maryam_nawaz

مریم نواز اور یوسف عباس گرفتار

EjazNews

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کو نیب نے چوہدری شوگر ملز کیس میں طلب کیا گیا تھا جہاں ان سے اس کیس سے متعلق مالیاتی امور کی تفصیلات طلب کی جانی تھیں۔تاہم مریم نواز نے نیب کے سامنے پیش ہونے سے معذرت کی اور جیل میں قید اپنے والد سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کے لیے چلی گئی تھیں۔جبکہ مریم نواز کو کوٹ لکھپت جیل میں اپنے والد نواز شریف سے ملاقات کے بعد واپس جاتے ہوئے راستے سے تحویل میں لے لیا گیا جس کے بعد انہیں نیب ہیڈکوارٹر منتقل کردیا گیا۔مریم نواز کے نیب کے سامنے پیش نہ ہونے پر باقاعدہ ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے، تحویل میں لیتے ہوئے انہیں وہ وارنٹ بھی دکھائے بھی گئے۔جب انہیں تحویل میں لیا گیا تو اس وقت بڑی تعداد میں لیگی کارکنان ان کے ہمراہ موجود تھے۔ مسلم لیگ ن کی نائب صدر کو تحویل میں لیے جانے کے کچھ دیر بعد نیب نے نواز شریف کے بھتیجے یوسف عباس کو بھی گرفتار کرلیا ۔
مریم نواز کو نیب کی جانب سے تحویل میں لیے جانے پر بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں کہا کہ ہم نے ٹی وی پر دیکھا کہ اپوزیشن جماعت کی ایک خاتون رہنما کو اس حکومت نے گرفتار کرلیا ہے۔ان کا کہنا تھا عمران خان کی حکومت کے دوران جو ہورہا ہے کہ ویسا ہی جنرل ضیا کے دور میں ہوا۔ میرا خاندان نسلوں سے سیاست کر رہا ہے، ہم نے بہت کچھ دیکھا ہے لیکن جیسا ضیا کے دور میں ہوا ایسا ہی اب ہورہا ہے۔ تاریخ یاد رکھے گی کہ عمران خان جو انصاف کی بات کرتا تھا اس نے نئے پاکستان میں کسی الزام کے بغیر مریم نواز کو گرفتار کیا ۔چیئرمین پی پی پی نے مریم نواز کی گرفتاری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اجلاس سے واک آو¿ٹ کردیا۔جس کے بعد اجلاس ملتوی کر دیا گیا ۔
شریف خاندان کے اراکین منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت چوہدری شوگر ملز میں مشتبہ شراکت دار کی حیثیت سے تفتیش کا سامنا کررہے ہیں۔مذکورہ شوگر ملز کے مالکان کے خلاف شواہد مبینہ طور پر شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ اور سلمان شہباز کی منی لانڈرنگ اور آمدن سے زائد اثاثوں کی تحقیقات میں سامنے آئے تھے۔نیب نے شریف خاندان اور اس سے فوائد حاصل کرنے والے افراد جس میں مریم نواز اور چوہدری شوگر ملز کے دیگر مالکان بھی شامل ہیں کی مبینہ طور پہ لاکھوں روپے کی ٹیلیگرافک ٹرانسفرز (ٹی ٹیز) کا سراغ لگایا ہے۔اس سے قبل چوہدری شوگر ملز کیس میں تفتیش کا سامنا کرنے والے نواز شریف کے دو بھتیجوں یوسف عباس اور عبدالعزیز عباس کو مدینہ جانے والی پرواز سے آف لوڈ کردیا گیا تھا جو نواز شریف کے مرحوم بھائی عباس شریف کے بیٹے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے فائدہ اٹھانے کی آخری تاریخ 30جون 2019ہے