Dr-Firdos-ashiq

گزشتہ حکومتیں ڈرتی تھیں موجودہ حکومت نے مدرسہ ریفارمز لاکر وہ کر دکھایاجو دوسرے نہ کرسکے: معاون خصوصی برائے اطلاعات

EjazNews

پاکستان تحریک انصاف کو اقتدارسنبھالے ایک سال مکمل ہوچکا ہے۔ اس ایک سال کی تکمیل پر معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’22سال انتھک محنت اور جدو جہد سے عمران خان کو تاریخی انتخابی اور عوامی کامیابی ملی، اس حکومت نے ایک سال میں محنت دیانت داری، اور درست سمت میں پالیسیز کا آغاز کیا اور ایسے بیج بوئے جن کا ثمر عوام کی ترقی و خوشحالی کی صورت میں سامنے آئے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ‘حکومت نے ایسی بنیادیں ڈالی ہیں کہ جس سے ہمیں پوری امید ہے کہ پاکستان کی بہتر معاشی پالیسی، قومی حقوق کا تحفظ اور گڈ گورننس کی عمارت تعمیر ہوگی۔ ‘عمران خان نے ایک سال میں ایسے پاکستان کی تشکیل دی جو حکمرانوں کا مفاد نہیں بلکہ کمزور پسے ہوئے مستحق نادار اور عام پاکستانی شہری کے حقوق کا نگہبان ہے۔ان کا کہنا تھافردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ‘عمران خان نے قائد اعظم کا سپاہی بن کر ایسے پاکستان کو بنانے کی جدو جہد کا آغاز کیا جس کی بنیاد ریاست مدینہ پر ہو، جہاں قانون کی بالادستی ہو، جہاں یکساں انصاف ہو، جہاں مساوات کا نظام ہو، جہاں کرپشن سے پاک معاشرہ ہو، جہاں برابر حقوق اور مواقع ہوں، میرٹ ہو، اور ان سب کے لیے ہر سرکاری ادارے میں اصلاحات لائی گئی ہیں۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان کا دنیا بھر میں ایک منفی چہرہ دکھایا جاتا تھا۔وزیر اعظم پاکستان نے دنیا کی سوچ بدلنے کے لیے نئی سیاحتی پالیسی تشکیل دینے کی ہدایت کی جس پر عمل کرتے ہوئے 175 ممالک کو آن لائن ویزا پالیسی دی گئی تاکہ پاکستان کا مثبت چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا جاسکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘منی لانڈرنگ اور اسمگلنگ کیخلاف حکومت نے ایسے اقدامات کیے ہیں جس کے ثمرات آنے والے وقت میں پاکستان کو نظر آئیں گے۔ اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سرحد پر سکیورٹی اقدامات بھی کیے ہیں۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان پوسٹل اور نیشنل ہائی وے اتھارٹی ہماری کامیابی ہیں۔ ‘حکومت کی پالیسیز کی وجہ سے پاکستان پوسٹل سروس خسارے سے نکل کر منافع کی جانب بڑھ رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘مواصلاتی نظام کے لیے بھی تحریک انصاف کی حکومت پالیسیاں لائی ہے۔ ‘حکومت نے ملک میں سفر کرنے والوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے روڈ سیفٹی پروگرام متعارف کرایا۔ ‘حکومت نے ایف بی آر میں ریفارمز کے ایجنڈے کو ایک تحریک کی شکل دے دی ہے اور عام پاکستانی کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔حکومت ایف بی آر کو مستحکم اور بااختیار بنائے گی۔
اپنی وزارت کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ میں دور حاضر کی ضرورت کے تحت سوشل میڈیا ونگ قائم کیا گیا ہے۔ ‘میڈیا کو درپیش چیلنج کے پیش نظر عبوری ویج بورڈ ایوارڈ لائے اور جلد ہی مستقل ویج بورڈ ایوارڈ بھی لائیں گے۔
ان کا کہنا تھا ‘وزیر اعظم میڈیا کے حق کو چھیننے، اسے دیوار سے لگانے کی بات نہیں کرتے اور اس ہی وجہ سے ہم میڈیا کی آزادی کے حق میں ہیں۔میڈیا اس معاشرے کی آنکھیں اور کان ہے، حکومت سے جہاں غلطیاں ہوتی ہیں اس کی میڈیا نشاندہی کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا حکومتی نمائندے، وزرا اور تمام کابینہ میڈیا ہی کے ذریعے عوام کو جوابدہ ہے۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے تقریب مین اعلان کیا کہ ‘اگلا ایک ہفتے تک روزانہ وزارتیں میڈیا کے آگے پیش ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ‘میڈیا نمائندے وزیروں کو بلا کر ان سے بات چیت کریں اور ان کے ایک سال کی کارکردگی کے حوالے سے سوالات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ‘وزیر اعظم نے پی ٹی وی کو خودمختار بنایا جس سے یہ ادارہ خسارے سے نکل کر منافع بخش ادارے میں تبدیل ہوگیا ہے۔
جبکہ ایسوسی ایٹڈ پریس پاکستان میں ویڈیو نیوز سروس کو دنیا بھر میں دیگر نیوز ایجنسی کی طرح مضبوط بنارہے ہیں تاکہ پاکستان کا اصل چہرہ دنیا کو دکھایا جاسکے۔ریڈیو پاکستان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ اس ادارے کو دور حاضر کے تقاضوں کے مطابق با اختیار اور پاکستانیوں کی آواز بنارہے ہیں۔جبکہ پی آئی ڈی نے نئی اشتہاری پالیسی لانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت آن لائن اشتہارات کا نظام متعارف کرائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور عوام پر گردشی قرضے کی صورت میں بوجھ کو ختم کرنے کے لیے جو اقدامات کیے گئے ہیں اس سے بہتری آئی ہے۔ ‘آئندہ سالوں میں یہ شعبہ بھی وزیر اعظم اور عوام کے سوچ کی عکاسی کرے گا۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا پاکستان میں گھروں کی کمی کو پورا کرنے اور بے گھر افراد کو بنیادی سہولت دینے کے لیے حکومت نے نئے پاکستان ہاؤسنگ سکیم متعارف کرائی ہے۔ اس ہاؤسنگ سکیم کے تحت کم آمدنی والے افراد انتہائی تھوڑی قیمت ادا کرکے اپنا بنیادہ حق حاصل کرسکیں گے۔
انہوں نے احساس پروگرام کے بارے میں بتایا کہ یہ پروگرام وزیر اعظم عمران خان کے دل کے قریب تر پروگرام ہے اور ان کے مطابق معاشرے میں اس وقت تک تبدیلی نہیں آسکتی جب تک وہاں رہنے والوں میں احساس کی جھلک نظر نہ آئے۔ اس پروگرام کیلئے حکومت نے بجٹ میں 152 ارب روپے رکھے ہیں۔ ‘عام شہری کی بنیادی ضروریات کے تمام شعبوں میں گزشتہ سال شروع کیے گئے پروگرام کو احساس پروگرام سے جوڑ دیا ہے جس میں انصاف صحت کارڈ، راشن کارڈ، سستے اور بغیر سود کے قرضے، انٹرن شپ پروگرام، خواتین کو با اختیار بنانے کا پروگرام شامل ہیں۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا ‘ملک کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں کی ہے اور اس ملک کی کامیابی ان ہی نوجوانوں کی کامیابی پر منحصر ہے۔ ‘حکومت نوجوانوں کے لیے کامیاب نوجوان پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے بتایا کہ وزارت خارجہ کی کامیاب سفارتکاری کی وجہ سے 5 دہائیوں میں پہلی مرتبہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کا اجلاس بلایا گیا۔ وزیر خارجہ کی کامیابی ہے کہ بھارت جس اجلاس کو ہمیشہ رکواتا تھا تاہم موجودہ حکومت کی سفارتکاری سے اس اجلاس کا انعقاد ممکن ہوا۔ گزشتہ حکومت کی جانب سے تشکیل دئیے گئے نیشنل ایکشن پلان میں مدرسوں کے حوالے سے ریفارمز شامل تھیں تاہم ایسا کرنے کی کسی حکومت نے جرأت و بہادری نہیں دکھائی تھی۔ گزشتہ حکومتیں ڈرتی تھیں موجودہ حکومت نے مدرسہ ریفارمز لاکر وہ کر دکھایا۔
فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کو جس انداز میں موجودہ حکومت نے اجاگر کیا اس کی مثال آپ کو ماضی میں نہیں ملتی۔جبکہ وزیر اعظم کے خطاب کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کا خطاب جس میں انہوں نے ایک سال کی کارکردگی بیان کرنی تھی کشمیر کے مسئلے کے لیے منسوخ کردیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  پاکستان میں انڈین گولی سے کوئی عورت بیوہ ہوتی ہے تو سہاگن انڈیا کی بھی کوئی عورت نہیں رہ سکتی