ماں کا دودھ ولادت کے بعد ابتدائی چھ ماہ تک دفاعی ٹانک کا کام انجام دیتا ہے

EjazNews

ماں کا دودھ بچے کے لیے دراصل حفاظتی ٹیکہ ہے۔ ولادت کے بعد نومولود جب جراثیم اور عفونوں سے بھری ہوئی اس دنیا میں آتا ہے تو ان حالات میں بچے کے لیے نہایت مضبوط دفاع ماں کی چھاتی ہے۔ ولادت کے بعد دو تین دن تک ماں کی چھاتیوں سے نکلنے والے دودھ یا کھیس (کولسٹرم) کا رنگ زردی مائل ہوتا ہے اور یہ دودھ کی بہ نسبت گاڑھا ہو تا ہے۔ اگرچہ اس کی مقدار قلیل ہوتی ہے مگر یہ بچے کے لیے بہ کفایت ہے۔ اس کھیس میں دودھ کی نسبت زیادہ ضد اجسام (اینٹی باڈیز) اور سفید جسیمات خون (وائٹ بلڈ سیل ہوتے ہیں اور یہ بچے کے لیے پہلا حفاظتی ٹیکہ بن جاتے ہیں، جس کی وجہ سے بچہ بیکٹیریا اور وائرس وغیرہ سے محفوظ رہتا ہے۔
کھیس میں نشوونما کو فروغ دینے والے عوامل بھی ہوتے ہیں، جن سے بچے کی آنتوں کی نشوونما ہوتی ہے اور ان عوامل کے زیر اثر آنتیں دودھ کو باآسانی ہضم اور جذب کر سکتی ہیں، جبکہ غیر ہضم شدہ حیات جذب نہیں ہوتے۔ گائے کا دودھ یا دیگر غذائیں اس عمر میں آنتوں کو ضرر پہنچاتی ہیں اور الرجی کاباعث ہوتی ہیں۔ کھیس بچے کے لیے ملین بھی ہے ،جس کی وجہ سے بچے بعض غیر ضروری اجزاءاجابت میں خارج کر دیتا ہے اور اس طرح یہ یرقان سے محفوظ رہتا ہے۔
بچے کے لیے ماں کا دودھ عفونت کے خلاف دفاع ہے۔ ماں کا دودھ نہایت صاف اور جراثیم سے پاک ہوتا ہے جو بچوں کو بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔ اس میں دافع عفونت اجزا شامل ہوتے ہیں مثلا ”سفید جسیمات خون جو بیکٹیریا کو ہلاک کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ضد اجسام ہوتی ہیں جو بچے کی اس وقت تک حفاظت کرتی ہیں جب تک بچہ اپنے ضد اجسام خود بنانا شروع نہیں کر لیتا۔ ماں کے دودھ کے اثر سے آنتوں میں مضر بیکٹیریا پیدا نہیں ہوتے اوراس طرح کے اسہال کی بیماری میں مبتلا نہیں ہوتے۔ ماں کا دودھ پینے والے بچوں کو سانس اور کان کی بیماریاں بھی کم ہوتی ہیں کیونکہ اس دودھ سے الرجی نہیں ہوتی جو دوسرا دودھ بکری، گائے، بھینس وغیرہ پینے سے ہوتی ہے۔ ماں کا دودھ پینے والے کے دو تین سال کی عمر تک کم بیمار پڑتے ہیں اور امراض سے جلد شفا بھی پاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اپنا دودھ پلانے والی ماو¿ں کی صحت بھی درست رہتی ہے۔ بچے کی ولادت کے فورا بعد اپنا دودھ پلانے والی ماو¿ں کے آنول کا اخراج بآسانی ہوتا ہے اور جریان خون کم ہو جاتا ہے۔ دودھ پلانے سے ماں کی شکل معمول کے مطابق ہو جاتی
ہے اور چھاتی کے سرطان کا خطرہ کم ہو جاتا ہے جبکہ بیضہ دانی کے سرطان سے بھی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ اپنا دودھ پانے والی خواتین کے ہاں آئندہ ہونے والے بچوں کی ولادت میں وقفہ بڑھ جاتا ہے۔ حمل کو روکنے کے لیے اپنا دودھ پلانا نہایت اہم طریقہ ہے، بشرطیکہ دودھ بار بار پلایا جائے۔ چھ ماہ کی عمر تک جب ماں اپنا دودھ پلاتی ہے حمل نہیںٹھہرتا۔ جب بچہ چھ ماہ کی عمر کے بعد دیگر غذائیں کھانا شروع کرتا ہے تو ماں کے لیے مزید ولادت کا امکان بڑھتا ہے چنانچہ جب بچے کو دیگر غذائیں دی جائیں تو ضبط ولادت کے لیے مانع حمل طریقے اختیار کیے جائیں۔
ماں کا دودھ بچوں کی زندگی بچاتا ہے جو بچے ولادت کے بعد ابتدائی چھ ماہ کے دوران ماں کا دودھ نہیں پیتے ان میں موت کا امکان دس سے پندرہ گنا بڑھ جاتا ہے اور علالت روز مرہ کا معمول بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ لاپرواہ مائیں بچوں کی بوتلوں کی صفائی بھی صحیح طرح نہیں کرتیں ،اس طرح بوتل سے بھی بچوں کو عفونت لگتی جاتی ہے۔ ماں کا دودھ بچے کے لیے ایک نعمت ہے۔ ماں کا دودھ بچے کے لیے ہر وقت دستیاب ہوتا ہے جس کے لیے کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی اور نہ ہی ماں کو بوتل صاف کرنے کی درد سری برداشت کرنا پڑتی ہے۔ ماں کا دودھ خواہ کتنی دیر تک نہ پلایا جائے یہ خراب بھی نہیں ہوتا۔ اپنا دودھ پلانا ایک ارزان طریقہ بھی ہے۔
ماں کا دودھ بچوں کے لیے ایک مکمل غذا ہے، جس میں تمام ضروری اجزا اور مغذیات شامل ہوتے ہیں مثلا”لحمیات، چکنائی، شکر، نمک، کیلشیم اور فاسفیٹ وغیرہ۔ لیکٹوز جو نوزائیدہ بچوں کی اہم ضرورت ہے ماں کے دودھ میں زیادہ ہوتا ہے۔ ماں کے دودھ میں بہ کفایت حیاتین ہوتے ہیں چنانچہ بچوں کو اضافی حیاتین دینے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ ماں کے دودھ میں موجود فولاد بچوں کی آنتوں میں بخوبی جذب ہو جاتا ہے۔ اس لیے ماں کا دودھ پینے والے کے قلت خون کے مرض میں بھی مبتلا نہیں ہوتے۔ ماں کے دودھ میں بہ کفایت پانی موجود ہوتا ہے جو گرم و خشک آب و ہوا میں بھی بچوں کی ضرورت آب پوری کرتا ہے۔ ماں کے دودھ میں ایک مخصوص خمیر ہوتا ہے جو چکنائی کو ہضم کرنے میں معاون ہے۔
ماں کا دودھ پینے والے بچے اور اپنا دودھ پلانے والی مائیں دونوں فربہی سے بھی نسبتاً محفوظ رہتے ہیں اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض سے جزوی تحفظ بھی حاصل ہو تا ہے۔ ان بچوں کو آئندہ عارضہ رگ دل ذیا بطیس اور بلند فشار خون کا احتمال کم ہوتا ہے کیونکہ ماں کے دودھ میں نمک بھی برائے نام ہو تا ہے۔
ماں کا دودھ پینے سے ماں اور بچے میں ربط و تعلق بڑھتا ہے، باہمی محبت پیدا ہوتی ہے ولادت کے فوراً بعد کی ساعتیں اس تعلق کے قائم اور استوار کرنے میں نہایت اہم ہیں ماں اور بچہ ایک دوسرے پر اپنی خوشبو احساسات اورعکس مرتسم کرتے ہیں، جن کے اثرات تا زندگی رہتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے باقی رہنے والا مضبوط تعلق اور قربت قائم ہو جاتی ہے۔ ولادت کے وقت بچے کو ماں کے قریب لانے سے صحت افزا تعلق کی بنیاد پڑتی ہے اس وقت بچے کی فطری جبلت اپنی حفاظت اور پرورش کے لیے بھی عروج پر ہوتی ہے۔ ماں کے دودھ کے علاوہ کوئی دوسرا دودھ پینے والے بچوں کو کبھی بھی یہ قربت حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ بے جان بوتل کا دودھ تعلق نہیں، بلکہ دوری پیدا کرتا ہے۔
اپنا دودھ پلانا ایک ارزاں طریقہ بھی ہے۔ مائیں بغیر کچھ خرچ کیے اپنا دودھ پلا سکتی ہیں۔ اس کے برعکس ڈبے کا دودھ نہایت گراں ہے اور اکثر لوگوں کی استطاعت سے باہر ہے۔ غریب ممالک کو بکثرت زرمبادلہ خرچ کر کے یہ دودھ در آمد کرنا ہوتا ہے۔ ماں کے علاوہ کوئی دوسرا دودھ پلانے سے ملک، عوام، معاشرہ ،ہسپتالوں اور افراد پر بارگراں آ پڑتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس کی ضرب وسائل پر پڑتی ہے۔ بیمار ہونے والے بچوں کے امراض اور ان کے علاج کی گرانباری مزید زحمت بن جاتی ہے۔
جدید تحقیق کی روشنی میں بچوں کو ماں کا دودھ پلانے کے متعدد فوائد سامنے آئے ہیں اور یہ بے مثال فوائد روز بروز مزید آشکار ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ ایک قدرتی طریقہ بھی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان معلومات سے وسیع پیانہ پر ماو¿ں کو آگاہ کیا جائے، خصوصاً ولادت سے قبل اس بات کے لیے ذہنی طور پر تیار رہے کہ اس کا دودھ بچے کے لیے بے حد ضروری ہے، بالخصوص ابتدائی چھ ماہ کے دوران بچوں کو ماں کے دودھ کے علاوہ کسی اور شے کی ضرورت نہیں۔ اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ ماں کا دودھ پلانے کے رواج کو از سرنو فروغ دیا جائے۔ یہ ماو¿ں اور بچوں دونوں کے لیے نہایت مفید ہو گا۔
ڈاکٹر سید اسلم

یہ بھی پڑھیں:  ماہواری کے نظام میں مشکلات کے باعث پیچیدگیاں