Quadi-a-azam

پاکستان قائم ہوا

EjazNews

7اگست 1947ءکو قائداعظم کراچی روانہ ہوئ۔ وہ سفید شیروانی پہنے ہوئے تھے، ان کی سب سے چھوٹی بہن فاطمہ جناح اور بعض وہ لوگ جو سرکاری حیثیت سے ان کے عملے میں شریک ہو گئے تھے ساتھ تھے۔ یہ طیارے کا سفر چار گھنٹے میں ختم ہو گیا۔
کراچی اس شان سے قائداعظم کے استقبال کے لئے تیارتھا کہ بحر عرب کے ساحل پرآدمیوں کا ایک دوسرا سمندر موج زن، لاکھوں مسلمان لباس فاخرہ پہنے ہوئے اورسب کی زبان پر پاکستان زندہ باد! پاکستان پائیندہ باد! قائداعظم زندہ باد! ہوائی اڈے سے شہر تک یہی حالت رہی اور شہر کے اندر اس سے زیادہ ہجوم اژدھام اور خوشیاں اور نعرے ۔ قائداعظم کو اس پر حیرت تھی کہ اپنی زندگی ہی میں انہوں نے پاکستان دیکھ لیا اور اس کا واقعی انہوں نے اظہار کیا۔
تحریک کے آخری تین چار سال کے دوران میں یہ معمول ہو گیا تھا کہ کچھ عرصے کے بعد قائداعظم کی طبیعت خراب ہوتی تھی اور پھر سنبھل جاتی تھی۔ وہ اس علالت کو خیال میں نہیں لاتے تھے۔ جس وقت سے کیبینٹ مشن ہندوستا ن میں آیا تھا قائداعظم کی مصروفیت بہت بڑھ گئی تھی۔ اس کا ان کی صحت پر برا اثر ہوا۔ کراچی روانہ ہونے سے قبل امپیریل ہوٹل دہلی میں ان کو وداعی عصرانہ دیا گیا۔
وہ کراچی پہنچتے ہی نئی حکومت کی بنیاد رکھنے میں مصروف ہوگئے۔ یہ بڑا کام تھا، مگر ان کی ہمت کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ 11اگست 1947ءکو پاکستان کانسٹی ٹیوٹ اسمبلی کا پہلا اجلاس ہوا۔ قائداعظم نے اپنے خطبہ صدارت میں فرمایا:
بلاشبہ آپ مجھ سے اس میں اتفاق کریں گے کہ حکومت کا پہلا فرض یہ ہے کہ امن و انتظام قائم رکھے تاکہ مملکت کے باشندوں کی جان، مال اور مذہبی عقائد پورے طور پر مملکت ہی کے ذریعے سے محفوظ ہو جائیں۔
اگرآپ ماضی کو بھول کر اور عداوتوں کو دفن کر کے، باہمی تعاون سے کام کریں گے تو لازماً آپ کو کامیابی ہوگی۔ اگر آپ ماضی کو بدل ڈالیں اور اس جذبے کے ساتھ باہم مل کر، کام کریں کہ آپ میں کاہر فرد، خواہ وہ کسی فرقے کا ہو، ماضی میں آپ کے اور اس کے تعلقات کیسے ہی رہے ہوں ، اور اس کا کچھ ہی مذہب ہو وہ اول، دوم اور آخر اسی دولت کا شہری ہے۔ مساوی حقوق، آزادیوں، سہولتوں اور پابندیوں کے ساتھ، تو آپ کی ترقیوں کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔
آپ آزاد ہیں آپ اس کے لئے آزادہیں کہ اپنے مندروں میں جائیں، آپ آزاد ہیں کہ اپنی مسجدوں میں جائیں یا اس دولت پاکستان کے اندرکسی اور عبادتگاہ میں جائیں۔ آپ کا تعلق کسی مذہب کسی ذات اور کسی عقیدے سے ہو۔ اس کادولت کے کام سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  بدترین قتل عام: جس میں مرنے والوں کی تدفین پچیس سال سے جاری

اب میرا خیال ہے کہ ہمیں یہ بطور نصب العین سامنے رکھنا چاہئے اور آپ یہ پائیں گے کہ زمانہ گزرنے کے

لوگوں کے نعروں کا جواب دیا۔

ساتھ ہندو ہندو نہ رہے گا اور مسلمان مسلماننہ رہے گا، مذہبی مفہوم میں نہیں، کیونکہ یہ ہر شخص کا ذاتی عقیدہ ہے، بلکہ سیاسی مفہوم میں۔ اس دولت کے شہری کی حیثیت سے۔
رسم انتقال اختیارات
13اگست 1947ءکو لارڈ ماﺅنٹ بیٹن بحیثیت وائسرائے اور گورنر جنرل غیر منقسہ برصغیر پاک وہند کراچی آئے اور گورنمنٹ ہاﺅس میں قائداعظم کے مہمان ہوئے۔ اسی رات کو ان کے اعزاز میں وہ بڑی ضیافت ہوئی جسے بینکیٹ کہتے ہیں۔ دوسرے روز جلوس نکلنے والا تھا ۔ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کو یہ اطلاع ملی تھی کہ بعض سکھ لیڈروں نے یہ سازش کی ہے کہ دوران جلوس میں قائداعظم کو قتل کر دیں۔ لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے اس پر اصرار کیا کہ وہ بھی جلوس میں قائداعظم کے ساتھ بیٹھیں تاکہ جو کچھ در پیش آئے اس میں دونوں شریک رہیں۔ یہ ان کی طرف سے شجاعانہ پیش کش تھی اور بڑے اصرار کے ساتھ اس لئے قبول کی گئی۔
قائداعظم اور ماﺅنٹ بیٹن اسی رسمی لینڈو پر سوار تھے جو ساری دنیا میں ایسے جلوس کے لئے مخصوص ہے۔ اس میں چھ گھوڑے جتے ہوئے تھے۔ سڑکوں پر لاکھوں آدمی قطار در قطار مرتب، ہنسی اورقہقہوں اور نعروں سے خوشی کا اظہار کر رہے تھے۔
ایوان اسمبلی میں پہنچ کر ، لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے ہز میجسٹی شاہ انگلستان کا پیغام پڑھا جس میں نئے دولت کو سلام تھا اور بڑے جوش و اخلاص سے اس کے لئے فلاح و خوشحالی کی تمنا کی گئی تھی۔ پیغام میں اس کی توثیق کی گئی تھی کہ برطانوی دولت مشترکہ میں ہر خیال کے فریق جمہوری اصولوں کو بلند رکھنے میں پاکستان کی مدد کریں گے۔
لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے اپنی تقریر میں کہا:
آج میں آپ کے وائسرائے کی حیثیت سے تقریر کرہا ہوں ۔ کل سے مملکت پاکستان کی حکومت آپ کے ہاتھوں میں ہوگی اور میں آپ کی ہمسایہ ڈومینین کا آئینی گورنر جنرل ہوں گا۔ کل دو نئی با اختیار مملکتیں دولت مشترکہ میں جگہ حاصل کریں گی، لیکن یہ نئی قومیں نہیں بلکہ پرانی اور قابل فخر تہذیبوں کی وارث ہیں۔
آخر میں انہوں نے دنیا کے ھلے کے لئے یہ دعا کی کہ آئندہ سالوں میں ہم ان اصولوں پر مضبوطی سے قائم رہیں جو اکبر اعظم نے ہم کو سکھائے ہیں۔
ان کے بعد قائداعظم نے تقریر کی ۔ اس کے اقتباس ذیل میں درج ہے۔
وہ رواداری اور خیر سگالی جو شہنشاہ اکبر نے غیر مسلموں کے حق میں برتی نئی چیز نہیں بلکہ تیرہ صدیاں قبل کی ہے جب ہمارے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صرف باتوں سے نہیں بلکہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ، ان پر فتح حاصل کرنے کے بعد، عملاً انتہائی رواداری اور خیر خواہی کا برتاﺅ اوران کے مذہب اور عقائد کا احترام کیا تھا۔ مسلمانوں کی پوری تاریخ اسی قسم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ انہوں نے جہاں کہیں حکومت کی، انہی اعلیٰ انسانیت پرور اصولوں کے ساتھ کی جن کی پیروی ہونی چاہئے اور جس پر عمل کرنا چاہئے۔
مراسم انتقال اختیارات ادا ہونے کے بعد لارڈ ماﺅنٹ بیٹن اور قائداعظم گورنمنٹ ہاﺅس میں واپس آئے اور بخیرو عایت ۔ 14اگست کو لارڈ ماﺅنٹ بیٹن دہلی واپس گئے، 15اگست 1947ءکو قائداعظم گورنر جنرل پاکستان اور وزرائے مملکت کی رسم حلف ادا ہوئی اور ڈومینین کی حیثیت سے پاکستان باضابطہ وجود میںآگیا۔ چودھویں برٹش فیلڈ رجمنٹ نے 31متوپوں کی شاہی سلامی دی۔ بس یہی ایک برطانوی رجمنٹ تھی جو یوم مملکت پاکستان میں شریک ہوئی۔ پولو گراﺅنڈ میں پاکستان کے بحری بیڑے اور فوج نے سلام دی۔ قائداعظم نے جلوس سے الگ ہو کر لوگوں کے نعروں کا جواب دیا۔ یہ تقریب دیکھنے کے لئے دو لاکھ آدمی مجتمع تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کا ہر دور حکومت جدوجہد میں گزرا