Shah-mahamood

جب دماغ میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو 5اگست جیسا اقدام اٹھایا جاتا ہے : وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی

EjazNews

خصوصی کمیٹی برائے کشمیر کے پہلے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ آج اجلاس میں گزشتہ روز کے ایک بہت بڑے ایونٹ کا ذکر ہوا جس سے بھارت چونک گیا ہے۔ہم نے آج بھی یکجہتی کا پیغام دیا ہے اور اس میں تمام اراکین کا کردار سامنے آیا ہے۔انہوں نے سکیورٹی کونسل کے اجلاس کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 5 دہائیوں بعد اس معاملے کو اٹھایا گیا ۔ بھارت کی بھرپور کوشش کے بعد یہ پاکستان کی کامیابی ہے۔اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے اجلاس منعقد نہ ہونے کے لیے سر توڑ کوششیں کیں اور کیا کیاِ ہے وہ اس وقت بتانے کا وقت نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس کے دوران ہماری قانونی اور سفارتی حکمت عملی مرتب کرنے پر بات چیت ہوئی ہے جس میں تمام اراکین نے مفید مشورے دئیے ہیں۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ دنیا میں کشمیر کے مسئلے کے اجاگر کرنے کے لیے اہم دارالحکومتوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ پاکستان کے مختلف سفارتخانوں میں کشمیر ڈیسک کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ ان میں کشمیر سے متعلق ایک ترجمان بھی رکھا جائے گا۔جبکہ وزارت خارجہ میں کشمیر سیل کے قیام کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے جس سے متعلق وزیر خارجہ نے بتایا کہ یہ سیل کشمیر کے امور پر کڑی نظر رکھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہندوستان سے آوازیں آرہی ہیں کہ مودی نے نہرو کے بھارت کو دفن کردیا اور ایسا ہی بھارت دکھائی دے رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بھارت ڈوول ڈاکٹرائن پر عمل کر رہا ہے جس کے تین کردار ہیں جن میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوول ہیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب دماغ میں خرابی پیدا ہوتی ہے تو ایسا ہی اقدام اٹھایا جاتا ہے جو 5 اگست کو اٹھایا گیا اور جب کوئی سٹھیا جاتا ہے تو ایسا بیان دیا جاتا ہے جو بھارتی وزیر داخلہ نے دیا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کشمیر کی خصوصی حیثیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے اب بھارت میں بھی آوازیں بلند ہورہی ہیں جس کے حوالے سے پٹیشن دائر کی جارہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت پاکستان کے خلاف مس ایڈونچر کر سکتا ہے، تاہم قوم تیار رہے، ہم بھارت کو منہ توڑ جواب دیں گے۔پاک فوج قوم کی مدد سے بھارت کو منہ توڑ جواب دے گی۔
پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے کسی بھی طرح کا مس ایڈونچر کرنے کی کوشش کی تو قوم کی مدد سے پاک فوج منہ توڑ جواب دے گی۔ اس وقت کشمیر میں جو صورتحال ہے اس کا براہ راست تعلق پاکستان کی سکیورٹی سے بھی ہے اور اس حوالے سے بھارتی عسکری قیادت کے بیان بھی سامنے ہے، وہاں ہر گھر کے دروازے پر فوج کھڑی ہے اور انسانی حقوق کی پامالی کی جاری ہے۔بھارت کی جانب سے الزام عائد کیا جارہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں عسکری کارروائیاں پاکستان کی مدد سے کی جارہی ہیں، تاہم خدشات ہیں کہ بھارت پلوامہ جیسی کارروائی کرسکتا ہے جس کی بنیاد بنا کر وہ پاکستان کے خلاف مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ فوجی تعینات ہیں، ایسے میں اگر کوئی عسکری کارروائی ہوتی ہے تو وہ بھارتی سکیورٹی فورسز کی ناکامی ہوگی۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے بھارت مظالم اب دنیا کی نظر میں آچکے ہیں، ایسے میں اگر پاکستان کی سرزمین سے پلوامہ جیسی کارروائی ہوتی ہے تو یہ پاکستان اور کشمیر کے ساتھ غداری ہوگی۔پاکستان ایسے حملوں کا متحمل نہیں ہوسکتا، تاہم پاکستان ایسے پروپیگنڈے کو مسترد کرتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی جانب سے عسکری کارروائیاں کی جارہی ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اس وقت اپنی مغربی سرحد پر امن کی تکمیل کے لیے پرعزم ہے اور وہاں ہماری توجہ مرکوز ہے، آپ کو اعتماد ہونا چاہیے کہ ہمارا ہمیشہ خطرہ مشرقی سرحد سے ہوتا ہے اور یہیں دیکھا ہے اور اگر یہاں کوئی مرحلہ آیا تو ہم یہاں بھی موجود ہوں گے اور چپے چپے کی حفاظت کریں گے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مشرقی سرحد سے نمٹنے کے لیے مسلح افواج کے پاس صلاحیت موجود ہے جس کا نمونہ قوم نے 27 فروری کو دیکھا، تاہم اگر وہ ہمیں پھر بھی آزمانا چاہتے ہیں تو انہیں خوش آمدید کہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  73سال کی تاریخ میں کسی منتخب وزیراعظم کو آئینی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی، ہر آمر نے ملک میں اوسطاً 9 سال غیرآئینی طور پر حکومت کی:میاں نواز شریف