sleep

اب نیندکی دشواریوں سے پریشان نہ ہوں

EjazNews

نیند آنے میں دشواریاں عام ہیں۔ ہرپانچ آدمیوں میں سے ایک کو نیند آنے میں مشکل ہوتی ہے یا رات میں آنکھ کھل جاتی ہے یا صبح کے وقت آنکھ کھلتی ہے تو پھر نیند نہیں آتی۔ یہ سب باتیں معمول کے مطابق ہیں جو ہر کسی کو پیش آسکتی ہیں اور مسئلہ اس وقت پیچیدہ ہوتا ہے جب یہ مستقل ہو جائیں یا ان باتوں پر پریشانی ہو اور ان کو اپنے لیے مصیبت سمجھ لیا جائے۔
نیند کے متعلق چند حقائق جن کا جانا مفید و ضروری ہے:
نیند کی کوئی ایک مدت نہیں جسے مثالی کہا جا سکے اور جو سب کے لیے ضروری ہو۔ چند افراد دس گھنٹے سوتے ہیں اور چند لوگ چار گھنٹے سو کر بھی ترو تازہ رہ سکتے ہیں۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ نیند بھی کم ہوتی جاتی ہے اور اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ خواہ اس کا احساس ہو یا نہ ہو ہر ایک کی نیند در میان میں ٹوٹتی ہے اور یہ معمول کے مطابق ہے۔ سوتے میںکئی مرتبہ آنکھ کھلتی ہے اور پھر نیند آجاتی ہے۔ اگر کچھ راتوں میں نیند نہ آئے تو یہ وجہ تشویش نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کا کوئی نقصان نہیں۔ نیند پر کئی باتوں کا اثر پڑ سکتا ہے مثلاً کرب و فکر، مزاج، ورزش، غذا، مشروبات چائے، کافی ادویہ اور شراب وغیرہ کا۔ اپنی عادات و اطوار میں تبدیلی سے نیند کے عرصہ میں تبدیلی لائی جا سکتی ہے اور بغیر خواب آور ادویہ کے کام چلایا جا سکتا ہے۔
خواب آور ادویہ سے احتراز کیوں؟:
خواب آور ادویہ کے مسلسل استعمال سے عادت پڑ جاتی ہے، بالکل اسی طرح جس طرح کسی بھی نشہ کی لت پڑ جاتی ہے۔ گاہے گاہے، اتفاقیہ نیند لانے کی گولی استعمال کرنے میں غالباً حرج نہیں، مگر مستقلاً استعمال کرنے سے جسم ان گولیوں پر انحصار کرنے لگتا ہے اور پھر خواب آور گولی کھائے بغیر نیند آنا محال ہو جاتا ہے۔جب بغیر خواب آور گولی کے سونے کی کوشش کی جاتی ہے تو پھر نیند کا مسئلہ سخت گھمبیر ہو کر سامنے آتا ہے اور یہ کیفیت اس حالت سے بد تر ہو جاتی ہے جس کے ازالے کے لیے نیند کی گولی کھانا شروع کی تھی اور پھر سوائے اس کے کوئی اور چارہ کار نہیں ہوتا کہ دوبارہ نیند کی گولی کا سہارا لیا جائے۔
نیند لانے میں معاونت:
خود کو پرسکون رکھئے اس بات کو ذہن نشین رکھنا ضروری ہے کہ نیند کبھی بھی مسلسل نہیں ہوتی اور ہر شخص کو کبھی نہ کبھی بے خوابی کے وقفوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اگر آپ اس ضمن میں نہ پریشان ہوں اور نہ ہی فکر مند تو اچھی طرح سوئیں گے۔ بستر میں جانے اور نیند لانے کے لیے خود کو تیار کر لیں اس غرض سے دن میں ورزش کریں سب سے اچھی ورزش عصر یا مغرب کو رات کے کھانے سے قبل40 منٹ کی تیز قدموں کی سیر ہے۔ سونے سے قبل بھاری مصالح دار چٹ پٹے کھانے یا چائے کافی کا استعمال نیند اڑا سکتا ہے۔ ان سے پرہیز کریں، خصوصاً نیند کے وقت سے چند گھنٹے قبل ان کا استعمال نہ کریں، خود کو پرسکون کرنے کے لیے نیم گرم غسل، فرحت افزا موسیقی کتب خوانی کرنے کی مشقیں مفید ہیں۔ اپنی خواب گاہ کو شور و غل سے پاک اور خاموش رکھنا ،سونے سے قبل پیشاب کرنا ضروری ہے ۔ نیند لانے کی اس وقت کوشش کرنا چاہیے جب نیند آتی ہوئی محسوس ہو۔ جب سونے کے لیے بستر میں لیٹیں تو پریشان کن مسائل کے متعلق نہ سوچیں۔ خود کو پرسکون کرنے کے لیے بھی چند طریقے ہوتے ہیں جن کا اس مضمون میں ذکر ہے اور جن پر عمل کریں۔
خواب آور ادویہ سے نجات:
جب خواب آور ادویہ کو ترک کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو ناخوشگوار شکایات پید اہوتی ہیں مثلاً رعشہ، گھبراہٹ، خوف زدگی، چکر، گھمیری، غشی ، نیند آنے میں دقت ، رات بھر پور طرح نہ سو سکنا، کسی کام میں پوری طرح توجہ مرکوز نہ کر سکنا، متلی منہ میں پھیلانا، مٹی کا سا ذائقہ ، افسردگی ، درد سر، ہاتھ پاؤں میں تھر تھراہٹ اورروشنی سے حساسیت ،اسی طرح شور و غل اور اس سے حساسیت، تھکن بے حسی ایسا احساس کہ جیسے خود اپنے جسم سے باہر ہیں، نظر میں دھندلاہٹ، گرمی سردی کا احساس، چہرہ پر جلن کا احساس ، پٹھوں میں درد بولنے میں مشکل، وسوسے ہونا۔ ان علامات و شکایات کو کم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ دوا کی خوراک آہستہ آہستہ کم کی جائے کہ 2ہفتے بعد تک خواب آور دوا کی خوراک نصف کر دی جائے اور پھر اس طرح رفتہ رفتہ ترک کر دی جائے۔ جس قدر زیادہ دوا کی مقدار ہے اسی قدر زیادہ مدت اسے ترک کرنے میں لگے گی۔ یہ مدت کئی مہینے ہو سکتی ہے، خواب آور ادویہ کسی مرض کے لیے شافی نہیں یہ صرف علامات کو چھپا دیتی ہیں ، جو آگ اندر بھڑک رہی ہے اس پر چادر ڈال دیتی ہیں۔ جن افراد نے ازالہ پریشانی کے لیے یہ دوائیں شروع کی تھیں ترک دوا کے بعد وہ پریشانی دوبارہ ہو سکتی ہے ۔ اس کے لیے تیار رہیں اور اپنے مسائل کو حل کرنے کے لیے تدبیر کریں۔ ازالہ کرب کے طریقے سیکھیں۔ اگر ادویہ ترک کرنے سے کوئی تکلیف ہو تو طبیب سے مشورہ کریں۔ جس زمانہ میں زیادہ مشکلات ہوں اور حالات ناسازگار ہوں اس وقت یہ خواب آور دوائیں ترک نہ کریں بلکہ اس زمانہ میں کریں جب حالات نسبتاً خوشگوار ہوں۔ ترک دوا کے زمانے میں اپنے اہل خانہ کو اعتماد میں لیں اور ان کو بتا دیں کہ دوا چھوڑنے کے نتیجے میں مزاج میں بر ہمی آ سکتی ہے اور سب کے لیے مشکلات کا ایک دور آ سکتا ہے۔ دوا ترک کرنے والے کو ہمدردی حوصلہ اور ہمت افزائی کی جبکہ ساتھ رہنے والوں کو صبر و ضبط اور جذبات کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  دنیا بھر میں تقریباً 5ہزار بچوں میں سے ایک ہیموفیلیا کا شکار ہے
پرسکون نیند کیلئے آپ کو زندگی میں ترتیب بنانا ہوگی

نیند کیوں رات بھر میں نہیں آتی!
بعض حالات میں بے خوابی کی کوئی فوری وجہ بھی ہوتی ہے مثلاً ملازمت سے سبکدوشی ، عنقریب ہونے والی شادی، بچوں کی شادی کی فکر، مقروض ہو جانا، رہائش کا بندوبست نہ ہونا، امتحانی نتیجہ کی فکر اور بچے کی ولادت کی تشویش وغیرہ۔ اگر فکر و بے خوابی عارضی قلیل عرصہ کے لیے ہو مثلاً صرف چند راتیں تو یہ معمول کے مطابق ہے مگر جب یہ سلسلہ طویل ہو جائے اور چند ہفتوں تک ایسا ہی ہوتا رہے تو پھر یہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ کرب اور نیند میں پایا جانے والا تعلق مخالفانہ نوعیت کا ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ وارد نہیں ہوتے، بعض جذبات اور کیفیات مثلاً پریشانی ناراضگی خوف ، اداسی ہیجان بلکہ خوشی و مسرت بھی جسم کو بیدار کر دیتے ہیں۔ رفتار قلب بھی بڑھ جاتی ہے، سانس کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اور سرخ رگیں سکڑ جاتی ہیں اور یہ سب تبدیلیاں اس وقت رونما ہو رہی ہوتی ہیں جب آدمی سونے کے لیے بستر پر آ جاتا ہے حالانکہ اس کے بر عکس نیند کے وقت ان سب کو دھیما ہو جانا چاہیے۔ جب کوئی پریشانی یا تشویش جس کی وجہ سے بے خوابی پیدا ہوتی تھی ختم بھی ہو جائے، پھر بھی بے خوابی کا سلسلہ چلتا رہتا ہے اور جب لوگ بستر پر جا کر لیٹتے ہیں تو اس فکر میں مبتلا رہتے ہیں کہ انھیں نیند نہیں آئے گی۔ ایک اور مشکل نیند لانے کی کوشش کرتا ہے۔ کوشش کرنا دراصل کام کرنا ہے اور جب آپ کام کرتے ہیں تو آپ اپنے اندرونی نظام کو بیدار کر لیتے ہیں اور جس کی وجہ سے نیند کوسوں دور چلی جاتی ہے۔
اسی طرح کی صورت حال ایک اور مریض کے ساتھ بھی پیش آئی۔ وہ بھی فوری وجوہ کی بنا پر بے خوابی میں مبتلا ہو گیا۔ وہ سفر میں تھا اور بلند پہاڑی مقامات پر گیا ہوا تھا۔ اسے اپنی آمدنی کے گوشوارے بھی تیار کرنے تھے وہ ان وجوہ کی بنا پر پریشان ہو گیا تھا۔ اس زمانہ میں وہ مکان بھی خرید رہا تھا۔ سفر مکان کا حصول اور آمدنی کے گوشواروں کی تیاری ان سب نے اسے تشویش میں مبتلا کر دیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی نیند اڑ گئی تھی وہ جس قدر سونے کی کو شش کر سکتا تھا اس نے کی، مگر نیند پھر بھی نہیں آئی۔ اس کا معائنہ کرنے پر کوئی خلاف معمول بات نہیں معلوم ہوئی۔ اسے یہ مشورہ دیا گیا کہ وہ زبردستی سونے کی کوشش نہ کرے کیونکہ زبردستی سونے کی کوشش کرنے سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کے برعکس اس وقت خود کو آسودہ خاطر اور آرام یا ریلیکس کر لینا چاہیے، جب اس نے کوشش خواب ترک کر دی اور سونے سے پہلے کتب خوانی وغیرہ کرنا شروع کی تو نیند نہ آنے کا سلسلہ ٹوٹ گیا۔ مراقہ عبادت اور وظائف بھی اس ضمن میں مفید ہیں۔
نیند کے لیے نسخہ:
یہ ابھی تک ایک راز ہے کہ نیند کیوں آتی ہے؟ اس کے بہت سے اسباب بیان کیے جاتے ہیں بہرحال اس میں کوئی شک نہیں کہ تحفظ صحت اور ذخیرہ توانائی کو مجتمع کرنے کے لیے ہمیں نیند چاہیے۔ آرام اور نیند سے جسمانی ٹوٹ چھوٹ کی اصلاح ہوتی ہے بلکہ یہ ہمیں ترو تازہ بھی کرتی ہے۔جب تک ہمارے دل دھڑک رہے ہیں اور سانس چل رہی ہے ہمارا جسم کام کر رہا ہے تو دل و سانس کے افعال کی بجا آوری کے لیے ہمیں توانائی کی ضرورت ہے، نیند کے دوران ہم مکمل آرام کے قریب تر ہیں۔ نیند کے دوران سانس اور دل کی رفتار آہستہ ہو جاتی ہے، فشار خون میں کمی ہو جاتی ہے گو بے ہوشی طاری ہو جاتی ہے مگر تحت الشعور برقرار رہتا ہے۔ اسی سبب سے بعض لوگ خواب میں سوال کا جواب دے دیتے ہیں۔
نیند کی گہرائی تبدیل ہوتی رہتی ہے اور سب سے زیادہ گہری نیند سونے کے دوسرے تیسرے گھنٹے میں ہوتی ہے۔ چنانچہ اس دوران نیند میں مخل نہ ہوا جائے، خصوصاً چھوٹے بچوں کو بالکل بے آرام نہیں کیا جائے۔ آنکھ کھلنے کے وقت سے پہلے نیند گہری نہیں رہتی۔ جب جسم کے قلاش شدہ ذخیرے ترو تازہ ہو جاتے ہیں تو آنکھ کھل جاتی ہے۔ نیندسے کماحقہ اور مناسب فائدہ حاصل کرنے کے لیے درج ذیل ہدایات پر عمل کیا جائے۔
پابندی: مقررہ وقت پر سونے کے لیے لیٹنا اور پھر اٹھنا یہ پابندی بچوں کے لیے بھی ضروری ہے اگر بچوں کو مناسب نیند نہیں ملے گی تو وہ چڑچڑے اور مضطرب ہو جائیں گے، بھوک اڑ جائے گی۔
سکون و انبساط : نیند سے قبل پر سکون ہونا ضروری ہے۔ خصوصاً اگر اس سے قبل کسی وجہ سے جان بے قراری یا اضطراب ہوا ہے۔ اس غرض سے کھلی ہوا میں سیر اور ایک نیم گرم مشروب مفید ہے۔
بے خوابی نہ کوئی مرض ہے اور نہ اکثر اوقات یہ مرض کے سبب سے ہوتی ہے۔ اس کی عام وجوہ پریشانی، ذہنی جان وغیرہ ہیں۔ اس ضمن میں اگر کوئی جذباتی مسائل ہیں تو ان کو حل کیا جائے۔ غصہ ، غم اور خوف کسی بھی شخص کی نیند اڑا سکتے ہیں۔ بچوں میں تو یہ باتیں بآسانی بے خوابی پیدا کر سکتی ہیں۔ بعض بچے اندھیرے میں ڈرتے ہیں، ان کے لیے ہلکی سی روشنی کرنا مناسب ہے اور ساتھ میں ڈھارس بھی بندھائی جائے۔ خواب گاہ مناسب ہونا چاہیے۔ شب خوابی کا لباس آرام دہ ہو اور ٹھنڈا نہ ہو۔ بستر میں اوڑھنے کے لیے کپڑے نہ بھاری ہوں اور نہ تکلیف دہ ۔ رات کو تازہ ہوا بھی کمرہ میں آتی رہے۔ رات کا کھانا بھی ہلکا ہو اور جلد کھا لیا جائے۔کس قدر سونا چاہیے یہ ہر ایک میں مختلف ہے دراصل اس قدر سوئیں جس کے بعد طبیعت تر و تازہ ہو جائے بالعموم8گھنٹے کی نیند مناسب ہے۔ بچوں میں اس سے زیادہ نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔ جتنا چھوٹا بچہ ہو تا ہے اسی قدر زیادہ عرصہ سوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  بڑھاپے سے دور کیسے رہیں؟
کیٹاگری میں : صحت