Muhammad Sheeraz

پاکستان میں انڈین گولی سے کوئی عورت بیوہ ہوتی ہے تو سہاگن انڈیا کی بھی کوئی عورت نہیں رہ سکتی

EjazNews

بھارت کا یوم آزادی پوری دنیا میں پھیلے ہوئے پاکستانیوں اور کشمیریوں نے بطور یوم سیاہ منایا ۔ یہ کشمیریوں سے پاکستانیوں کی محبت کا اظہار تھا اور انڈیا کے کشمیر کیخلاف اٹھائے گئے اقدام پر رد عمل بھی تھا۔ لیکن یہ بات سرحدوں پر کھڑے انڈین فوجیوں سے شاید برداشت نہ ہوئی یا پھر ٹینشن کا ماحول پیدا کر نا مقصود تھا۔انڈین فوج نے پاکستانی چوکیوں پر گولہ باری شرو ع کر دی جس کے نتیجے میں پاکستانی فوج کے 3جوان شہید ہو گئے ۔ نائک تنویر، لانس نائیک تیمور اور سپاہی رمضان شہادت کے درجے پر فائز ہو ئے۔
اب انڈیا کے معاملے میں ہم پاکستانی نہایت سنجیدہ ہیںاور خاص کر معاملہ فوج کا آئے تو پھر ایل او سی پر اگراینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیا جائے تو سامنے والے کی نہ توپیں خاموش ہوتی ہیں اور نہ ہی ان کو سبق ملتا ہے۔ پاکستانی جوانوں نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں انڈیا کے بھی متعدد فوجی ہلاک ہوئے۔
اب یہ معاملہ رکا نہیں انڈیا کی جانب سے پھر ایک مرتبہ ایل او سی کی خلاف ورزی کی گئی ، ترجمان پاک فوج کے مطابق بھارت نے ایل او سی کے بٹل سیکٹر پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں سپاہی محمد شیراز اللہ شہید ہوئے۔
اب جواب اس کا بھی ملے گا یہ کیسے ہوسکتا ہے ،جواب نہ ملے ۔ کیونکہ ایک محلہ میں کوئی معمولی بدمعاش ہو اور اس کو آئینہ نہ دکھایا جائے تو اس کا حوصلہ بڑھتا ہی جاتا ہے۔ اس لیے جواب تو ہر صورت جانا ہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ویانا کنونشن میں بھی لکھا ہے کہ جنگ میں ہسپتالوں پر حملہ نہیں کرتے:عدالت عالیہ
شہداء کی فائل فوٹو

وزیر اعظم عمران خان نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی اور شہید ہونے والے پاک فوج کے جوانوں کے درجات کی بلندی کی دعا کی۔
دفترخارجہ کے مطابق بھارتی فوج کنٹرول لائن اور ورکنگ باو¿نڈری پر مسلسل شہری آبادی کو نشانہ بنارہی ہے، بھارت مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کررہا ہے۔دفترخارجہ نے خبردار کیا کہ بھارت کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی خطے کیلئے خطرہ ہے، بھارت جنگ بندی معاہدے کا احترام کرے۔
آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی تشدد سے شروع ہو کر تشدد سے ہی ختم ہوتی ہے اور اس کا بڑا محرک انڈین فوج میں بھی پایا جاتا ہے۔ جہاں پر رنگ ، نسل اور مذہب کا بڑا امتیاز ہے۔ مسلمانوں کو فوج میں بھرتے کرنے سے گریز کیا جاتا ہے اور اگر کوئی بھرتی ہو جائے تو اسے اعلیٰ عہدہ دینے سے حتیٰ الامکان کوشش بھی کی جاتی ہے۔ کانگریس کے دور حکومت میں انڈین فوج میں یہ گنتی بھی کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ آیا فوج میں مسلمان ہیں بھی یا نہیں اور اگر ہیں تو کتنے ہیں۔
اگر اس پرتشدد سوچ ہٹلر ازم کی سوچ کو یہی پر نہ روکا گیا تو یہ پوری دنیا کی تباہی کا سبب بن سکتی ہے۔ اس وقت بھارتی مذہبی انتہا پسندوں کے نرغے میں ہیں ۔جہاں پر نہ مذہب کی آزادی ہے، نہ بولنے کی آزادی ہے۔
یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ اگرپاکستان میں انڈین گولی سے کوئی عورت بیوہ ہوتی ہے تو سہاگن انڈیا کی بھی کوئی عورت نہیں رہ سکتی۔اس لیے آر ایس ایس کو یہی پر روکنا ہوگا ورنہ یہ انڈیا کو تو تباہ کر ہی رہے ہیں ساتھ ساتھ یہ پوری دنیا کے امن کیلئے بھی خطرناک ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  پی ڈی ایم کالاہور میں پاور شو شروع