afghanistan-amrica

افغانستان میں خونریزی کی نئی لہر

EjazNews

افغانستان ایک بار پھر شدید خونریز ی حملوں کی لپیٹ میں ہے۔ جنوری کے آخری عشرے میں افغان دارالحکومت میں اوپر تلے چار خود کُش حملے ہوئے، جن میں200سے زائد افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ ان حملوں کی ذمداری افغان طالبان اور داعش دونوں نے قبول کی، جس کے بعداس سوال کا جواب بھی مزید پیچیدگی اختیار کر گیا کہ آیا یہ دونوں شدت پسند تنظیمیں افغانستان میں مل کر کارروائیاں کر رہی ہیں یا ان کے اہداف مختلف ہیں ؟کابل میں دہشت گردی جنگ جوئوں نے ’’ہارڈ‘‘ اور ’’سافٹ‘‘ دونوں ہی اہداف کو نشانہ بنایا اور افغان دارالحکومت میں واقع، انٹر کانٹی نینٹل ہوٹل پر حملے میں ایک سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے، جبکہ ملٹری اکیڈمی کے قریب واقع فوجی اڈے پر حملے میں 11افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
خیال رہے کہ نائن الیون کے بعد جب امریکہ نے افغانستان پر قبضہ کیا تھا، تو اس کی جنگی کارروائیوں کا محور القاعدہ تھی، لیکن اُسامہ بن لادن سمیت القاعدہ کے اہم کمانڈرز کی موت اور افغانستان سے فرار کے بعد اتحادی فوج نے اپنی جنگ کا رُخ طالبان کی جانب موڑ دیا اور افغان طالبان کے امیر، ملا عُمر کی موت کے بعد حقّانی نیٹ ورک امریکی حملوں کا ہدف بناہوا ہے اور یہی گروپ امریکہ اور پاکستان کے درمیان وجۂ تنازع بھی ہے۔ واشنگٹن کا مٔوقف ہے کہ حقّانی نیٹ ورک نے پاکستان میں پناہ حاصل کر رکھی ہے، جبکہ اسلام آباد اس دعوے کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے۔
سابق امریکی صدر، باراک اوباما نے یہ اعلان کیا تھا کہ دسمبر2014ء کے بعد نیٹو افواج افغانستان چھوڑ دیں گی، تو افغان طالبان کے حملوں میں کافی شدّت آگئی تھی اور تقریباً مُلک کے نصف حصے پر حکومت کی رٹ نظر نہیں آتی۔ اگرچہ کابل، جلال آباد، ہلمند اور قندوز میں کسی حد تک حکومت کی عمل داری قائم ہے، لیکن یہاں بھی وقتاً فوقتاً خود کُش حملے ہوتے رہتے ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوتا ہے اور اس وقت تو پورے افغانستان ہی پر خوف کی فضا طاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  سوشل میڈیا پر وائرل کارٹون نے شہرت تو دی دے لیکن نوکری چلی گئی

ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی و سفارتی سطح پر امریکہ کی افغان پالیسی کو بالکل ہی پلٹ دیا اور افغانستان میں امریکہ کی فتح کو اپنی حکمت عملی قرار دیا۔ یہاں دِلچسپ اَمر یہ ہے کہ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران افغان جنگ کو ایک فضول مشق قرار دیتے رہے۔ اس موقعے پر ان کا کہنا تھا کہ بیرونی جنگوں کے سبب امریکہ کا بے تحاشا سرمایہ ضائع ہوا۔ لہٰذا، بیش تر ناقدین کا خیال تھا کہ ٹرمپ کے دَورِ صدارت میں کابل سے مغربی افواج کی واپسی کے سلسلے میں تیزی آئے گی اور افغان جنگ اختتام کو پہنچے گی اور افغان طالبان بھی پورے افغانستان پر قبضے کے لیے تیار بیٹھے تھے، لیکن ٹرمپ نے توقعات کے برعکس اپنی افغان پالیسی میں طالبان پر حملوں میں تیزی اور افغانستان میں امریکہ کی جیت کو ہدف قرار دیا اور اسی حکمت عملی کے تحت ہی افغانستان میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ 2014ء سے امریکی افواج، افغان فوج کی تربیت اور رہنمائی کے علاوہ انہیں فضائی حملوں میں معاونت فراہم کررہی تھیں۔
کچھ ہی عرصہ پہلے افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے دفتر پر خودکش حملہ ہوا۔ اس کے بعد بھی کئی حملے ہوئے لیکن شادی کی تقریب میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا حملہ ہے جس میں 63افراد جاں بحق اور 100سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔
خودکش بم دھماکہ اس وقت پیش آیا جب شادی کی تقریب جاری تھی اور شادی ہال مہمانوں سے بھرا ہوا تھا جبکہ نشریاتی اداروں کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے جاری ایک بیان میں حملے میں ملوث ہونے کی تردید کردی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  چاہ بہار منصوبہ ، ایران نے بھارت کی چھٹی کر ادی