Muzdalifa

مزدلفہ کی حکمت و مسائل

EjazNews

منیٰ و عرفات ے درمیان تقریباً آدھے راستے پر واقع ہے جو حد حرم میں داخل ہے ۔ یہاں زمانہ جاہلیت کے عرب لوگ اپنے باپ داداﺅں کے کارنامے بیان کرتے تھے۔ اس کو مشعر الحرام کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ترجمہ: جب تم عرفات سے واپس ہو تو اللہ کو مشعر الحرام کے پاس یاد کرو اور جس طرح اس نے تمہیں بتایا ہے اسی طرح یاد کرو اور اس سے پہلے تم ناواقف تھے۔(البقرہ)
اللہ کی یاد سے دونوں جہاں کی بھلائیاں ملتی ہیں۔
حج کے زمانہ میں یہاں بازار لگ جاتا ہے، کھانے پینے ضرورت کی سب چیزیں مل جاتی ہیں۔ اس کو جمع اور مشعر الحرام بھی کہتے ہیں۔ مشعر الحرام کے پہاڑ کو جبل قزح کہتے ہیں۔
مزدلفہ میں نماز:
مزدلفہ میں پہنچ کر جہاں جگہ مل جائے وہیں ٹھہر جاﺅ۔ سب سے پہلے اذان و تکبیر بعد کہلوا کر پہلے مغرب کی نماز باجماعت ادا کرو۔ پھر دوسری اقامت کے بعد عشاءکی نماز قصر کر کے جماعت سے پڑھو ۔ یہاں ان دونوںنمازوں کو جمع کر کے پڑھو۔
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ میں تشریف لائے اور ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مغرب و عشاءکی نماز ادا فرمائی اور ان کے درمیان کچھ نہیں پڑھا۔ (بخاری)
لہٰذا آگے پیچھے سنتیں مت پڑھو۔ وتر چاہے اسی وقت پڑھو یا تہجد کے وقت پڑھو۔ مزدلفہ میں رات گزارنی ضروری ہے جہاں جگہ مل جائے وہیں ٹھہر جاﺅ۔ البتہ عام راستوں اوروادی محسر میں مت ٹھہرو۔ رات کو جہاں تک ہو سکے خوب دعائیں اور ذکر الٰہی کرو اس جگہ دعا قبول ہوتی ہے، اس رات کو قیام کرنے سے دل روشن رہتا ہے اور جنت واجب ہو جاتی ہے۔ حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: جو خلوص اور نیک نیتی کے ساتھ دونوں عیدوں کی دونوں راتوں میں عبادت کیلئے قیام کر لے تو اس کا دل نہیں مرے گا جسدن اوروں کے دل مردہ ہو جائیں گے۔ جو پانچ راتوں کی شب بیداری کرے گا اس کے لئے جنت واجب ہو جائے گی۔(ترغیب)
مزدلفہ کی شب باشی
مزدلفہ میں رات گزارنی ضروری ہے۔ البتہ عورتوں بچوں اور کمزوروں کے لئے رخصت ہے کہ وہ شب آخر کو کچھ دیر تک مشعر الحرام کے پاس ذکر الٰہی اور دُعا کر کے منیٰ کو چلے جائیں۔منیٰ پہنچ کر آفتاب نکلنے کے بعد رمی کر کے احرام کھول دیں۔ عورتیں عذر کے سبب سے طلوع آفتاب سےق بل صبح کے وقت رمی کر سکتی ہیں۔ (بخاری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سودہؓ کو اور دیگر کمزور بچوں کو رات کو آنے کی اجازت مرحمت فرمائی تھی۔ (احمد)
مزدلفہ میں فجر کی نماز:
شب باشی کے بعد مزدلفہ میں فجر کی نماز اول وقت اذان و اقامت کے ساتھ باجماعت ادا کرو اور مشعر الحرام کے پاس آکر ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاﺅ۔ (مسلم)
حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے ایک اذان اور دو اقامت کےساتھ مغرب و عشاءکی نماز ادا فرمائی ان دونوں نمازوں کے درمیان سنتیں نہیں پڑھیں، پھرآپ لیٹ گئے یہاں تک کہ صبح صادق ہو گئی۔ صبح صادق ہو جانے کے بعد اذان و اقامت کے ساتھ فجر کی نماز ادا فرمائی پھر قصوا اونٹنی پر سوار ہو کر مشعر الحرام کے پاس تشرفی لائے۔ قبلہ رخ ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور اللہ اکبر لا الہ الا اللہ اور اللہ کی وحدانیت بیان فرماتے رہے یہاں تک کہ خوب روشنی ہو گئی ۔ پھر طلوع آفتاب سے پہلے چل پڑے۔ وادی¿ محسر میں آکر ذرا اونٹنی کو تیز کر دیا۔ درمیانی راستہ سے جمرہ کے پاس آئے اور سات کنکریاں ماریں ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے جاتے۔پھر قربان گاہ میں تشریف لائے۔ (مسلم)
مشعر الحرام کے پاس ذکر الٰہی:
مزدلفہ کے میدان مقدس میں ایک منارہ بنا ہوا ہے، اس کے کنارے کنارے احاطہ بنا ہوا ہے اس کو مشعر الحرام کہتے ہیں تم اس کے پاس سواری پر یا بغیر سواری کے قبلہ رخ کھڑے ہو کر ذکر الٰہی کرو۔ خدا کی وحدانیت بیان کرو اور خوب اجالا ہونے تک تکبیریں اور تسبیحیں پڑھتے رہواور لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریف لہ لہ الملک ولہ الحمد وہو علی کل شئی قدیر پڑھتے رہو۔
حضرت جابرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر الحرام کے پاس تشریف لائے اس پر چڑھ کر دعا فرمائی اور تکبیر و تہلیل و توحید بیان کی۔ (مغنی)
اس جگہ دعا قبول ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں مظالم اور حقوق العباد کی معافی کے لئے دعا کی تھی، تو نہیں قبول ہوئی۔ مشعر الحرام میں پھروہی دعا کی جو قبول ہوئی۔ حضرت عباس بن مرواس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے عرفہ کی شام کو دُعا فرمائی، اللہ کی طرف سے جواب ملا کہ حقوق العباد کے علاوہ سب گناہوں کو میں نے بخش دیا ہے۔ آپ نے فرمایا خدایا اگر تو چاہے تو مظلوم کو جنت عطا فرمائے اورظالم کو بخش دے ، عرفہ کی شام کو یہ دعا نہ بول ہوئی۔ مزدلفہ کی صبح کو پھر آپ نے یہی دعا کی جو قبول ہوئی (ابن ماجہ، ترغیب)
مسائل مزدلفہ:
مزدلفہ میں رات گزارنی ضروری ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پر آئے اور فرمایا وقفت ھھنا وجمع کلھا موقف (مسلم) مشیں نے یہاں وقوف کیا اور سارا مزدلفہ کا میدان ٹھہرنے کی جگہ ہے۔ جس کا مزدلفہ میں وقوف چھوٹ جائے تو بعض آئمہ کے نزدیک دم لازم آئے گا اور بعض کے نزدیک حج ہی فوت ہو جائےگا۔
علامہ ابن قدامہ فرماتے ہیں:
ترجمہ: مزدلفہ میں شب باشی واجب ہے چھوڑنے والے پر دم لازم ہے۔
حضرت عطازہری قتادہ ثوری شافعی اسحاق داﺅد اور اصحاب الرائے کا یہی قول ہے اور حضرت علقمہ و نخعی و شعبی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”من فاتہ جمع فاقہ حج “جس کا مزدلفہ چھوٹ گیا تو اس کا حج بھی چھوٹ گیا۔ جانبیں کی دلیلں مغنی میں مذکور ہیں۔ بعض علماءمزدلفہ کی شب باشی کو حج کا رکن تصور کرتے ہیں۔
مغرب اور عشاءکی نمازیں مزدلفہ میںپ ڑھو اور ان دونوں نمازوں کو جمع کرکے ادا کرو ۔حضرت اسامہ بن زید روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چلتے چلتے راستہ میں اتر کر پیشاب کیا، پھر وضو کر کے تشریف لے چلے میں نے عرض کیا : حضرت مغرب کا وقت ہوگیا ، یہیں نماز ادا فرما لیجئے۔ آپ نے فرمایا ”الصلوة امامک“ آگے چل کر نماز پڑھیں گے۔ پھر آپ سوار ہو کر مزدلفہ آئے۔ وہاں اتر کر وضو کیا۔ اقامت ہوئی، مغرب کی نماز ادا فرمائی، پھر اور لوگوں نے اپنی سواریوں کو بٹھایا ، پھر اس کے بعد دونوں عشاءکے لئے اقامت ہوئی۔ آپ نے عشاءکی نماز پڑھئای، ان دونوں کے درمیان سنتیں نہیں ادا فرمائیں۔(بخاری)
ان دونوں نمازوں کے ادا کرنے میں جلدی کرو، تاخیر مت کرو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ پہنچنے کے بعدسب سے پہلے نماز ہی کو ادا فرمایا تھا۔
بلا ضرورت نصف رات سے پہلے جانا جائز نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شب باشی کے بعد فرمایا ”خذو اعنی مناسککم “ مجھ سے حج کے احکام سیکھ لو آپ صبح صادق کے بعد چلے تھے۔
البتہ عورت بچے اور کمزور کے لئے رخصت ہے کہ وہ پچھلی رات کو مشعر الحرام کے پاس ذکر کر کے منی چلے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ام سلمہ کو رات ہی کو روانہ فرمادیا تھا۔ حضرت ام سلمہ فجر سے پہلے رمی کر کے فارغ ہو گئی تھیں۔ (ابوداﺅد)۔
حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ حضرت سودہ ؓ بھاری بدن کی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے رات ہی کو جانے کی رخصت مانگی، آپ نے ان کو اجازت مرحمت فرمادی۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں میں بھی کمزور لوگوں کے ساتھ رات ہی کو منی آگیا تھا۔ (احمد منتقی)
حضرت ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور لوگوں کو رات ہی کو مزدلفہ سے چلنے کی رخصت دی ہے۔ (احمد)
مزدلفہ سے سورج نکلنے سے کچھ دیر پہلے لبیک پکارتے ہوئے نہایت سکون و اطمینان سے چلو۔ سورج نکلنے کے بعد چلنا سنت کے خلاف ہے مشرکین سورج نکلنے کے بعد چلتے تھے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف کیا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ترجمہ: جاہلیت کے لوگ سورج نکلنے کے بعد مزدلفہ سے چلتے تھے اور کہتے تھے اے ثبیر پہاڑ دھوپ پڑنے کی وجہ سے چمک جا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مخالفت کی اور آفتاب نکلنے سے پہلے چلے۔
مزدلفہ میں شب باشی کی حکمت ذکر اذکار کے علاوہ استراحت جسم بھی ہے تھوڑی دیر آرام لینے سے گزشتہ دن کی تھکن دور ہو جاتی ہے اور دوسرے دن کی عبادت کے لئے قوت بھی آجاتی ہے اور مشعر الحرام کے وقوف کی حکمت وہی ہے جو وقوف عرفہ کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فضائل مدینہ منورہ