مدینہ کے فضائل

فضائل مدینہ منورہ

EjazNews

ہجرت سے پہلے یہ شہر یثرب کے نام سے مشہور تھا اسلام میں مدینہ اور طیبہ کےنام سے ہوا۔ یہ شہر مکہ مکرمہ سے شمال جانب دو سو ساٹھ میل کے فاصلہ پر واقع ہے اورملک عرب میں صوبہ حجاز میں آبادی کے لحاظ سے دوسرے نمبر پر ہے، یہ بھی نہایت مقدس و بابرکت شہر ہے۔ اسی شہر میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مدفن ہے۔ مکہ مکرمہ سے صحابہ کرام ہجرت کر کے یہاں آبا ہو گئے تھے۔ اس لئے اسے دارالہجرت بھی کہا جاتا ہے۔ انصاری یہیں کے رہنے والے ہیں۔ دنیا میں اسلام کی اشاعت اسی شہر سے ہوئی ہے۔ مکہ مکرمہ کی طرح اس شہر کے بعض حصے حرم ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: اے اللہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تیرے خلیل اور نبی تھے۔ ان کی زبان پر مکہ کو حرم قرار دیا۔ اے اللہ میں تیراہ بندہ اور پیغمبر ہوں میں مدینہ کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیان تک حرم قرار دیتا ہوں۔(ابن ماجہ)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامدینہ کا حرم جبل عیر سے ثور تک ہے نہ اس کا درخت کاٹا جائے اورنہ اس میں کوئی بدعت کی جائے جو مدینہ میں بدعت ایجاد کرے گا اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی لعنت ہے۔ (بخاری)۔ فرمایا مدینہ برے آدمیوں کو اس طرح نکالد یتا ہے جیسے بھٹی لوہے کا میل دور کر دیتی ہے۔ (بخاری ) اور فرمایا ملک یمن ، شام ، عراق وغیرہ فتح ہو گا ۔ لوگ مدینہ سے وہاں جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہے ۔ اگر وہ اس کو سمجھتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایمان مدینہ میں سمٹ کر اس طرح آجائے گا جیسے سانپ سمٹ کر اپنےب ل میں سماجاتا ہے۔ بخاری)
یعنی آخر زمانے میں سچے مسلمان ہجرت کر کے مدینہ جائیں گے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مدینہ اسلام کا قبہ ہے اور ایمان کا گھر ہے۔ اور ہجری کا مقام ہے اور حلال و حرام کے معلوم ہونے کا ٹھکانا ہے۔
مدینہ منورہ کا پھل
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب لوگ پہلا پھل دیکھتے ہیں تو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لاتے آپ اس کو للے کر ارشاد فرماتے اے اللہ تو ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما اور ہمارے شہر میں برکت ہی برکت دے اور ہمارے مد و صاع میں برکت عنایت فرما۔ (مسلم)
خدایا حضرت ابراہیم ؑ تیرے بندے و خلیل و نبی تھے اور میں بھی تیرا ہی بندہ و پیغمبر ہوں ۔ حضرت ابراہیم ؑ نے مکہ کے لئے دعا مانگی اور میں مدینہ کے لئے دعا مانگتا ہوں۔ جتنی انہوں مکہ کے لئے مانگی تھی اور اس کے ساتھ اور زیادہ بھی، پھر کسی اور چھوٹے بچے کوب لا کر اس پھل کو عطا فرما دیتے۔ (مسلم)
ان پھلوں میں بڑی خیر و برکت ہے روحانی اور جسمانی بیماریوں کے لئے تریاق کا حکم رکھتے ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص صبح عجوہ کھجور کے سات دانے کھالے اس کو اس دن نہ زہر نقصان دے گا اورنہ جادو۔
مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ مقام عالیہ کی عجوہ شفا ہے اور سا کو نہار منہ کھانا تریاق ہے اور احمد کی روایت میں ہے کہ عجوہ جنتک ا پھل ہے۔
مدینہ کا غبار
مدینہ منورہ کا غبار باعث شفا ہے اور مہلک بیماریوں کے حق میں تریاق ہے ۔ حضرت سعد ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوئہ تبوک سے واپس تشریف لا رہے تھے تو مدینہ کے پسماندگان نے آپ کا استبال کیا اورآپ سے آکر ملے جس کی وجہ سے گردو غبار اُڑایا۔
ترجمہ: تو آپ کے بعض ہمراہیوں نے اپنی ناک کو ڈھانک لیا اور منہ پر کپڑا ڈال لیا۔ آپ نے ان کے کپڑے کو ہٹا کر ارشاد فرمایا: خدا کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اس غبار میں ہر بیماری سے شفاءہے۔ اور برص اور جذاب (کوڑھ) کے لئے بھی شفا ہے۔ (ترغیب)
مدینہ منورہ کی محبت
اللہ تعالیٰ نے مدینہ منورہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سکونت کے لئے منتخب فرمایا۔ ہجرت کر کے آپ یہاں تشریف لائے اورزندگی کے آخری لمحات تک یہیں قیام پذیر رہے۔ مدینہ منورہ کی محبت کی دعا فرمائی:
ترجمہ: اے اللہ تو مدینہ کی محبت میرے دل میں ڈال دے جیسے مکہ کی محبت تھی بلکہ اس سے بھی زیادہ ، اور اس کو ہمارے لئے صحت یاب بنا دے اور اس کے مدو صاع میں برکت عنایت فرما اور اس کے بخار کو حجفہ میں منتقل کر دے۔(مسلم)
حضرت انس ؓ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے اور مدینہ منورہ کی دیواروں کو دیکھتے تو مدینہ کی محبت میں سواری کو تیز کر دیتے اور اگر کسی جانور پر سوار ہوتے تو اس کو حرکت دے کر تیز کر دیتے۔ (بخاری)
مدینہ منورہ کے لئے برکت کی دعا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ طیبہ کے لئے برکت کی یہ دعا فرمائی ہے۔ ”اے اللہ تو مکہ سے دُگنی برکت مدینہ میں عنایت فرما۔ “
مدینہ منورہ نہ طاعون آسکتا ہے نہ دجال داخل ہو سکتا ہے:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مدینہ کی گھاٹیوں پر فرشتے مقرر ہیں تاکہ اس میںطاعون اور دجال نہ داخل ہونے پائیں ۔“ (بخاری)
مسلم کی ایک روایت میں فرمایا کہ مکہ اور مدینہ کے سوا اور کوئی شہر نہیں جہاں دجال نہ جائے مدینہ کی ہر گھاٹیوں پر فرشتے صف بستہ کھڑے ہیں اور اس کی حفاظت کرتے ہیں۔ (بخاری)
مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کرنے کی فضیلت:
مدینہ کے مصائب اور تکلیفوں پر صبر کر کے اقامت کرنے والے کی آپ سفارش فرمائیں گے۔
ارشاد ہے ”جو مدینہ کی مصیبتوں اور پریشانیوں پر صبر کرے میں قیامت کے دن اس کی سفارش کر دوں گا۔“
اور سب سے پہلے آپ مدینہ والوں کی سفارش فرمائیں گے چنانچہ آپ فرماتے ہیں ”سب پہلے جن لوگوں کی میں سفارش کروں گا وہ مدینے والے ہیں پھر مکہ والے پھر طائف والے ہوں گے۔“
مدینہ منورہ میں بدعت کرنے والا ملعون ہے:
جس طرح یہاں نیکیاں زیادہ ہیں اسی طرح یہاں گناہ کرنے کا زیادہ گناہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو مدینہ میں بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کوپ ناہ دے اس پر اللہ کی اور تمام فرشتوں اورتمام انسانوں کی لعنت ہے اور اس کی نفلی و فرضی عبادت مقبول نہیں ہے۔“
مدینہ منورہ کی موت:
یہاں کی موت باعث سعادت و موجب شفاعت ہے سب سے پہلے یہیں کے لوگ اٹھیں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اول مجھ سے ز مین شق ہو گی پھر ابوبکر سے ، پھر عمر سے پھر میں بقیع والوں کے پاس آﺅں گا، وہ اٹھیں گے، پھر مکہ والوں کا انتظار کروں گا تو میں دونوں حرمین کے لوگوں کو ساتھ لے کر روانہ ہوںگا۔ (وفاءالوفار)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو مدینہ میں مرنے کی طاقت رکھتا ہو تو اس کو مدینہ ہی میں مرنا چاہئے اس لئے کہ میں مدینہ میں مرنے والوں کا گواہ اور ضمانتی بنوں گا۔ “
اسی لئے حضرت عمر ؓ مدینہ میں موت کی یہ دُعا مانگا کرتے تھے ”اے اللہ تو مجھے اپنے راستہ میں شہادت نصیب فرما اور اپنے رسول کے شہر میں موت دے۔ “
حضرت عمر ؓ کی یہ آرزو پوری ہو گی۔ ہماری بھی یہی آروز ہے۔ آمین۔
جبل اُحد:
مدینہ منورہ سے ڈیڑھ دو میل کے فاصلہ پر پہاڑ احد واقع ہے۔ جنگ احد کے نام سے یہاں مشہور لڑائی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ پہاڑ بہت محبوب تھا آپ نے جبل احد کی طرف اشارہ کر کے فرمایا: ”یہ پہاڑ اُحد ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“
کبھی کبھار آپ اس پر تشریف لے جایا کرتے تھے۔ ایک دفعہ آپ اور حضرت ابوبکر ؓ و عمرؓ اس پر تشریف فرما تھے، وہ فرط نشاط سے جھومنے لگا اور حرکت کرنے لگا، آپ نے فرمایا: ”اے اُحد ٹھہر جا، تیرے اوپر نبی، صدیق اور دو شہید ہیں۔“
ایک روایت میں فرمایا ”ہم اس پہاڑ سے محبت رکھتے ہیں اور یہ ہم سے محبت رکھتا ہے، یہ جنت کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہوگا اور عسیر پہاڑ سے ہم کو عداوت ہے اورا س کو ہم سے عداوت ہے۔ وہ دوزخ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہوگا۔ (طبرانی ، بزار ، ترغیب)
احد اور عسیر مدینہ منورہ کے دو پہاڑ ہیںاور دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے واقع ہیں جبل عسیر منافقین اور معاندین کی قیام گاہ تھا اور اُحد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کی قیام گاہ تھا۔ اس لئے ان دونوں میں عداوت و الفت تھی۔

یہ بھی پڑھیں:  لبیک کی فضیلت