کو بھی جو کبھی نہ کبھی حکومتوں کا بھی حصہ رہے ہیں۔ اب مردوں کی گرفتاریوں کے بعد ذمہ داریاں خواتین پر آن پڑی ہیں جو مردوں کی طرح لڑ رہی ہیں۔
س :حریت پسند رہنما، یٰسین ملک سے رشتہ ازدواج میں کب اور کیا سوچ کر منسلک ہوئیں؟
ج :مجاہد آزادی ، یٰسین ملک سے میری پہلی ملاقات 2005ء میں تب ہوئی تھی، جب اُس وقت کے صدر پاکستان، جنرل پرویز مشرف کی زیر نگرانی امن عمل جاری تھا ۔ اس موقع پر حریت پسند رہنماکے اعزاز میں اسلام آباد کے پنجاب ہائوس میں ایک بہت بڑا عشائیہ منعقد کیا گیا، جس میں پاکستان مسلم لیگ کی رہنما ہونے کے ناتے میری والدہ کو بھی مدعو کیا گیا اور میں نے اُن کے ساتھ اس تقریب میں شرکت کی۔ اس دوران یٰسین ملک نے اُن 15لاکھ دستخطوں کی بھی نمائش کی، جو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جمہوری طریقے سے مقبوضہ کشمیر کی آزادی پر مبنی مؤقف پر لیے گئے تھے۔ چُونکہ ہمارا خاندان مجاہدین آزادی کی بڑی عزت کرتا تھا ، میری والدہ ان سے مستقل رابطے میں رہتی تھیں اور مجھے بھی یہ صفات ورثے میں ملی تھیں، لہٰذا میرے لیے تو اس تقریب میں شرکت کرنا خوابوں کی تعبیر ملنے کے مترادف تھا۔ پھر جب مَیں نے یٰسین ملک کی وہ تقریر سنی، جس میں انہوں نے فیض احمد فیض کی مشہورِ زمانہ نظم،’’ ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے…لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘‘ پڑھی تھی، تو میرے دِل میں اُن کی قدر و منزلت کچھ اور بھی بڑھ گئی۔ تقریب کے اختتام پر مَیں نے اور والدہ نے وہاں موجود تاثراتی کتاب میں تاثرات کے علاوہ اپنے ای میل ایڈریسز بھی درج کیے۔ بعد ازاں، پاکستان سے روانگی سے قبل یٰسین ملک نے فون پر میری والدہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مجھ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ سلام دُعا کے بعد انہوں نے پاکستانیوں کے بارے میں تعریفی کلمات ادا کیے اور پھر مجھے شادی کی پیشکش کر دی۔ یہ سن کر مجھے ایک جھٹکا سا لگا، کیونکہ اس سے پہلے میری کبھی اُن سے بات تک نہیں ہوئی تھی اور نہ ہی مَیں نے کبھی اُن کی رفیق حیات بننے کا تصور کیا تھا۔ مَیں تو اُن کی ان تھک و طویل جدوجہد کے بارے میں سوچ کر ہی حیرت میں ڈُوب جاتی تھی ۔ تاہم، جب مَیں نے اُن کی شادی کی پیشکش پر ٹھنڈے دِل و دماغ سے غور کیا، تو خیال آیا کہ جوڑے تو آسمانوں پر بنتے ہیں اور پھر میرا اس بات پر بھی پختہ ایمان ہے کہ تقدیر کا لکھا کوئی نہیں ٹال سکتا۔ سو، مَیں نے ہاں کر دی۔

یہ بھی پڑھیں:  میڈیا بحران میں ہزاروں صحافی گھر میں بیٹھ گئے ہیں،کوئی پرسان حال نہیں
یٰسین ملک انڈیا کی بدنام زمانہ جیل میں قید ہیں جہاں ان پر ظلم و ستم کی انتہا کی جا رہی ہے۔ جب انہیں گرفتاری کیا گیا تھا اس وقت بھی مشال یٰسین نے ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے خدشے کا اظہار کیا تھا کہ یٰسین ملک کو جیل کے اندر ہی شہید کرنے کے پلان بنائے جارہے ہیں۔ ان کی جان کو سخت خطرات لاحق ہیں۔ اور اب پھر ایک بار ایسی ہی باتیں سامنے آرہی ہیں

س :جب آپ کے شریک حیات پر تشدد کیا جاتا ہے، انہیں جسمانی و ذہنی اذیتیں دی جاتی ہیں، تو آپ کے دل پر کیا گزرتی ہے؟ ان کرب ناک لمحات میں جذبات کا اظہار کرتی ہیں یا پھر تحریک آزادی کی خاطر اپنا غم بھول کر دیگر مظلوم کشمیریوں کی تڑپ کا سوچ کرعزم وحوصلہ پاتی ہیں؟
ج :اس میں کوئی شُبہ نہیں کہ میرے خاوند کی زندگی عام مَردوں سے قطعاً مختلف ہے۔ وہ قید و بند کی صعوبتیں اور مَیں اور میری بیٹی اُن کی طویل جُدائی برداشت کر رہی ہیں، لیکن یہ میرے لیے بڑی خوش قسمتی کی بات ہے کہ مَیں ایک نیک مقصد کی خاطر جدوجہد کرنے والے ایک جری و بہادر شخص کی رفیق حیات ہوں ۔ مَیں اللہ کا شُکر ادا کرتی ہوں کہ میری زندگی کا اِک اِک پَل مظلوم کشمیری قوم کے لیے وقف ہے اور اس نے مجھےبھارتی مظالم کے ستائے کشمیریوں کی دُنیا بھر میں نمائندگی کا موقع دیا۔ یٰسین ملک کی پوری زندگی آزادی کے لیے تگ و دو کرتے، اذیت سہتے گزری ہے۔ اُن کے جسم کا شاید ہی کوئی حصّہ ایسا ہو، جس پر بھارتی فوج نے تشدد نہ کیا ہو۔ جب مجھےاپنے شوہر پر ہونے والے مظالم کی اطلاع ملتی ہے، تو میری رُوح تک کانپ اُٹھتی ہے ۔ مَیں سجدے میں گر کر شوہر کی سلامتی کی دُعائیں مانگتی ہوں۔ اگرچہ اس موقع پر میری والدہ اور خاندان کے دوسرے افراد ہمت افزائی کرتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مَیں جذبات پر قابو نہیں رکھ پاتی۔ تاہم، میری کوشش ہوتی ہے کہ اپنی معصوم بیٹی کے سامنے پریشانی کا اظہار نہ کروں، کیوں کہ وہ بھی میری طرح کافی حسّاس ہے اور کسی کو دکھ میں دیکھ کر کھانا پینا چھوڑ دیتی ہے۔ اس کی خاطر بھی مَیں خود کو مضبوط ظاہر کرتی ہوں۔ پھر یٰسین ملک بھی مجھے رونے سے منع کرتے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ ہم ایک نیک مقصد کی خاطر جدوجہد کر رہے ہیں ۔ ہم کشمیری قوم کی اُمنگ، آواز ہیں، لہٰذا ہمیں انہیں افسردہ یا بد دِل نہیں کرنا چاہیے۔ ازدواجی زندگی کے حوالے سے بات کی جائے، تو حریّت پسند رہنما کے ساتھ میری شادی کو 10برس ہونے والے ہیں، لیکن ہم نے صرف 60روز اکٹھے گزارے ہیں۔ ایک عورت کے لیے یہ ایک بہت بڑی قربانی ہوتی ہے۔ پھر میری بیٹی بھی اب بڑی ہوتی جا رہی ہے اور وہ بھی اپنے والد کی کمی بہت زیادہ محسوس کرتی ہے، لیکن اس کے باوجود اپنی مظلومیت کا پرچار کرنے کی بہ جائے مَیں خود کو مجاہد آزادی کے طور پر پیش کرتی ہوں۔
س :آپ آزادی کشمیر کے لیے اپنا کردار کس طرح ادا کر رہی ہیں اور کیا شوہر سے رابطہ رہتا ہے؟
ج :مَیں مختلف پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان سمیت پوری دنیا میں مقبوضہ کشمیر کے عوام، بالخصوص خواتین اور بچّوں کی آواز پہنچانے کی کوشش کرتی ہوں۔ اسی وجہ سے جیل میں یٰسین ملک سے ملاقات کے لیے جاتے ہوئے بھارتی فوج نے مجھے اور میری بچّی کو قتل تک کرنے کی کوشش کی۔ مَیں ہر پلیٹ فارم پر کشمیری قوم کی امنگوں کی نمائندگی کرتی ہوں کہ آزادی، کشمیریوں کا جمہوری حق ہے اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی روشنی ہی میں حل ہونا چاہیے۔مَیں نے ای میلز ہی کے ذریعے مقبوضہ کشمیر میں جاری نسل کُشی پریو این او کے ہیومن رائٹس کمشنر اور سیکرٹری جنرل کی توجّہ مبذول کروائی۔ اسی طرح بین الاقوامی سطح پر یہ باور کروا رہی ہوں کہ مسئلہ کشمیر کا حل علاقائی سلامتی و ترقّی کے لیے ناگزیر ہے ، مگر جنگ مسئلے کا حل نہیں۔ اس سلسلے میں مَیں کئی بین الاقوامی سیمینارز میں شرکت کر چُکی ہوں۔
س :مسئلہ کشمیر نے مقبوضہ کشمیر کی خواتین پر کیا اثرات مرتّب کیے ہیں؟
ج :سیاہ قوانین کے تحت بھارتی فوج کو حاصل بے لگام اختیارات کے سبب اس وقت کشمیری خواتین ہی سب سے زیادہ غیر محفوظ اور مجروح ہیں۔ آج نہ صرف کشمیری عورت کی عصمت غیر محفوظ ہے، بلکہ شوہر، بھائیوں اور جوان بیٹوں کی شہادت اور لاپتہ ہونے کی وجہ سے تحریک آزادی چلانے، بچّوں کی پرورش اور اہل خانہ کی کفالت کا بوجھ بھی اُس پر آن پڑا ہے۔ اس وقت ہزاروں نہیں، بلکہ لاکھوں کشمیری مَرد غائب ہیں۔ لہٰذا، یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آج تحریک آزادیٔ کشمیر کا سارا بوجھ خواتین پر ہے۔ ایک دور ایسا بھی تھا کہ جب دُنیا کے ایک بڑے حصّے میں خواتین کو مساوی حقوق حاصل نہیں تھے، جس کے لیے بڑی جدوجہد کی گئی، جبکہ اسلام نے سب سے پہلے خواتین کو عزّت و احترام دیا۔ بھارت کی مسلط کردہ جنگ کی وجہ سے کشمیری عورت ہی سب سے زیادہ مسائل کی شکار ہے۔ اُسے مختلف جسمانی و نفسیاتی امراض کا سامنا ہے۔ مہینوں کرفیو نافذ رہنے کی وجہ سے کشمیری طالبات درس گاہوں میں نہیں جا سکتیں، جس کی وجہ سے اُن کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رہے کہ پیلٹ گن کا پہلا ہدف بھی ایک 13سالہ طالبہ، انشا تھی، جبکہ دُنیا میں پیلٹ گن کا نشانہ بننے والی سب سے کم عُمر بچّی، ہبیٰ بھی کشمیری ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کشمیری عورت کن حالات میں زندگی گزار رہی ہے، لیکن یکے بعد دیگرے رونما ہونے والےلرزہ خیز واقعات کے باوجود اُس کا عزم غیر متزلزل ہے۔
س :کیا ’’کشمیر کی بیٹی‘‘ آزادی کے خواب کے سوا بھی کوئی اور خواب بھی دیکھتی ہے؟
ج :آزادی اور حق خود ارادیت پوری کشمیری قوم کا خواب ہے۔ صرف کشمیری عورت ہی نہیں، بلکہ مَرد، بچّے اور بزرگ بھی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ تاہم، اگر تحریک آزادیٔ کشمیر کی تاریخ پر نظر ڈالیں، تو پتہ چلتا ہے کہ ڈوگرا راج کو سب سے پہلے مائیسوما کی خواتین نے للکارا تھا اور اس جرم کی پاداش میں بہت سی عورتیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی گئی تھیں۔ یعنی تحریک آزادیٔ کشمیر میں خواتین کا کردار بہت اہم ہے اور اس وقت بھی اَن گنت خواتین مختلف انداز میں مَردوں کے شانہ بہ شانہ اس تحریک کی قیادت کر رہی ہیں۔ کشمیر ی خواتین دُنیا کی بہادر ترین عورتیں ہیں۔ یہ اپنے سائبان چھن جانے پر تن تنہا اپنی بقا اور آزادی کی جنگ لڑ رہی ہیں۔ یہ جرأت مند خواتین مَردوں کی غیر موجودگی میں اپنے اہل خانہ کو بھارتی فوج کی سفاکیت سے بچائے رکھتی ہیں اور جنسی ہراسانی وعصمتیں لٹنے کے خطرات کے باوجود گھروں سے نکل کرتعلیمی اداروں اور ملازمتوں پر جاتی ہیں۔آسیہ اندرابی اور مجھ سمیت دوسری خواتین کی کاوشوں کی وجہ سے کشمیری صنف نازک کی شعوری سطح خاصی بلند ہوئی ہے اور انہوں نے خود کو ایک مظلوم عورت ثابت کرنے کی بجائے اپنی قربانیوں کے ذریعے خود کو جدوجہد کے استعارے کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔
س :جنگیں عورتوں اور بچّوں پر ہر اعتبار سے منفی اثرات مرتّب کرتی ہیں، مگر وہ بچّے جو آنکھ ہی غلامی، ظلم و تشدد، سفاکی و بربریت، جنگ کے ماحول میں کھولیں، کیا وہ کبھی بھی عام انسانوں کا سا برتائو کر سکتے ہیں؟
ج: مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 70برس سے جنگ جاری ہے اور یہ ایک بہت طویل عرصہ ہے۔ کشمیریوں کو روزانہ ہی اپنے پیاروں کی لاشیں اُٹھانا پڑتی ہیں اور یہ واقعات رُوح تک کو ہِلا کر رکھ دیتے ہیں۔ دہائیوں سے جاری یہ کُشت و خوں نہ صرف کشمیری خواتین اور بچّوں کی رُوحیںچَھلنی کر رہا ہے، بلکہ اس کے اثرات اگلی نسلوں تک بھی منتقل ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  انہوں نےبہت جلد وہ شہرت حاصل کی، جو بعض افراد کو عمر بھر کی ریاضت کے بعد بھی نصیب نہیں ہوتی:آئمہ بیگ