Nusrat Fata Ali Khan

ایسا لگتا ہے نصرت فتح علی خان آج بھی زندہ ہیں

EjazNews

انڈیا کے جالندھر شہر سے ہجرت کر کے لائل پورہ موجودہ فیصل آباد آنے والے فتح علی خان کے ہاں 13اکتوبر 1948ء کو گائیک گھرانے میں پیدا ہونے والے نصر ت فتح علی کے نام سے کون واقف نہیں ہے ۔انہوں نے قوالی کے حوالے سے پاکستان کا نام پوری دنیا میں روشن کیا۔ نصرت فتح علی خان جیسے فنکار صدیوں میں پیداہوتے ہیں۔ان کی کیسٹ اور سی ڈیز موجود ہیں ۔لیکن جنہوں نے لائیور پرفارمنس دیکھی ہوئی ہے وہ نصرت فتح علی خان کے بارے میں کہتے ہیں کہ ان جیسا گلوکار نہ انہوں نے پہلے دیکھا اور نہ شاید بعد میں دیکھ پائیں۔ انہوں نے پوری رات محفل میں گلوکاری کی، مجال ہے تھکاوٹ یا نقاہت ان کے عصاب پر چھائی ہو۔ وہ تن تنہا ہزاروں کے مجمع کو سحر زدہ کردیتےتھے۔اتنے بڑےگلوکار تھے کہ گھنٹوں قوالی کرتے ہوئے گیتوں کے دریا بہا دیتے۔
آج قوال تو بہت نظر آتے ہیں،لیکن نصرت فتح علی خان نظر نہیں آتے۔ نصرت فتح علی خان نے روایتی کلاسیکی و نیم کلاسیکی موسیقی میں نمایاں خدمات سرانجام دیں۔ پاکستان کی گلیاں کوچے آج بھی 22سال بعد ان کی قوالیوں سے اسی طرح گونج رہی ہیں جس طرح 22سال پہلے تھیں۔ نصرت فتح علی خان کے والد استاد فتح علی خان اور تایا استاد مبارک علی خان نے بھی اپنے زمانے میں بڑی شہرت پائی تھی۔ فتح علی خان اور استاد مبارک علی خان نے دربار لسوڑی شاہ جھنگ بازار میں قوالیوں سے بڑی شہرت پائی تھی اور پاکستان کے تمام بڑے فنکاروں نے بھی یہاں اپنے فن کا مظاہرہ کیا۔
ان کے انتقال کے بعد ہی قوالی اور صوفی ازم کا یہ فن کسی نئے نصرت فتح علی خان کی تلاش میں ہے۔ مشہور گائیک راحت فتح علی خان ، نصرت فتح علی کے بھتیجے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  نئی پاکستان فلم ”لال کبوتر “کا ٹریلر ریلز کر دیا گیا