security councal

مسئلہ کشمیر پر16اگست کو سلامتی کونسل کا اجلاس طلب

EjazNews

بھارت کی جانب سے 5 اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کیے جانے اور مقبوضہ وادی میں کرفیو کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورت حال پر پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے کے لیے خط لکھا تھا۔یہ خط اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے سلامتی کونسل کی صدر جوانا رونیکا کو پہنچایا تھا جس کے بعد اب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر اجلاس طلب کر لیا ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدر جوانا رونیکا نے کہا ہے کہ قوی امکان ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں بند دروازے کے پیچھے 16 اگست کو زیر بحث آئے۔ بھارت نے سلامتی کونسل کا اجلاس رکوانے کی بہت کوشش کی ۔
50 سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ سلامتی کونسل کشمیر کے معاملے پر اجلاس منعقد کر رہی ہے جو عالمی سطح پر بھارت کی بڑی شکست ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد مظاہروں کی شدت مزید بڑھ گئی
اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی، سکیورٹی کونسل کی صدر کو وزیر خارجہ کا خط دیتے ہوئے

اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی صدر جوانا رونیکا کا کہنا ہے کہ 16 اگست کو یو این ایس سی کے اجلاس میں جموں و کشمیر کی صورتحال پر بات ہوگی۔پاکستان کے دوست چین نے بھی ایک بھارتی اقدام پر بات کرنے کے لیے سکیورٹی کونسل کو لکھے گئے پاکستانی خط کی حمایت کی تھی۔جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسئلے پر سکیورٹی کونسل کا اجلاس منعقد ہونا پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آخری مرتبہ یہ معاملہ سال 1971 میں زیر بحث آیا تھا لیکن 4 دہائیوں بعد اس فورم پر اس کا دوبارہ زیر بحث لایا جانا بڑی کامیابی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ سرسری طور پر 1998 میں بھی اس وقت اٹھایا گیا تھا جب پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تھے۔ عالمی برادری کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ کشمیر کا معاملہ دو ممالک کے مابین ایک زمین کے ٹکڑے کا نہیں بلکہ انسانیت کا معاملہ ہے۔
مقبوضہ وادی میں گزشتہ 12 روز سے کرفیو نافذ ہے جس کے باعث کشمیری عوام کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ بیماربغیر دوائوں کے سسک رہے ہیں اور بچے دودھ کو ترس رہے ہیں۔
پاکستان میں کشمیری عوام سے یکجہتی کے لیے ملک گیر مظاہرے کیے جارہے ہیں جبکہ پاکستانی کشمیری بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے اس دن کو بطور یوم سیاہ منا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے دشمن ہمیں زیر نہیں کر سکتے: صدر ایردوان