kashmri

کشمیر کےخطرناک تنازعہ کا ایک تاریخی جائزہ

EjazNews

برطانوی پاک وہند کی تقسیم کے ساتھ ہی پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کشمیر کا خطرناک تنازع پیدا ہوا۔ یہ آپ سے آپ پیدا نہیں ہوا اورنہ تقسیم برصغیر کا لازمی نتیجہ تھا، بلکہ پیدا کیا گیا اس معین مقصدکہ برصغیر کے معاملات میں برطانیہ کو مداخلت کا موقع حاصل رہے۔
15اگست 1947ءکو جو برصغیر کی تقسیم کے نفاذ کا دن تھا، دوسری ریاستوں کی طرح ریاست جموں و کشمیر بھی قانون استقلال ہند کی رو سے آزاد تھی اور اس کو یہ اختیار حاصل تھا کہ خواہ پاکستان کے ساتھ الحاق اختیار کرے یا بھارت کے ساتھ یا خود مختار رہے۔ مگر اس قانون کا منشا اور تقاضہ یہی تھا کہ ہر ریاست اس مملکت کے ساتھ الحاق اختیار کرے جو اس سے متصل ہو اور دوسرے حالات کے اعتبار سے اس کے اور مملکت کے درمیان موافقت اور یگانگت ہو۔ جغرافیائی اعتبار سے ریاست جموں اور کشمیر پاکستان ہی کا ایک حصہ ہے۔ پاکستان اور کشمیر کی سرحد کئی سو میل مشترک ہے۔ اس کے تمام دریا پاکستان میں بہتے ہیں اس کی تمام تجارتی شاہراہیں پاکستان سے گزرتی ہیں۔ کشمیری اورپاکستانی نسلاً ایک ہیں۔ جموں اور کشمیر کی 80فیصد آبادی مسلمان ہے۔ ان کی تہذیب اور ان کا تمدن ایک ہے۔ ان کی معاشی زندگی باہم ایسی ملی جلی ہے کہ بغیر شدید ضرر اور نقصان کے جدائی کا تصورہی نہیں کیا جاسکتا۔ مگر اس سب کے باوجود لارڈ ماﺅنٹ بیٹن نے ریڈ کلف کے ساتھ ساز کر کے بھارت کے لئے کشمیر میں جانے کا راستہ اس طرح پیدا کیا کہ بعض وہ علاقے جن میں مسلمانوں کی اکثریت تھی ، کاٹ چھانٹ کر بھارت کو دے دئیے۔
کشمیر میں ہندو راجہ کی حکومت بجائے خود وہ حادثہ تھا جو انگریزوں کی مسلم دشمنی ہی سے واقع ہوا تھا۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1886ءمیں صرف 75لاکھ روپے کے عوض پوری ریاست جموں و کشمیر مہاراجہ گلاب سنگھ ڈوگرا کے ہاتھ بیچ ڈالی۔ کشمیری اس ہندو حکومت سے مسلسل بیزار رہے۔ یہ ایسی ظالم اور جابر تھی کہ اس نے واقعی کشمیریوں کا خون چوسا اوران کو صرف بیگاری مزدور بنا کر رکھا۔ جب موقع ملا کشمیری مسلمانوں نے اس کے خلاف بغاوتیں بھی کیں، مگر وہ سختی سے دبائی گئیں۔
مہاراجہ اس سے واقف تھا کہ کشمیر کے مسلمان لازماً پاکستان کے ساتھ الحاق چاہیں گے اس لئے اس نے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اگست 1947ءمیں پاکستان کے ساتھ یہ معاہدہ کیا کہ جو حالات ہیں وہ بحال رہیں، یعنی اسٹینڈ اسٹل ایگریم ینٹ، قرائن سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مشرقی پنجاب میں اور دوسرے مقامات پر اس وقت مسلمانوں کا جو قتل عام ہو رہا تھا اس کی سازش میں خودمہا راجہ کشمیر بھی شریک تھا۔ جموں، شمالی ہند میں راشٹریہ سیوک سنگھ کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ جس وقت مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کا قتل عام انتہائی شدت تک پہنچا، یکایک ریاست کی فوج اور مسلح ہندوﺅں اور سکھوں نے جموں اور کشمیر کے مسلمانوں پرحملے شروع کر دئیے اور ان کا قتل عام ہونے لگا۔ ان حالا ت سے مجبور ہو کر پونچھ اور دوسرے مقامات کے مسلمانوں نے ، مہاراجہ کی حکومت کے خلاف علم بغاوت بلند کیا اور جموں اور کشمیر کی خود مختاری کا اعلان کرد یا۔ جب مجرو ح اور لٹے پٹے مسلمان پاکستان میں خصوصاً سرحدی علاقوں میں پہنچے تو وہاں مسلمانوں میں جوش پیدا ہوگیا اور اپنے کشمیر کے مسلمان بھائیوں کی مدد کیلئے چل پڑے اور ان کشمیری مسلمانوں کی طرف سے ریاست کے خلاف جنگ میں شریک ہو گئے جو اپنی آزادی اور خود مختاری کے لئے لڑ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:  خودکشی کے رجحانات کیوں بڑھ رہے ہیں؟

آزادی کی اس جنگ میں کشمیریوں کا غلبہ تھا، مہاراجہ اور اس کی حکومت کے ارکان بھاگ چکے تھے۔ ان حالات میں مہاراجہ کشمیر نے بھارت سے الحاق کی درخواست کی اور آزادی خواہ مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے لئے فوجی امداد طلب کی ۔ بھارت نے الحاق کی درخواست اس شرط کے ساتھ فوراً منظور کی کہ الحاق کا قطعی فیصلہ باشندگان کشمیر کی رائے سے ہوگا اور ریاست پر قبضہ کرنے کے لئے اپنی فوجیں بھیج دیں۔
اس واقع سے پاکستان کے لوگوں میں بڑا اشتعال تھا اور صورت حال بھی ایسی تھی کہ اگر پاکستان اس کے جواب میں جنگی اقدام کرتا تو وہ بالکل حق بجانب ہوتا۔ لیکن قائداعظم نے بعض نہایت معقول شرائط کے ساتھ ہندوستان کو اس کی دعوت دی کہ کشمیر کا مسئلہ امن و صلح کے ساتھ طے کر لیا جائے۔ ہندوستان نے بڑی تاخیر کے بعدی ہ جواب دیا کہ جب قبائلی (مجاہدین) کشمیر سے واپس چلے جائیں گے اور امن و انتظام قائم ہو جائے گا تب ہندوستان اپنی فوجیں کشمیر سے واپس بلائے گا اور یہ تجویز پیش کی کہ پاکستان او ر ہندوستان کی حکومتیں اقوام متحدہ سے یہ مشترکہ درخواست کریں کہ وہ جلد سے جلد کشمیر میں استصواب رائے عامہ کرادے۔ 2نومبر کو پنڈت جواہر لال نہرو کی ایک تقریر نشر ہوئی جس سے یہ صاف ظاہر ہوگیا کہ ہندوستان کا اصل منشا یہ ہے کہ وہ کشمیر پر فوجی کارروائی کے ذریعے سے قبضہ کرے اور دنیا کو دھوکہ دینے کے لئے یہ بھی کہتا رہے کہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں استصواب رائے عامہ ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ

وسط نومبر میں نوابزادہ لیاقت علی خان وزیراعظم پاکستان نے ایک بیان دیا جس میں انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے منشور کا بنیادی اصول یہ ہے کہ حق پر طاقت کے غلبے کو روکا جائے ۔ اس لئے چاہئے کہ پورا مسئلہ بین الاقوامی رائے کی عدالت کے سامنے لایا جائے ۔ ہم اس کے لئے تیار ہیں کہ اقوام متحدہ سے درخواستکریں کہ ریاست جموں اور کشمیر میں وہ فوراً اس غرض سے اپنے نمائندے مقرر کرے کہ وہ جنگ اور ریاست میں مسلمانوں پر جبرو تشدد ، بند کرائیں، بیرونی افواج کی واپسی کا انتظام کریں اور اس وقت تک کے لئے ریاست میں کوئی غیر جانبدار حکومت قائم کرائیں کہ استصواب رائے عامہ عمل میں آجائے اور یہ اپنے ذمے لیں کہ ریاست کے باشندوں کی آزادی مرضی معلوم کرنے کے لئے اپنی ہدایت اور انتظام میں استصواب رائے عامہ کرائیں گے۔ الحاق کے مسئلے میں ہم یہ منظور کرنے کو تیار ہیں کہ مانا ودر اور جونا گڑھ کے تنازع کا فیصلہ بھی اسی طرح کیا جائے۔
ہندوستان نے اس کا جواب یہ دیا کہ جنگ بند کرانے کے لئے ہندوستان کی فوجوں کو کشمیر میں رہنا چاہئے۔ شیخ عبد اللہ کی حککومت غیر جانبدار حکومت ہے، اقوام متحدہ کے نمائندوں کو محض اس لئے آناچاہئے کہ استصواب رائے عامہ کے متعلق مشورہ دیں۔ یہ بالکل لغو اور نئی باتیں تھیں۔ اس کے بعد ہندوستان نے استغائے کے طور پر کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں پیش کیا کہ پاکستان نے کشمیر میں جارحانہ اقدام کیا ہے جس سے بین الاقوامی امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سلامتی کونسل میںمباحثوں اور قرار دادوں اور تجاویز کا وہ سلسلہ شوع ہوگیا جواب تک جاری ہے۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی ہر تجویز منظور کی اور بھارت نے اس کی ہر تجویز مسترد کی۔ بھارت کی ضدیں اور ہٹیں پوری کرنے کی کوشش میں اقوام متحدہ اب اس مقام پر پہنچ گئی ہے کہ کشمیر کے معاملے میں اس کا کوئی موقف نہیں رہا۔ ہندوستان اپنے بد ارادوں کی انتہا کو پہنچ چکا ہے۔
1965ءکی جنگ بندی کے بعد معاہدہ تاشقند بھی ہوا اور پاکستان کو یہ امید دلائی گئی کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جو اختلافات ہیں وہ گفت و شنید کے ذریعے طے کرائے جائیں گے۔ مگر یہ گفت و شنید کبھی نہ ہو سکی حتی کہ انڈیا نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے ایک متنازع علاقے کو اپنے اندرہڑپ کرنے کی منظوم کوشش کی ہے۔ کشمیریوں نے اس کوشش کو مکمل طور پر ناکام بنا دیا ہے ا ور پاکستان اپنے اس عزم پر قائم ہے کہ باشندگان کشمیر کو ضرور حق خودارادیت دلائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:  ہمارے معاشرے میں جارحیت نے کیسے جنم لیا؟