china vs amrica

چین اور امریکہ کی تجارتی جنگ بہت سے بجھے ہوئے شعلوں کو ہوا دے سکتی ہے

EjazNews

امریکہ نے چینی مصنوعات پر 10فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا تھا اور ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ تجارتی جنگ میں چین کی مزید 3ارب ڈالر کی مصنوعات پر 10فیصد نیا ٹیرف نافذ ہوگا ،اب تک امریکہ نے ڈھائی سو ارب ڈالر کی ڈیوٹیز عائد کی ہیں۔اب اس تجارتی جنگ میں شدت آنا ہی تھا امریکہ کے بعد چین نے بھی جواب اور امریکی مصنوعات پر نئے ٹیکسز عائد کر دئیے۔چین نے امریکی مصنوعات پر 75ارب ڈالر کے نئے ٹیکسز لگانے کا اعلان کر دیا ے۔ چین کے لگائے گئے ٹیکسز کے ٹیرف میں اضافے کا اطلاق یکم ستمبر سے ہوگا۔ چین میں امریکہ سے آنے والی 5ہزار 78اشیاء پر یکم ستمبر اور 15دسمبر سے 5سے 10فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔
امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے سے امریکہ اور چین کے درمیان معیشت اور تجارت میں پائے جانے والے اختلاف میں اضافہ ہوگیا ہے ۔ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی کمپنیوں کو چین سے تجارت کرنے سے منع کر دیا ہے ۔
جب ہم نے دونوں ممالک کی تجارت کا جائزہ لیا تو ہمارے سامنے چونکا دینے والے اعداد و شمار سامنے آئے۔ جس کے تحت چین اگر اپنی پالیسیوں پر گامزن رہا تو وہ بہت جلد عالمی تجارت سے امریکہ کی اہمیت کو کم کر دے گا۔
کسی ملک کی ترقی کی وسعت کا اندازہ اُس کے توانائی کے استعمال سے بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس معاملے میں چین کا امریکہ کے بعد نمبر ہے، مگر کوئلے کے استعمال کی وجہ سے وہاں آلودگی کے سنجیدہ مسائل بھی پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم، چینی قیادت کو اس کا احساس ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ متبادل انرجی میں سرمایہ کاری کرنے والا سب سے بڑا مُلک بن چکا ہے۔ عالمی معیشت میں چین کا حصہ پندرہ فیصد ہے، تو امریکہ کا 25 فیصد سے کچھ زیادہ ۔لیکن چین کی برآمدات دنیا میں سب سے زیادہ ہیں، جن کی مالیت2401 بلین ڈالرز ہے، جبکہ امریکہ کی اس کے مقابلے میں 1501بلین ڈالرز ہے۔
اگر چین کی معیشت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو 2029 ء تک امریکہ سے آگے نکل جائے گا۔ وہ جاپان کو تو پہلے ہی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔پھر یہ کہ اس کی درآمدات کنٹرولڈ ہیں اور 1800بلین ڈالرز کے لگ بھگ ہیں، اس طرح اس کا ٹریڈ سرپلس ہے۔ اس کے زر مبادلہ کے ذخائر3.16 ٹریلین ڈالرزسے بھی زائد ہیں۔ چین کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پارٹنر امریکہ ہے اور اُس کی مجموعی برآمدات کے اٹھارہ فیصد کا اسی سے تعلق ہے، جبکہ یورپی یونین کو سولہ فیصد برآمدات جاتی ہیں۔دنیا بھر کے مالیاتی اداروں نے چین کو’’ اے پلس‘‘ اور’’ ڈبل پلس‘‘ ریٹنگ دی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے مطابق اس کی معیشت مستحکم ہے۔ چین نے یہ کارنامہ 815.3 ملین افرادی قوت کے بل بوتے پر انجام دیا ہے۔ ہنرمند افراد میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے، کیونکہ اُس نے اسکلڈ قوت کے فروغ میں زبردست سرمایہ کاری کی ہے اور اسے خاص توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ اس سے جہاں چین کے مال میں بہتری آرہی ہے، وہیں روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی وجہ سے اقتصادی اور سیاسی استحکام حاصل ہورہا ہے۔ لیکن چین کی موجودہ لیڈر شپ اس سارے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ اور معاشرے کو مسلسل ترقی کی جانب گامزن رکھنے کے لیے بڑھتی ہوئی مڈل کلاس کی ضرورت کا پوری طرح احساس رکھتی ہے، کیونکہ یہی مڈل کلاس اس کی کامیابی اور نظام کے استحکام کی ضامن ہے۔ اسی لیے چین میں تعلیم یافتہ افراد کی تعداد، آبادی کا 92 فیصد یعنی 1 ارب 36کروڑ ہے۔
اگر ماضی قریب کا جائزہ لیا جائے تو امریکہ نے چین، یورپ اور بعض دیگر ممالک کی مصنوعات پر تجارتی ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم، اس کا سب سے زیادہ اثر چین پر پڑا کہ دونوں ممالک کے مابین تجارت کا حجم سب سے زیادہ ہے۔ امریکی فیصلے کے رد عمل میں چین نے بھی امریکی مصنوعات پر ٹیکس عائد کر دیا اور دونوں جانب سے سخت بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس موقع پر عالمی اقتصادی نظام کے تلپٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جانے لگا۔ تاہم چین نے حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ کو بات چیت کی دعوت دی۔ مئی کے وسط میں دونوں ممالک کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا، جسے دونوں ممالک ہی کے رہنمائوں نے اپنے لیے مفید قرار دیا۔
یہ بھی ایک اہم بات ہے کہ امریکہ اور چین کے تعلقات خراب ہونے کی صورت میں شمالی کوریا اور امریکہ کے درمیان مفاہمتی کوششیں بھی اثر انداز ہوتی ہے اور پھر ایران اور عالمی طاقتوں کی نیوکلیئر ڈیل سے امریکہ کی علیحدگی کے بعد چین کی اہمیت میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ اپنے معاشی مفادات کی خاطر ایران اور یورپی ممالک اس جوہری معاہدے کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں، لیکن امریکہ اس پر آمادہ نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  فرانس کے 850سال پرانے چرچ میں آگ بھڑک اٹھی