imran-khan

دنیا نے آر ایس ایس کے غنڈوں کے ہتھکنڈوں، نفرت اور نسل کشی کے نظریات کو نہ روکا تو یہ مزید بڑھ جائیں گے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان سوشل میڈیا پر مسئلہ کشمیر پر مسلسل اظہار خیال کر رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کتنی سنگین نوعیت کا ہے۔ وزیراعظم نے گزشتہ روز اور اس سے پہلے بھی اپنے سوشل میڈیا اکائونٹ سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا کہ دنیا کو ہوش کے ناخن لینے چاہیے یہ نہ ہودنیا مذاکرات مذاکرات کھیلتی رہے اور انتہا پسند ہندو کسی نئی عالمی جنگ کو چھیڑنے کا سبب بن جائیں ۔وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنمائوں سے بھی کشمیر کے مسئلے پر مسلسل روابط قائم کر رہے ہیں۔
وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جس طرح جرمنی پر نازیوں نے قبضہ کیا تھا بالکل اسی طرز پر بھارت پر ہندو برتری کی خواہشمند انتہا پسند اور نسل پرست نظریات سے قائل مودی حکومت قابض ہے۔ مودی حکومت نے 90 لاکھ کشمیریوں کو گزشتہ دو ہفتوں سے مقبوضہ کشمیر میں قید کر رکھا ہے جس نے پوری دنیا کیلئے خطرے کا الارم بجا دیا ہے ۔
انہوں نے اپنے سوشل اکائونٹ میں کہا ہے کہ ہندو برتری کی خواہشمند مودی حکومت نا صرف پاکستان بلکہ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں ،نہرو و گاندھی کے بھارت کے لیے بھی خطرہ بن گئی ہے، کوئی بھی گوگل پر جا کر با آسانی نازی نظریات اور بی جے پی، آر ایس ایس کے نسل کش نظریات کے درمیان مماثلت کو سمجھ سکتا ہے۔
وزیراعظم نے لکھا ہے کہ پہلے ہی 40 لاکھ بھارتی مسلمان حراستی کیمپوں میں قید یا شہریت کے خاتمے کا سامنا کر رہے ہیں۔دنیا کو اس معاملے کا نوٹس لینا چاہیے کیونکہ جن اب بوتل سے باہر نکل چکا ہے اور اگر بین الاقوامی برادری نے آر ایس ایس کے غنڈوں کے ہتھکنڈوں سے نفرت اور نسل کشی کے نظریات کو نہ روکا تو یہ مزید بڑھ جائیں گے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ دنیا کو بھارت کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے کیونکہ وہ فسطائی اور نسل پرست ہندو برتری کی خواہشمند مودی حکومت کے کنٹرول میں ہے۔یہ ایک ایسا معاملہ ہے جو نا صرف خطے بلکہ پوری دنیا پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
اگر آپ غورو فکر کریں تو وزیراعظم کی ہر بات سو فیصد حقیقت پر مبنی ہے کیونکہ آر ایس ایس نظریات صرف انڈیا ہی کی نہیں دشمن بلکہ دنیا کیلئے بھی خطرہ ہے۔ انڈیا میں بسنے والی اقلیتوں سے ان کی نفرت کا اندازہ سوشل میڈیا پر آر ایس ایس کے رہنمائوں کے بیانات سے کیا جاسکتاہے۔ ویسے تو آر ایس ایس کے لوگ انڈیا میں تمام اقلیتوں سے نفرت کرتے ہیں لیکن ان کا پہلا نشانہ مسلمان ہیں اس کے بعد عیسائی ، سکھ اور پھر شودر وغیرہ ہیں۔
مقبوضہ کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی زمین پر ان انتہا پسندوں نے پچھلے 14دنوں سے قیدی بنا کر رکھا ہوا ہے ۔مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ ہے ۔ نہ مریض ادویات لے سکتے ہیں ، نہ بیماروں کو ہسپتالوں تک جانے کی اجازت ہے۔ مسلسل 14دن سے مسلسل کرفیو لگانے سے مقبوضہ کشمیر میں خوراک کی بھی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کے دو معاون خصوصی مستعفی