hajj2019

بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہونے کی فضیلت

EjazNews

بلا رشوت اور بلا تکلیف وہی کے داخل ہونا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ شریف میں داخل ہوئے تھے، لیکن دخول کی پریشانیو ں کو مدنظر رکھ کر فرمایا: نہ داخل ہوتا تو اچھا تھا مجھے اندیشہ ہے کہ میرے بعد میری اُمت کو تکلیف ہوگی۔ (ترمذی)
لیکن رشوت دے کر اور حاجیوں کو تکلیف دے کر داخل ہونا درست نہیں ہے جیسا کہ آج کل رواج ہے۔ ایضاح الحجہ میں ہے کہ عمر بن عبد العزیز جب کعبہ کے اندر جاتے تو ہ کہتے
ترجمہ: الٰہی تو نے اپنے گھر میں داخل ہونے والوں کیلئے امان کا وعدہ کیا ہے اور تو اپنے مہمانوں کی سب سے زیادہ عزت کرنے والا ہے، میرے لئے امان تو اس کو ٹھہرا کہ دنیا کی ہر قسم کی مصیبتوں اور جنت کے درے ہر قسم کی پریشانیوں سے تو میری کفایت کرتا کہ تیری مہربانی سے میں جنت میں داخل ہو جائوں۔
علامہ نوویؒ فرماتے ہیں کہ دعائے ماثورہ اس کی جگہ یہ ہے :
ترجمہ: خدایا میں تیری بھلائیوں کی امید لے کر بہت دور دراز سے آیا ہوں۔ تو مجھے اپنی بھلائیوں اور مہربانیاں اس قدر عنایت فرما جو تیرے سوا دوسروں کی مہربانی سے بے پرواہ کر دے۔ (افکار)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہوئے تھے تو بیت اللہ شریف کے دو ستونوں کے متصل دروازہ کے درمیان بیٹھ کر خدا کی حمدو ثناء استغفار پڑھی، پھر اٹھ کر اس پر سینہ، رخسار مبارک رکھ کر بہت دیر اللہ کی حمدو ثناء، تہلیل و تسبیح فرماتے رہے، پھر کعبہ کی طرف منہ کر کے دو رکعت نماز پڑھی، پھر بالکل باہر نکلے آئے۔ (بخاری)
طواف وداع:
وداع کے معنی رخصت کرنے کے ہیں حج کے بعد بیت اللہ شریف سے واپسی اور رخصت ہوتے وقت جو آخری طواف کیا جاتا ہے اس کو طواف صدور یا طواف و داع کہتے ہیں۔ یہ طواف آفاتی پر واجب ہے۔ مکی پر نہیں، اس طواف میں رمل اور اضطباع نہیں کیا جاتا اور نہ اس کے بعد سعی ہوتی ہے۔ طواف کے بعد طواف کی دو رکعت نماز مقام ابراہیم علیہ السلام کے پیچھے ادا کرو اور ملتزم پر آکر ملتزم سے چمٹ کر سینہ اور داہنے رخسارے کو اس سے لگا کر داہنا ہاتھ اوپر اٹھا کربیت اللہ کا پردہ پکڑ کر نہایت خشوع اور گریہ وزاری اخلاص و محبت سے خوب دعائیں کرو۔ یہ آخری اور چلنے چلانے کا وقت ہے جو مانگنا ہو مانگ لو۔ نہ جانے یہ سعات پھر نصیب ہو تی ہے یا نہیں۔ گریہ وزاری کر کے دلی ارمان کو نکال لو۔
پھر باب ابراہیم سے نکل کر بیت اللہ شریف سے رخصت ہو جائو۔
تنبیہ: بعض لوگ رخصت ہوتے وقت الٹے پائوں چلتے ہیں یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے خلاف ہے کسی نبی اور کسی صحابی اور کسی امام سے ایسا کرنا ثابت نہیں ہے جس طرح دیگر مساجد سے نماز وغیرہ کے بعد چلتے ہو اسی طرح خانہ کعبہ سے واپسی کے وقت چلو۔ بغیر طواف و داع کئے ہوئے بیت اللہ سے واپس ہونا جائز نہیں ہے۔ پہلے لوگ حج سے فراغت کے بعد ادھر ادھر جاتے تھے۔ طواف و داع نہیں کرتے تھے اس لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: کوئی شخص رخصتی طواف بیت اللہ کئے بغیر روانہ نہ ہو مگر حائضہ کے لئے اجازت ہے کہ وہ بغیر طواف کئے جاسکتی ہے۔ (بخاری)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورت کے لئے طواف و داع سے پہلے کوچ کر نے کی رخصت دی ہے جب کہ یوم النحر میں طواف افاضہ کر چکی ہو۔
اگر طواف وداع کر چکے ہو اور اس کے بعد کسی وجہ سے مکہ میں چند دن رہنے کا اتفاق ہو جائے تو چلنے کے وقت پھر دوبارہ طواف و داع کر لینا چاہئے۔ بغیر طواف وداع ادا کئے ہوئے اگر تم مکہ سے نکل گئے تو جب تک حرم میں ہو واپس آجائو اورطواف وداع کر کے واپس جائو۔
تبرکات:
آب زمزم کو تبرک سمجھ کر لے جانا سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمزم کا پانی مبارک ہے بھوکے کے لئے کھانا اور بیمار کے لئے شفا ہے۔ دُنیا کے سب پانیوں سے بہتر یہ پانی ہے ۔ فرمایا ’’دین و دنیا کی جس حاجت کیلئے پیا جائے وہ پوری ہو جاتی ہے۔ فرمایا روئے زمین کے سب پانیوں سے بہتر زمزم ہے۔ اس پانی کو تبرک سمجھ کر ساتھ لے جاتے تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
ترجمہ: کہ وہ خود بھی زمزم لاتی تھیں اور فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی لے جا تے تھے۔ (ترمذی)
لہٰذا آب زمزم کا لے جانا سنت ہے اور تسبیح ، رومال ، سرمہ وغیرہ تبرک اورسنت سمجھ کر لے جانا جائز نہیں ہے۔ البتہ ہدیہ تحفہ سمجھ کر لے جانے میں کوئی حرج نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  حاجی کی فضیلت