hajj

طواف زیارت کے مسائل

EjazNews

دسویں تاریخ کو جو طواف کیا جاتا ہے اس کو طواف افاضہ اور طواف زیا رت کہتے ہیں یہ طواف فرض اورحج کے رکنوں میں سے ایک رکن ہے۔ بغیر اس کے حج پورا نہیں ہوتا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔
ترجمہ: اور بیت اللہ کا طواف کرو ۔ (الحج)
باتفاق آئمہ اس سے طواف افاضہ مراد ہے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے دسویں تاریخ کو طواف کیا۔ صفیہ کو حیض آگیا آپ نے ان سے ملنے کا ارادہ فرمایا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ان کو حیض آگیا ہے۔ آپ نے فرمایا ”احابستنا“ وہ ہم کو روکیں گی۔ بغیر طواف ادا کئے نہیں جا سکتی۔ عرض کیا حضرت وہ دسویں تاریخ کو طواف افاضہ کر چکی ہیں۔ آپ نے فرمایا پھر چلو۔ (بخاری) ۔ طواف کے لئے بہترین وقت یوم النحر، رمی نحر اور حلق کے بعد ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر میں طواف افاضہ کیا تھا۔ (ابوداﺅد)۔ طواف افاضہ کی وہی ترکیب ہے جو طواف قدوم کی ہے۔ البتہ طواف زیارت کی نیت ضروری ہے اور اس میں رمل اور اضطباع بھی نہیں ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طواف افاضہ میں رمل نہیں کیا تھا۔ (المغنی)
اس تاریخ کو طواف زیارت مسنون ہے لیکن اگر کسی عذر سے اس دن نہ کر سکو تو ایام تشریق میں کر لو۔ (نیل الاوطار)۔
طواف زیارت کے صحیح ہونے کے لئے یہ چیزیں ضروری اور شرط ہیں۔
(۱) اسلام ، مسلمان ہونا ، کافر کا طواف زیارت صحیح نہیں (۲) بے عقل مجنون پر نہیں (۳) احرام یعنی اس طواف سے پہلے حج کا احرام باندھا۔ بلا احرام کے طواف صحیح نہیں ہوگا۔ (۴) اور اس سے پہلے وقوف عرفہ کا ہونا اگر وقوف عرفہ نہیں ہوا تو یہ طواف صحیح نہیں ہوگا۔ (۵) طواف کی نیت (۶) طواف کا وقت اور زمانہ اور مکان کا ہونا ، یعنی خاص کر بیت اللہ کا طواف کرنا۔ دوسری جگہ کا طواف معتبر نہیںاور خود ہی طواف کرنا (۷) سات پھیر ے کرنا (۸) داہنی جانب سے شروع کرنا (۹) حدث سے پاک وصاف ہو کر طواف کرنا۔ جنابت اور بے وضو طواف کرنا درست نہیں (۰۱) ستر عورت یعنی لباس پہن کر شرمگاہ کو پوشیدہ کر کے طواف کرنا، برہنیہ طواف صحیح نہیں۔ یوم النحر میں طواف کرنا، طواف زیارت کے بعد سب چیزیں حلال ہو جاتی ہیں، جو احرام کی وجہ سے حرام ہو گئی تھیں۔ اگر عورت حیض کی وجہ سے یوم النحر میں طواف زیارت نہ کر سکے تو پاک ہو جانے کے بعد کر لے۔
طواف زیارت کر کے پھر منیٰ واپس جاﺅ
طواف زیارت کے بعد منیٰ واپس چلے جاﺅ، ظہر کی نماز مکہ میں نہیں پڑھی ہے تو منیٰ میں جا کر پڑھو۔ حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم النحر میں طواف افاضہ کیا پھر مکہ شریف سے منیٰ واپس تشریف لے گئے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا فرمائی۔ (مسلم)
یوم النحر کے بعد منیٰ میں تین رات تک شب باشی کرنا ضرور ی ہے۔ بلا عذر خاص مکہ مکرمہ میں رات بسر کرنی ضروری نہیں ہے، حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ میں رات گزارنے کی کسی کو اجازت نہیں دی ، سوائے حضرت عباس کے کہ وہ حاجیوں کوزمزم سے پانی کھینچ کر پلائے۔
دسویں تاریخ کے ترتیب وار کام
یوم النحر میں عرفات سے واپسی کے بعد منیٰ میں پہلے رمی اس کے بعد قربانی، اس کے بعد حجامت اس کے بعد مکہ میں طواف افاضہ، پھر سا کے بعد منیٰ میں رات گزارنی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اسی ترتیب سے ادا فرمایا ہے۔ (ابو داﺅد)۔
ہر کام ترتیب وار سنت کے مطابق کرنا چاہئے۔لیکن اگر بے خبری میں ان کاموں کو ترتیب وار ادا نہ کر سکو تو کوئی گناہ و حرج نہیں ہے۔ (مسلم ، دار قطنی)۔
اور حدیث کی کتابوں میں ہے ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عرض کرتا ہے اللہ کے رسول رمی سے پہلے میں نے حجامت کرالی ہے۔ آپ نے فرمایا رمی کر ڈالو اس میں کوئی حرج نہیں پھر دوسرا شخص آکر کہتا ہے۔ رمی سے پہلے میں نے طواف افاضہ کرلیا ہے آپ نے فرمایا رمی کر ڈالو کوئی گناہ نہیں ہے۔ بخاری شریف میں حضرت ابن عباس فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے :
ترجمہ: منیٰ میں یوم النحر میں قربانی اور حجامت اور رمی اور تقدیم و تاخیر کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا: کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ (بخاری)
چونکہ یوم النحر میں حج کے مناسک زیادہ ادا کئے جاتے ہیں اس لئے اس دن کو حج اکبر کہتے ہیں (بخاری)۔ یعنی احرام باندھ کر بیت اللہ شریف جانا اوربیت اللہ سے منیٰ ۔ منیٰ سے عرفات عرفات سے مزدلفہ۔ مزدلفہ سے منیٰ اور منیٰ میں رمی ، نحر، حلق اور مکہ میں طواف افاضہ اور منیٰ میں راتیں گزارنی ، بس ان سب کا نام حج اکبر ہے اور عمرہ حج اصغر کہلاتا ہے۔ عوام الناس میں جو یہ مشہو ہے کہ جمعہ کے دن حج ہونے سے حج اکبر ہوتا ہے یہ غلط بات ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی اہمیت