kashmir

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی، پس منظر میں کیوں؟دانشوروں کا سوال

EjazNews

ejaznews کے تحت کئے گئے ایک سروے میں بین الاقوامی امور کے ماہرین اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے ریسرچ سکالرز نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دنیا کی تاریخ میں آزادی کے لئے قربانیاں دینے والی تحریکوں میں ابھرنے والی سب سے نمایاں تحریک قرار دیا ہے
تاہم اس امر پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ عہد حاضر کی تاریخ میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو بوجوہ نظر انداز کر دیا گیا۔ ان ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان میں مختلف ادوار میں بننے والی اب تک کشمیر کمیٹیوں کی کارکردگی اور ان کے اخراجات کا آڈٹ کر کے منظر عام پر لایا جائے کیونکہ وہ دنیا میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے میں یکسر ناکام رہی ہیں۔ ان ماہرین کا کہنا ہے کہ کشمیریوں نے اپنی 60-70سالہ جدوجہد میں اب تک ایک لاکھ سے زائد افراد قربان کرائے۔اس وقت بھی 10ہزار افراد لاپتہ ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں گاہیں بگاہے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کےظلم و ستم کی بھیانک داستانیں منظر عام پر لاتی رہتی ہیں۔ عالمی اداروں کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 14ہزار عورتوں کی جبراً آبرو ریزی کی جا چکی۔ ایک عالمی تنظیم نے حال ہی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی جو رپورٹ مرتب کی ہے اس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع بارمولا میں 88فیصد، سری نگر میں 87فیصد اور اننت ناگ میں 73فیصد اور بٹ گرام میں 55فیصد خلاف ورزیاں کی گئیں جن میں بچوں پر بیلٹ گنوں کی فائرنگ، گھروں میں گھس کر عورتوں کی آبروریزی ، گھروں کو آگ لگانا، اور دوسرے انسانیت سوز مظالم کا ارتکاب شامل ہے۔جبکہ ہندوئوں اور بدھ مت کے اکثریتی علاقوں میں یہ شرح صرف 3فیصد ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں خواتین کو یہ کہہ کر کہ انہوں نے کپڑوں کے پیچھے اسلحہ چھپایا ہے انہیں سب کے سامنے برہنہ ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ سمری عدالتیں لگا کر انہیں سزائے موت سنا دی جاتی ہے۔ ہیومن رائٹس کمیٹی نے چند سال قبل ایک مشترکہ قبر کی نشاندہی کی تھی جس میں 2730لاشیں تھیں۔
ejaznews سروے میں پاکستانی ماہرین اور دانشوروں نے حکومت پاکستان سے یہ سوال کیا ہے کہ اتنی بے بہا قربانیوں اور انسانیت سوز مظالم کے باوجود اگر اسلامی ممالک کی اکثریت بھارتی نقطہ نظر کی حامی ہے اور بھارت اپنے جرائم کو چھپانے میں کامیاب رہا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ اگر آج بھی کشمیریوں کی جنگ ، بیدلی سے لڑی گئی تو وہ کشمیری نوجوان ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے جو ہاتھ میں پاکستانی جھنڈا تھامے ، بھارتی سکیورٹی فورسز کا نشانہ تو بن جاتے ہیں لیکن پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے سے باز نہیں آتے۔

یہ بھی پڑھیں:  ٹک ٹاک انتظامیہ کا موقف بھی سامنے آگیا، اسلام آباد ہائیکورٹ بھی کیس کو سنے گی