v

مریض خود کو صحت مند رکھ سکتے ہیں

EjazNews

جو معالج اپنے رویہ سے مریضوں میں اعتماد پیدا کر دیتے ہیں کہ وہ انھیں صحت مند اور تندرست رکھنے میں مخلص ہیں ،اس عمل سے مریضوں کو شفایابی میں اعانت ملتی ہے اور دست شفا کی بنیاد بھی ہے، جس کے لیے بعض اطبا ماضی میں خاصے مشہور رہے ہیں۔ مریضوں کا اعتماد بحال کرنے میں مریضوں سے روابط قائم کیے جائیں اور مریضوں کے حال و احوال سے واقفیت پیدا کی جائے۔ جب مریض اپنی مشکلات کا ذکر کریں تو معالج بھی اپنی ان دشواریوں کی طرف اشارہ کر سکتا ہے جن سے وہ اپنی زندگی میں نبرد آزما رہا ہے۔
ذہنی امراض میں مبتلا کسی مریض کے ذہن میں یہ خلل سما سکتا ہے کہ لوگ اس کے دشمن ہیں۔ مریض کی یہ بات تسلیم کر لیں کہ لوگ اس کے دشمن ہو سکتے ہیں، مگر اس کے باوجود لوگوں کے رویہ کو تسلیم کیا جا سکتا ہے اور ان سے صحیح تعلقات بنائے اور نبھائے جا سکتے ہیں۔ ان مریضوں سے اس بات پر گفتگو کی جائے کہ آدمی کو آبرومندانہ اور معقول زندگی گزارنے کے لیے کیا کرنا چاہیے اور لوگ کیوں کسی کی عزت کرتے ہیں یا اسے پسند کرتے ہیں۔
مدرسہ میں پڑھنے والا ایک لڑکا جو سب سے الگ تھلگ رہتا ہے، اسے یہ شکایت ہے کہ لوگ اس سے بات چیت نہیں کرتے۔ غالباً وہ اسے پسند بھی نہیں کرتے لیکن اصل بات یہ ہے کہ وہ بھی کسی سے بات نہیں کرتا۔ وہ اس انتظار میں رہتا ہے کہ کوئی اور اس سے بات کرے۔ دراصل اس لڑکے میں اندرونی خوف موجود ہے کہ اگر وہ بات کرے گا تو نہ جانے اس کے ساتھ دوسروں کا کیا رویہ ہو گا۔ ممکن ہے اس نے کبھی بات کرنے کی کوشش بھی کی ہو اور اسے مناسب جواب نہ ملا ہو۔ ایسابعض اوقات ہو سکتا ہے اور ہوتا بھی ہے۔ اس لڑکے کو اپنے اطراف موجود افراد سے میل جول رکھنے کے لیے سلام کرنے سے ابتدا کرنی چاہیے اور باہمی طور پر بھی اشاروں اور کنایوں سے اجنبیت دور کرنی چاہیے۔ جب لوگ اس کے سلام کا جواب دینے لگیں گے تو اجنبیت ختم ہونے لگے گی۔ اس کے علاوہ کسی موقعے پر ایک دوسرے کی مدد بھی کرنا چاہیے۔ اگر بات چیت کا موقع ملے تو ایسی باتیں کی جائیں جو باہمی دلچسپی کی ہوں جس سے ایک روز کی دل آزاری کی بدلے حوصلہ افزائی ہو۔ تحائف وغیرہ سے تعلقات فروغ پاتے ہیں۔
ورزش سے کشیدہ افراد کی کشیدگی اور تناو¿ کم ہوتا ہے کیونکہ اس طرح دبے ہوئے جذبات کو اخراج کا موقع مل جاتا ہے اور تازہ توانائی آ جاتی ہے، جس سے مسائل کو سلجھانے میں آسانی رہتی ہے۔ جب ورزش کی عادت پڑ جائے تو یہ انھیں منشیات وغیرہ سے بھی محفوظ رکھے گی۔ ورزش نہ صرف جسمانی صحت کے لیے مفید ہے بلکہ ذہنی صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ اس کے بے شمار فوائد ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اگر لوگ پابندی سے ورزش کریں،صحیح غذائیں استعمال کریں اور لوگوں سے دشمنی و عداوت پیدا کرنے والا لڑیچر نہ پڑھیں اور ایسی فلمیں بھی نہ دیکھیں ،ایسے لوگوں کی محبت میں وقت گزارنے سے گریز کریں جن لوگوں کو آپ پسند نہیں کرتے۔ بہرحال ان سے دشمنی اور عداوت نہ رکھیں کیونکہ یہ لوگ ہمدردی کے مستحق ہیں اور ان کو صحیح راستہ پر لانے کے لیے دعا کریں۔ جب کسی فرد میں اس طرح کے صالح و صحیح جذبات پیدا ہو جائیں تو نہایت سکون و طمانیت حاصل ہوتی ہے۔
انسان کو ماضی کی بھول بھلیوں میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ ماضی سے سبق لے کر آگے بڑھنا چاہیے۔ اگر مریض سے طویل گفتگو کا اطمینان سے موقع مل سکے تو شخصیت کی شکنیں صاف کرنے میں مدد ملتی ہے، جب معالی اپنی زندگی کی دشواریوں کی طرف اشارہ کرتا ہے اور ان کی اصلاح کے طریقے بتلاتا ہے تو اس کی مریض سے مزید قربت پیدا ہوتی ہے۔ مریض اگر معا لج سے ٹیلی فون پر رابطہ رکھیں تو انھیں تناو¿ کی کیفیت میں حوصلہ ملتا ہے۔ یہ سوچنا چاہیے کہ غلطی کہاں ہوئی ہے۔ اس سے سبق لے کر خود کو تبدیل کرنا چاہیے اور یہ سوچنا چاہیے کہ اہل خانہ اورعزیز و اقارب احباب اور اپنے افسران سے کس طرح تعلقات اچھے رکھے جائیں۔
دراصل ان مریضوں کو مریض نہیں بلکہ طالب علم سمجھنا چاہیے ، جنھیں آپ کچھ سکھا رہے ہیں، آپ ان کے مسائل حل نہیں کرتے بلکہ انھیں خود یہ شعور اور علم دیتے ہیں کہ وہ اپنے مسائل خود حل کریں۔ انھیں طبیب پر انصار نہ کرنے دیں بلکہ یہ خود اپنے اوپر انحصار کرنا سیکھیں۔ بعض اوقات ذیا بیطس، قلت خون اور دیگر عوارض بھی ذہنی امراض کا موجب بن سکتے ہیں۔ بعض افراد جسمانی امراض میں مبتلا ہونے سے بھی ذہنی تناو¿ کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جبکہ بعض دفعہ کرب کی وجہ سے بھی جسمانی تکالیف پیدا ہو سکتی ہیں۔ اور ان مریضوں کی غیر صحت مندانہ عادتوں میں بھی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ بعض اوقات اچھی طرح نیند نہیں آتی تو اپنے جذبات پر قابو پانا دشوار ہو سکتا ہے۔ ایک مریض کا کہنا ہے کہ وہ جس روز پوری نیند نہیں لیتا اس روز اسے ڈر محسوس ہونے لگتا ہے کہ خدا خیر کرے کہیں آج کسی سے مڈبھیڑ نہ ہو جائے۔ بیشتر لوگ ورزش نہیں کرتے اور تھکے تھکے رہتے ہیں۔ کچھ لوگ غیر ہاضم شدہ چیزیں کھا کر اپنا ہاضمہ خراب کر لیتے ہیں، زیادہ شکر کا استعمال کرنے والے ویسے بھی چڑچڑے مزاج کے حامل ہوتے ہیں لہٰذا ان سب عادتوں میں اصلاح کی ضرورت ہوتی ہے۔
ذہنی صحت کے حصول کے لیے آدمی کو اپنے تخریبی جذبات پر قابو رکھنا ضروری ہے۔ دراصل ان کے ذہن میں میں اقدار کا تصور قائم ہونا چاہیے کہ اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے، اس موقع پر مذہب کی رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ معاشرے کے لوگوںکو عزیز و احباب اور اہل خانہ کے ساتھ ہمارا رویہ ہمدردانہ اور انسانی ہو۔ اگر یہ رہنمائی حاصل نہیں ہو گی تو افراد پر برے جذبات حاوی ہو جائیں گے۔ صرف انسانوں کو یہ قدرت حاصل ہے کہ وہ اپنے جذبات کو اپنے خیالات کے تابع کر سکتے ہیں اور یہ صرف مذہبی رہنمائی سے ہی ممکن ہے۔ جب آدمی پر ہیزی غذائیں کھاتا ہے تو وہ ایک لحاظ سے اپنی خواہشوں کو قربان کرتا ہے جو درحقیقت ضبط و نظم کی عادت کا اثر ہوتا ہے۔ جب لوگ اس قدر پستی میں گر جائیں جہاں وہ اپنی حیوانی خصلت کے آگے سپر ڈال دیں اور اپنی ارذل خواہشوں کی فرمانبرداری کرتے رہیں تو وہ ایک طرح سے ایسے حیوان کی زندگی گزار رہے ہیں، جس نے غلامی کا طوق پہنا ہوا ہے اور یہ انداز نہایت شدید بیماری یا مجرمانہ عادات و اطوار میں شمار ہوتے ہیں۔ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ میں انسانی اور روحانی اقدار پر دوبارہ ایمان لایا جائے کیونکہ زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ یہی ہے۔
انسان کو حقیقت پسند بھی ہونا چاہیے۔ بہت سے لوگ جس طرح زندگی گزار رہے ہیں وہ انھیں خود بھی پسند نہیں اور وہ اس طرح جینا بھی نہیں چاہتے۔ ہر وقت پریشان رہتے ہیں اور موت کی آرزو کرتے رہتے ہیں۔ اس میں شک نہیں کہ یہ بے رحم دنیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ہر شے میں ایک خدا داد امید کی کرن بھی موجود ہے جس کی توقع کرنا، جسے تلاش کرنا اور جس کو دیکھنا ازحد ضروری ہے۔ یہ دنیا عالم امکان ہے۔ یہاں ہر بات ممکن ہے مگر ہمیشہ امید اچھی رکھنا چا ہے۔ اس دنیا میں سامنے آنے والے تنازعات اور آویزشوں میں حقائق اور توقعات دونوں موجود ہیں آدمی کو کبھی کبھی اس مایوسی و حرماں نصیبی اور ناامیدی کے حصار سے بھی نکلنا چاہیے جس میں اس نے خود کو اسیر کر لیا ہے اور ان لوگوں کو بھی پیش نظر رکھنا چاہیے جو اس سے کمتر حالت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ اس لیے اپنی حالت اور قدرت کی طرف سے عطا کردہ انعامات پر شکر ادا کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر سید اسلم

یہ بھی پڑھیں:  6بہترین غذائیں معدے کیلئے
کیٹاگری میں : صحت