zil hajj

ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کی اہمیت

EjazNews

وادی محسر سے کنکریا اُٹھاتے چلو

مزدلفہ اور منیٰ کے درمیان راستہ میں ایک محسر نامی میدان آتا ہے جس کا طول پانچ سو پینتالیس گز ہے، یہاں بجری کی قسم کا موٹا موٹا ریتا ہے اس کا بھورا بھورا میلا سا رنگ ہے، یہاں سے چنے کے دانہ کے برابر ستر کنکریاں اٹھالو گر جانے کے خوف سے اگر کچھ زیادہ بھی اٹھا لو تو کوئی حرج نہیں ہے، اس جگہ سے بہت جلدی چلے جاﺅ یہ خطرناک مقام ہے۔ ابرہہ ظالم بادشاہ کو جو بیت اللہ کے گرانے کے ارادے سے آرہا تھا، خدا کے قسم سے چیوں نے چونچ میں کنکریاں لے کر سا پر اور اس کے لشکر پر پھینک پھینک کر اسی جگہ خاتمہ کر دیا تھا جیسا کہ پورا واقعہ قرآن مجید کے سورئہ فیل میں بیان ہوا ہے۔
وادی محسر سے تھوڑا سا آگے ایک کشادہ میدان ہے، یہاں سے متفرق راستے ہیں۔ تم بیچ کے راستہ سے لبیک پکارتے اور اللہ اکبر کہتے ہوئے سیدھے جمرئہ عقبہ پر آﺅ جو سب سے آخر بیت اللہ کی طرف ایک منارہ ہے۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
ترجمہ، وادی محسر میں سواری کو تیز کر دیا تھا اور سب کو ٹھیکری کے برابر پھینکنے کا حکم دیا تھا۔(ترمذی)
اورا گر پیدل چل رہے ہو تو اس میدان سے تیزی سے گزر جاﺅ، زاد المعاد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم طریق وسطیٰ بیچ کے راستے سے منیٰ تشریف لائے اور جمرئہ عقبیٰ کی رمی کی۔
ذی الحجہ کی دسویں تاریخ
ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو مزدلفہ سے منیٰ میں پہنچ کر رمی ذبح حلق کر کے مکہ مکرمہ جا کر طواف افاضہ کرو۔
رمی جمار:
رمی کے معنی کنکری پھینکنے کے ہیں۔ حمار اور جمرات جمرہ کی جمع ہے ۔ جمرہ کنکری کو کہتے ہیں۔چونکہ جمرئہ عقبی وسطی اولیٰ پر کنکریاں ماری جاتی ہیں اس لئے مجاز ان کو جمرات یا جمار کہتے ہیں۔ منیٰ کے بیچ کے راستہ میں یہ تین جگہ ہیں، ان پر پتھر کے تین ستون بقد آدم اونچے بنے ہوئے ہیں۔ ان تینوں کو جمرات یا جمار کہتے ہیں اور الگ الگ ہر ایک کو جمرہ بولتے ہیں ان میں مکہ مکرمہ کی طرف ہے اس کو جمرة العقبہ اور جمرة الکبری اور جمرة الاخری کہتے ہیں اور بیچ والے کو جمرة الوسطیٰ کہتے ہیں اور تیسرے کو جو مسجد خیف کے قریب ہے جمرة الاولیٰ کہتے ہیں ان جمرات پر کنکری پھینکنے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام مناسک ادا کرنے کے لئے تشریف لائے تو جمرة الاخری کے پاس شیطان نظرآیا ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس کو سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ آپ آگے بڑھے تو جمرة الوسطیٰ کے پاس شیطان پھرنظر آیا وہاں بھی آپ نے اس کو سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا پھر آپ آگے چلے تو جمرة الاولیٰ کے پاس شیطان پھر نظرآیا تو آپ نے پھر اسے سات کنکریاں ماریں یہاں تک کہ وہ زمین میں دھنس گیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا: شیطان کو مارتے رہو اور اپنے باپ ابراہیم علیہ السلام کے دین پرچلتے رہو۔ (صحیح ابن خزیمہ)
بعض کے نزدیک یہ رمی واجب ہے اور مالکیہ کے نزدیک رمی جمرہ عقبہ حج کے رکنوں میں سے ایک رکن ببطل الحج بترکہ (نیل الاوطار) اس کے چھوڑنے سے حج باطل ہوجائے گا۔
دسویں تاریخ کو صرف جمرہ اخریٰ کی رمی ہوتی ہے اورجمرئہ وسطیٰ اورجمرئہ اولیٰ کی نہیں ہوتی۔ منیٰ میں بقر عید کی نماز نہیں پڑھی جاتی ہے۔ جمرئہ عقبیٰ کی رمی کرنا عید کی دو رکعت نماز کے قائم مقام سمجھو۔ کنکری مارنے کا قت دس ذی الحجہ کو طلوع آفتاب کے بعد سے زوال آفتاب تک ہے مجبوراً زوال کے بعد بھی جائز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضحیٰ کے وقت یہ کنکریاں ماری تھیں۔
حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دسویں ذی الحجہ کو جمرئہ عقبہ پر ضحی کے وقت کنکریاں ماری تھیں بعد کی تاریخوں میں زوال آفتاب کے بعد۔ (بخاری)
اور قریش کے لڑکوں سے فرمایا تھا ’لا ترمو احتی تطلع الشمس (ترمذی)۔ طلوع آفتاب کے بعد کنکریاں مارنا۔ عورتیں طلوع فجرسے پہلے مار سکتی ہیں جیساکہ ام سلمہ ؓ نے کیا تھا۔ (ابوداﺅد)۔ اور رمی جمرہ عقبہ کے وقت لبیک موقوف کردو اور عقبہ کی رمی سوار ہو کر کرنا افضل ہے بشرطیکہ کسی کو تکلیف نہ ہو۔ دوسرے جمرات کی رمی پیدل کرو تو اچھا ہے اور دائیں ہاتھ سے رمی کرو۔ بائیں ہاتھ سے خلاف سنت ہے اور رمی کے وقت ہاتھ اتنا اونچا کرو کہ بغل کھل جائے اور بغل کی سفیدی نظر آنے لگے۔ حضرت ابن مسعود ؓ جب جمرئہ عقبہ پر پہنچے تو بیت اللہ کو بائیں جانب اور منیٰ کو دائیں طرف کیا اور سات کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے ہیں جاتے تھے۔ پھر فرمایا:
ترجمہ: اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمی کی ہے۔ جن پر سوئرہ بقرہ کا نزول ہوا ہے۔ (بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ تک لبیک کہتے رہے۔ (بخاری)
کنکریوں کے مارنے کا طریقہ:
جمرئہ عقبہ کے پاس پہنچ کر لبیک پکارنی چھوڑ دو، اس کے سامنے کے نیچی جگہ کھڑے ہو۔ بیت اللہ کو بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں جانب کرو۔ انگوٹھے کے ناخن پر کنکری رکھ کر شہادت کی انگلی سے سات کنکریاں الگ الگ خوب تاک تاک کر جمرئہ عقبہ پر مارو اگر یہ مشکل ہو تو انگوٹھے اور انگلی سے پکڑ کر مارو پہلی کنکری پر لبیک موقوف کر دو ہر کنکری کے ہمراہ مارنے سے پہلے یہ دعا پڑھو:
ترجمہ: اللہ کے نام پر کنکری مارتا ہوں اللہ بہت بڑا ہے، شیطان ذلیل ہو خدارا ضی ہو جائے اے اللہ حج کو قبول فرما اورگناہوں کو معاف فرما اورکوشش کی قدر دانی فرما۔
تنبیہ، جمرئہ عقبہ کوپہاڑی پر سے یا اس کو داہنی طرف کر کے بڑے بڑے پتھروں یا جوتوں سے یاوہیں کی کنکریوں سے مارنا سنت کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  افضل حج، حج بدل،حج اور عمرہ کی نذر