imran-khan

مقبوضہ کشمیر کے تنازعہ کا حل یقینی بنانا سلامتی کونسل کی ذمہ داری ہے :وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر اپنے ایک ٹویٹ بیان میں کہا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے اہم مسئلے پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ہونے والی میٹنگ کا خیر مقدم کرتاہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ 50سال میں پہلی مرتبہ اس مسئلے پر اس اہم فورم میں بات چیت ہوئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے لکھا ہے کہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے دوبارہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ کس قدر تکلیف میں ہیں اور یہ پوری دنیا کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کو یقینی بنائے۔
وزیراعظم عمران خان نے جب سے اقتدار سنبھالا ہے ۔ انہوں نے ہر فور م پر کشمیریوں کی آواز اٹھائی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو ہر جگہ انہوں نے اجاگر کیا ہے۔ اور اس وقت جب مقبوضہ کشمیر پر بھارتی متشدد حکومت قبضہ کرنے کی ناپاک کوشش کر رہی ہے اس وقت بھی بطور وزیراعظم عمران خان اپنی بھرپور کوششیں کر رہے ہیں ۔
دوسری جانب انڈیا پر اس وقت ایک ایسی حکومت کا قبضہ ہے جو اپنی مسلمان اور اسلام دشمنی کے لیے مشہور ہے جس کا خیال ہے کہ مسلمانوں نے ان پر ہزاروں سال حکومت کی ہے ۔ اب انڈیا میں جو مسلمان ہیں ان کو یہاں سے نکل جانا چاہیے۔ یہ تشدد پن کا ایسا ذہنی کیڑا ہے کہ جس دماغ میں یہ گھس جاتا ہے وہ تباہی ہی لاتا ہے اور دنیا پہلے بھی یہ دیکھ چکی ہے۔ اب 1.5ارب سے زائد انسانوں کی جانب مودی نے خطرے میں ڈال ہے اور اس پر تشدد حکومت کی کسی بھی بیوقوفی کے نتیجے میں خدانخواستہ کوئی بڑا حادثہ رونما ہو سکتا ہے جس سے صرف پاکستان اور انڈیا ہی متاثر نہیں ہوں گے ہمسایہ ممالک بھی اس میں شامل ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔
وزیراعظم عمران خان نے امن و امان قائم کرنے کیلئے پہلے بھی بہت کوششیں کی ہیں۔ پاکستان ائیر فورس نے سرحدی خلاف ورزی کرنے پر انڈین طیارے کو مار گرایا تھا جس کا پائلٹ پاکستانیوں سے مار کھاتے ہوئے بھاگ رہا تھا اور پاکستانی فوجیوں نے اس کی جان بچائی اور امن و امان برقرار رکھنے کیلئے خیر سگالی کے جذبہ کے تحت انہیں پائلٹ واپس کر دیا ۔ لیکن اس پرتشدد حکومت نے اس اچھائی کا خیر مقدم کرنے کی بجائے مار کھاتے ہوئے اپنے فوجی کو ہیرو بنا لیا اور پاکستان کیخلاف پھر سے زہر اگلنے شروع ہو گئے۔
پاکستان ائیر فورس کے ہاتھوں ذلالت کے بعد اس کے بعد اس پر تشدد حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر دی جس کے بعد پوری دنیا میں پھیلے پاکستانیوں اور کشمیریوں پر تو جیسے سکتہ طاری ہو گیا اور ہر طرف سے رد عمل آنا شروع ہو گیا۔
لاکھوں کشمیری اپنوں کی خیریت دریافت کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ وہاں کرفیو لگا ہوا ہے۔ نہ فون چل رہے ہیں ، نہ انٹرنیٹ اور نہ ہی کوئی اور ذرائع رابطے کے۔ مریض ادویات کے بغیر سسک رہے ہیں۔ بچے بلک رہے ہیں ، اس ساری صورتحال پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا اجلاس اپنے تئی اہمیت کا حامل ہے جنہوں نے اس مسئلے کی طرف پوری دنیا کی توجہ مبذول کروائی۔
وزیراعظم عمران خان ٹھیک کہہ رہے ہیں کہ اگر آر ایس ایس کی سوچ کو یہی پر نہ روکا گیا تو نہ جانے یہ لوگ اور کون کون سے بے وقوفیاں کر بیٹھیں جس سے کروڑوں انسانوں کی جان خطرے میں آجائے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمیں عدالت کے دروازے بھی کھٹکٹانے پڑے اور اب جا کر صدر کو ہسپتال منتقل کیا گیا: بلاول