kashmir + manchister

مقبوضہ کشمیر ماضی سے حال تک

EjazNews

پوری دنیا میں جہاں جہاں پاکستانی موجود ہیں وہ اپنے کشمیری بھائیوں کےساتھ اظہار یکجہتی کیلئے یوم سیاہ منارہے ہیں۔ بھارت کی تمام تر کوششوں کے باوجود کہ کشمیریوں کی آزادی اور خودارادیت کی اس تحریک کا چہرہ مسخ کرکے اسے طرح طرح کے نام اور الزام دیئے گئے اور اس مذموم کوشش کو ایک پالیسی کے طور پر اپنایا گیا کہ مسئلہ کشمیر بین الاقوامی تناظر سے ہٹ کر علاقائی اور دو طرفہ سطح پر آجائے اور اس کے لیے مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی جبروتشدد کے ساتھ ساتھ ترغیبات سے یہ کوششیں کی گئیں، ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی کہ تحریک آزادی کی سرگوشی بھی نہ سنی جاسکے لیکن سلام ہے اُن ماؤں کے سپوتوں کو جنہوں نے بھارتی فوجیوں کی گولیوں سے شہید ہوتے ہوئے بھی آخری سانس تک کشمیر کی آزادی کا نعرہ لگایا ۔ معصوم بچیوں نے اپنے چہروں پر بیلٹ گنوں کے چھروں سے آزادی کی تحریک کے نقوش ثبت کرلیے اور بھارت پر ثابت کردیا کہ اس قوم کو ہمیشہ کے لیے اپنا غلام بنا کر نہیں رکھا جاسکتا۔
یوم سیاہ کے دن کو بھرپور طریقے سے کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا گیا۔ گزشتہ 70برس میں بھارت کے تمام مظالم کا مقابلہ کرتے ہوئے اس تحریک کا جاری رہنا معجزہ ہے، وہیں پاکستان میں متعددحکومتیں تبدیل ہونے کے باوجود تحریک آزادیٔ کشمیر کو کامیاب بنانے کے لیے پاکستان کی قومی پالیسی جاری و ساری ہے۔لیکن اس معجزے کا اعجاز اور محرک بنیادی طور پر مقبوضہ کشمیر میں آزادی کے متوالے ہیں اور تمام تر کریڈٹ اُنہی کو ہی جاتا ہے ، پاکستان کا کردار محض سفارتی اور اخلاقی ہمدردی کا ہے۔ حکومتوں کی کارکردگی کے حوالے سے گلہ شکوہ ہونے کے باوجود یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پاکستان کی کوششوں ہی سے OIC میں حریت کانفرنس کو مبصر کا درجہ حاصل ہوا اوردیگر بین الاقوامی اور بین الاسلامی اداروں میں مسئلہ کشمیر ایک فلیش پوائنٹ کی حیثیت سے اجاگر تو ہوا،لیکن اقوام متحدہ سمیت ان اداروں کی نتیجہ خیز پیش رفت کیلئے وہ کردار ادا نہیں کیا گیا جو صورتحال کے متقاضی ہے۔
موجودہ حکومت پر مختلف حوالے سے تنقید برائے اصلاح کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو روایتی ڈگر سے ہٹانے کے لیے بھی قابل ذکر کردار ادا کیا ہے اور اس ضمن میں کشمیر پالیسی بھی سرفہرست ہے۔کرتارپور راہداری ، افغان طالبان اور امریکہ کو براہ راست مذاکرات کی میز پر لانا اس سلسلے کی دو اہم مثالیں ہیں اب ایک ایسے مرحلے میں جب مقبوضہ کشمیر میں بھارتی تسلط سے نجات پانے کی تحریک اپنے آخری مراحل میں داخل ہوچکی ہے اور شہداء کی قربانیاں نتیجہ خیز ثمرات کے نزدیک پہنچ چکی ہیں مقبوضہ کشمیر کے معصوم، مظلوم اور بے گناہ کشمیریوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کی روک تھام اُن پر حق خود ارادیت مانگنے کی پاداش میں ظلم و استبدار روکنے کے لیے بھی بعض بولڈ فیصلے کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:  غصہ، زندگی کا دشمن

جہاں تک وزیر خارجہ کے کردار کا تعلق ہے تو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے وزیر خارجہ نے لگی بندھی پالیسی اور بیانات سے ہٹ کر بہت اچھے اقدامات اٹھائے۔ مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے والے مرد،عورتیں ، بچے اور بوڑھے اور ہر طبقے کے لوگوں پر کیے جانے والے مظالم کو اُجاگر کیا گیا ۔
اگر ہم ماضی میں دیکھیں تو تقسیم ہند کے وقت وائسرائے ہند لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے کہا تھا کہ تقسیم ہند میں کسی ریاست کے ساتھ زیادتی نہیں کی جائے گی۔ اگر کسی ریاست کی بھارت یا پاکستان میں شمولیت پر تنازعہ پیدا ہوا تو وہاں کے عوام سے رائے لی جائے گی ۔ جو فیصلہ عوام کریں گے وہی قابل قبول ہوگا۔ لہٰذا ریاست جموں و کشمیر کے بارے میں کہا گیا کہ برٹش گورنمنٹ کی خواہش ہے کہ ریاست کیخلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے انخلا کے بعد حالات معمول پر آنے پر عوام کی رائے عامہ لی جائے گی او ر اس کی بنیاد پر الحاق کا فیصلہ ہوگا۔ سات دھائیوں کےبعد بھی کشمیریوں کو اپنا حق رائے دہی استعمال کرنے نہیں دیا گیا۔ کیا یہ برٹش گورنمنٹ کا فرض نہیں بنتا تھا کہ اپنے ہی وضع کردہ قانون کوریاست جموں و کشمیر میں لاگو کرے جبکہ تقسیم ہند کے وقت برطانوی وائسرائے ہی بھارت کا حکمران تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بد ل گئی ہے اور ایشیا

کشمیر پر غاصبانہ قبضہ جاری رکھنے کیلئے 1947 میںآزادی ہند کے وقت مہاراجہ کشمیر اور بھارتی حکمرانوں نے ناپاک گٹھ جوڑ کر لیا اور بھارت نے اپنی فوجیں کشمیر میں داخل کر کے اسکے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ تاہم کشمیریوں کی بھر پور جدو جہد کے نتیجے میں جب کشمیر آزاد ہونے کے قریب تھا تو بھارت نے اقوام متحدہ میں کشمیرکا مسئلہ اٹھایا۔ اقوام متحدہ نے تنارعہ کشمیر کے حل کے لئے دو قراردادیں منظور کیں۔ جن میں نہ صرف کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا بلکہ یہ طے ہوا کہ کشمیریوں کو اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کیلئے رائے شماری کا موقع فراہم کیا جائیگا۔ بھارت کے پہلے وزیر اعظم جواہر لعل نہرو نے یہ وعدہ کیا کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو استصواب رائے فراہم کریں گے لیکن اس کے بعد بھارتی حکمرانوں نے کشمیریوں کو نہ صرف حق خود ارادیت دینے سے انکار کر دیا بلکہ یہ راگ الاپنا شروع کر دیا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔حالانکہ مسلم اکثریتی ریاست ہونے کی وجہ سے ساری ریاست کشمیر کو پاکستان میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ کشمیری لیڈروں کا بھارتی حکومت کے ساتھ جائز مطالبہ ہے کہ وہ 1947 میں اپنے لیڈروں کی طرف سے کشمیری عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنائے۔

یہ بھی پڑھیں:  مراد رسولﷺ، خلیفہ دوئم سیدنا حضرت عمر فاروقؓ