parliman house

قومی اسمبلی و سینٹ کشمیر بنے گا پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھی

EjazNews

مقبوضہ کشمیر میں انڈیا کی جانب سے اٹھائے گئے اقدام پر قومی اسمبلی اور سینیٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی اقدام کی پاکستان میں بھرپورمذمت کی گئی اورمقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت نےبھارتی اقدام کوتسلم نہیں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار نے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ کردیا، مقبوضہ کشمیرکی حیثیت تبدیلی کےاقدام کی بھارت میں بھی مخالفت کی گئی اور بھارت کے اس اقدام سے مسئلہ کشمیر ایک بار پھر توجہ حاصل کرچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارتی فیصلے نے تمام کشمیری دھڑوں کو متحد کردیا ہے اور مودی سرکارکے فیصلے کے بعد بھارت نواز کشمیری اپنے ماضی پر پچھتا رہے ہیں اور بھارت خوداقوام متحدہ میں کشمیریوں سےحق خودارادیت کاوعدہ کرچکا ہے۔ان کا کہنا تھا وزیر اعظم عمران خان نے اس معاملے کو دیکھنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے اور قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم بھارت سے تجارت کو منسوخ کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کو وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی دیکھے گی۔ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں طویل مشاورت کے بعد 5 فیصلے کیے گئے جس میں پہلا فیصلہ اس ایوان کی آرا اور دونوں طرف کے اراکین کے جذبات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ہم بھارت سے سفارتی تعلقات کو محدود کررہے ہیں۔ ہم فی الفور بھارت سے دو طرفہ تجارت منسوخ کررہے ہیں اور بھارت کے ساتھ دو طرفہ تعلق پر نظر ثانی کا فیصلہ کیا ہے اور یہ کمیٹی اس کو دیکھے گی۔ کشمیریوں کی امنگ اور پاکستان کے تاریخی موقف کے مطابق فیصلہ کیا گیا ہے چونکہ انہوں نے تمام حدود کواز سرنو کھول دیا ہے تو ہم نے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اراکین میں ایک ہمارا پرانا اسٹریٹجک حلیف چین ہے جس کے ساتھ ہماری مشاوت ہوچکی ہے ۔

یہ بھی پڑھیں:  آسٹریلیا کیخلاف ون ڈے سیریز. قومی ٹیم یو اے ای پہنچ گئی

انہوں نے کہا کہ اس سال 14 اگست کو پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا دن منائے گی، ہم اپنی آزادی کا دن ان کے حق ارادیت، جذبہ اور تحریک سے منسلک کررہے ہیں اور ایک زبان ہو کر آزاد کشمیر، مقبوضہ کشمیر اور پاکستان کی گلی گلی، کوچہ کوچہ، کریہ کریہ گونج اٹھے گا کہ کشمیر بنے گا پاکستان۔جبکہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مشترکہ اجلاس میں کشمیر بنے گا پاکستان کے نعرے بھی لگائے جس کا تمام اراکین نے پرجوش جواب دیا۔
جبکہ کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سید فخرامام نے ایوان کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی اقدامات کے خلاف مشترکہ قرارداد پیش کی۔سینیٹ اور قومی اسمبلی کے تمام اراکین نے قرارداد کو منظور کردیا۔