asif-zardari

سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنا دوسرا بڑا واقعہ ہے:آصف علی زرداری

EjazNews

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا واقعہ دوسرا بڑا سانحہ ہے، اس مسئلےکو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کو جاننا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی تو بنی ہی کشمیر پر تھی۔ ہم نے جنگ جیتی بھی اور ہاری بھی ان مسائل میں میں نہیں جانا چاہتا کہ کیسے ہاری اور کیسے جیتی ۔شہید بھٹو نے حکمت عملی اختیار کی ، اندرا گاندھی سے پاکستان کی زمین واپس لی۔
ان کا کہنا تھا کہ سانحہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا واقعہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔کیا انڈیا کو پاکستان کی اندرونی صورتحال کا اندازہ نہیں ہے، کیا ان کو ہماری معیشت کے بارے میں نہیں معلوم۔ سب کچھ جانتے ہیں انٹیلی جنس رپورٹس ہوتی ہیں۔ انٹرنیٹ پر سب کچھ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا میں نے کشمیریوں سے ملاقاتیں کی ہیں وہ زندہ دل لوگ ہیں۔ اگر خدانخواستہ میرے وقت میں یہ ہوتا تو میری پہلی فلائٹ ہوتی ابوظہبی، دوسری چین اور تیسری روس اور واپسی پر ایران سے آتا اور ان سے سپورٹ لیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج بھی یہی فارمولا ہے کہ ہمیں دوستوں کو پھر ملانا ہے، چین کے لوگ بہت مختلف ہیں، بدقسمتی سے آپ عملی طور پر ان کی بے عزتی کر رہے ہیں۔آپ دوسرے لوگوں کی بے عزتی کررہے ہیں اس لیے کوئی آج آپ کے ساتھ کھڑا نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا عوام ہمارے ساتھ کھڑی ہیں، آپ کے ساتھ نہیں ہے۔مان لیا آپ نے ہم سیٹیں جیتی ہیں جس طرح بھی جیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے ان کشمیری بھائیوں پر جنہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں تحریک پیش کی، فخر ہے ہمیں ان کشمیری بھائیوں اور بہنوں پر جو اپنی میتوں کو بھی پاکستانی پرچم لپیٹ کر دفناتے ہیں۔کسی کی مجال نہیں ہے کہ کوئی ہمارے ہاں ایسا کر سکے ۔ وہ دن دیہاڑے پاکستانی پرچم لے کر نکلتے ہیں ، بیلٹ گنوں سے ان پر فائر کیا جاتا ہے ، لیکن وہ نکلتے ہیں۔ کشمیر میں کوئی ایسا گھر نہیں ہےجہاں شہادتیں نہ ہوئی ہوں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ کا باڈی گارڈ آپ کے کہنے پر گولی نہیں چلائے گا، آپ کا باڈی گارڈ اس وقت گولی چلائے گا۔ جب آپ پر گولی چلےگی۔
سابق صدر آصف زرداری کا کہنا تھاکہ مودی اور واجپائی کی پارٹی نے نہرو اور گاندھی کے سیکولر انڈیا کی سوچ کہیں دفن کر دی ہے۔ تاریخ لکھی جارہی ہے اور لکھی جائے گی چاہے ہم ہوں یا نہ ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  8 ہزار روپے پر نیب کا ملازم شہزاد اکبر عدلیہ کو لیکچر دیتا ہے:جسٹس فائز عیسیٰ