worldwar1

پہلی جنگ عظیم 5اہم ایجادات کا ذریعہ بھی بنی تھی

EjazNews

پہلی جنگ عظیم میں لاکھوں جانیں ضائع ہوئیں، نیست و نابود اورملک تباہ ہو گئے۔ شہر کے شہر کھنڈرات میں بدل گئے اور انسان بنیادی ضرورتو ں کوترستا رہا۔ ایسے گنہونے ماحول میں بعض مبصرین نے پہلی جنگ عظیم کی بعض خوبیوں کا سراغ لگا لیا ہے۔ زندگی اورموت کی صورتحال میں سائنسدانوں نے گھڑی بھی ایجاد کی اور روشنی کے دل بھی۔
6 اپریل 1917 کو امریکہ دوسری جنگ عظیم کے خوفناک میدان میں کودا۔ سوئیں سالگرہ مناتے ہوئے امریکہ نے پہلی جنگ عظیم کے بہت سے فوائد گنوائے۔ اور امریکہ کی شمولیت کو ٹیکنالوجی کے ارتقاءسے تعبیر کیا۔ کینسٹاس سٹی کے نیشنل ورلڈ وار ون میوزیم میں یہ امریکی تخلیقات آج بھی محفوظ ہیں۔
روئی :
جنگ عظیم کے دوران کمپنیوں نے زخمیوں کی جانیں بچانے کے لیے ”ابتدائی روئی“تیارکی یہ لکڑی کے گودے سے تیار کی گئی۔ روئی خون کے بہاﺅ کو روکنے کے لیے استعمال کی گئی۔ امریکی سرجن جنرل نے اس نئے میٹریل کو زخمیوں کی مرہم پٹیوں سے علاج کرنے کی اجازت دے دی۔ 1914 میں دوملازمین نے مشینوں کے ذریعے سے آج کل کی روئی سے ملتی جلتی چیز تیار کی۔ اب یہی روئی زخمی انسانیت کی مرہم پٹی کے لیے بنیادی جزو کی حیثیت رکھتی ہے۔ روئی کے بغیر ہسپتالوں کا تصور بھی نہیں کیا جاتا۔ پہلی جنگ عظیم کے دورا ن ہی اس قسم کی روئی فٹوں کے حساب سے تیار ہوتی تھی اور ایک دن میں ایک کمپنی 380سے پانچ سو فٹ تک فیلوکاٹن فی منٹ بنا لیتی تھی۔ ریڈ کراس نرسوں نے بھی اسی میٹریل کو استعمال کیا۔
کلائی کی گھڑیاں:
اس زمانے میں جیبوں میں رکھنے والی گھڑیاں تو تیار ہوتی تھیں مگر کلائی کی گھڑیوں کا کوئی تصور نہ تھا۔ دوران جنگ پوزیشنیں چینج کرنے کے دوران گھڑیاں گم ہو جاتیں اور وقت کا پتہ نہ چلتا۔ پرانے زمانے میں گھڑیوں کو دولت بھی سمجھا جاتا تھا اوراسی لیے یہ گھڑیاں خواتین کے زیور کا حصہ تھیں۔ لیکن جنگ عظیم کے دوران اسے ذرا بڑے سائز کی ایسی گھڑیوں کی ضرورت محسوس کی گئی جو جسم کے ساتھ بندھی رہیں اور گم نہ ہو ں، ایسی گھڑیوں کی ضرورت بھی محسوس کی گئی جس کاوقت رات کو دیکھا جاسکے۔ رات کو چمکنے والے میٹریل سے لیفن ہندسوں والی گھڑیوں کو تیارکیا۔ ان گھڑیوں میں نمبروں کوریڈیم جیسے طابقاری مادے سے لکھاگیا جورات کے اندھیرے میں چمکتا ہے۔ اس طرح حملے کا وقت طے کرنے کے بعد فورسز کو مشترکہ حملہ کرنے میں آسانی پیدا ہوئی۔
sawdust سوفیجیس
برطانیہ نے جرمن فوجوں کا معاصرہ کر رکھاتھا اور فوجی سازو سامان کی نقل حملے ختم کر دینے سے ہر چیزکی قلت پیدا ہو گئی تھی۔ چنانچہ فوجیوں نے اخباروں کو ڈائی کر کے کپڑے تیار کرنے شروع کیے۔ sawdustسے ڈبل روٹی تیار کی۔ cartکارٹ نامی محقق نے بھی جنگ عظیم اول میں اس قسم کے کپڑوں اور ڈبل روٹی کے استعما ل کی تصدیق کی ہے۔ کالون کے میئر کالوراٹ جو دوسری جنگ عظیم کے بعد چانسلر جرمنی منتخب ہوئے انہوں نے سبزیوں سے سوفش ایجاد کی۔ انہوں نے آٹے کالڈ اور جو وغیرہ سے ایک سو فش تیار کی جسے جرمن زبان میں kolner wurst کہا جاتا ہے۔ اس کا مطلب کولون سوفیج ہے۔ جنگ عظیم کے بعد تو اسے زیادہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی لیکن اب امریکہ میں کوئی خوراک اس کے بغیر ہلک سے نہیں اترتی۔
پلاسٹک سرجری:
جنگ عظیم اول کو پلاسٹک سرجری کی ما ں سمجھا جاتا ہے۔ روزانہ کبھی سینکڑوں اور کبھی ہزاروں زخمی افراد ہسپتالوںمیں لائے جارہے تھے۔ ان کا علاج معالجہ آسان نہ تھا۔کسی کے کان نہ تھے توکسی کی آنکھیں ضائع ہو چکی تھیں۔ کسی کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی تھی تو کسی کے بازو زخمی تھے۔ ایسے میں طبی ماہرین نے ان زخمیوں کے علاج کے لیے انتہائی محنت کی۔ انہیں نئی زندگی ، نئی شکل و صورت اورنیا جسم دینے کے لیے جوکام کیے آگے چل کر وہی پلاسٹک سرجر ی کی بنیاد بنی۔
مصنوعی اعضائ
علاج معالجے کے دوران ڈاکٹروں نے مصنوعی آنکھ ، مصنوعی کان، مصنوعی ناک اور مصنوعی جبڑہ سازی پر بھی توجہ دی۔ انہوں نے اپنے آپ کو صرف ماسکو ںکی تیاری تک محدود نہ رکھا۔ ان ڈاکٹروں میں ہینڈری بیکن اور ہیرلڈ بیس نے بہت شہرت حاصل کی۔ کوئینز میری ہسپتال کے یہ دونوں ڈاکٹر برطانیہ اور نیوزی لینڈ سے آنے والے زخمیوں کا علاج کررہے تھے۔ ڈاکٹر گلیس نے ہی زخمیوں کے اپنے ٹشوﺅں کو ان کے علاج میں استعمال کرنے کا تصور پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی دوسرے کے ٹشو شاید ان کاجسم قبول نہ کرے لیکن ان کے اپنے ٹشوز نارمل ٹشوﺅں کی طرح فروغ پاسکتے ہیں اس سلسلے میں انہوں نے 1920ءمیں ایک کتاب بھی لکھی جس کا عنوان تھا پلاسٹک سرجری آف دی فیس۔

یہ بھی پڑھیں:  کیا واقعی دل شمسی توانائی سے چلے گا؟