Quad i azam

قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دور اندیشی

EjazNews

1935ءمیں قائداعظم محمد علی جناحؒ اور بابو راجندر پرشاد نے فرقہ وار انہ معاملات میں ہندو مسلم اتحاد کے لئے گفت و شنید کی تھی ۔ کچھ مدت کے بعد اعلان ہوگیا تھا کہ یہ گفت و شنید کامیاب نہیں ہو سکی۔ بابو راجندر پرشادہندو مسلم فارمولے پر رضا مند ہو گئے تھے لیکن وہ اس فارمولے پر ہندو مہاسبھا کے لیڈروں سے دستخط حاصل نہ کر سکے جن کے دستخطوں کا قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اصرار کیا تھا جن میں سے پنڈت مدن موھن مالویہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ لہٰذا یہ معاملہ ختم ہوگیا۔لیکن یہ معاملہ تھا کیا اس کو جاننا بہت ضروری ہے۔ آئیے جانتے ہیں۔
قائداعظم محمد علی جناحؒ کی دوراندیشی:
اس وقت کے بعض اخبارات نے ان مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری قائداعظم محمد علی جناحؒ پر ڈالنے کی ناکام سعی بھی کی تھی۔ حالانکہ اس کے لئے کوئی وجہ اور بنیاد و اساس موجود نہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ ہندوﺅں کی ”کانگرسیت اور مہاسبھائیت“ میں قطعاً کوئی حد فاصل نہیں ۔ وہ جب کوئی اپنی خاص فرقہ پرستانہ غرض پوری ہوتے دیکھتے ہیں تو کانگریسی بن جاتے ہیں جب انھیں مسلمانوں کے کسی جائز مقصد کی مخالفت منظور ہو اور کانگریس کے پلیٹ فارم پر وہ کھل کر مخالفت نہ کر سکتے ہوں تو جھٹ مہاسبھائی بن جاتے ہیں۔ لہٰذا اگر قائداعظم محمد علی جناحؒ نے ان ذوی الحیاتین ہندوﺅں یا شتر مرغ کی وضع کے ہندوﺅں کے دستخطوں پر اصرار کیا تو وہ بالکل حق بجانب تھے اور یہ ان کے انتہائی تدبر اور انتہائی سیاسی دور اندیشی کا ثبوت تھا۔ جو آج پوری دنیا دیکھ رہی ہے۔
ہزار شیوہ مالوی:
کسے معلوم نہیں کہ پنڈت مالوی جی نے کیا کیا رنگ بدلے؟ جب ترک موالات کی تحریک زوروں پر تھی تو مالوی جی قطعی بائیکاٹ کے خلاف تھے، لیکن کیا کسی ذمہ دار ہندو کانگریسی کا ایک بیان بھی ایسا پیش کیا جاسکتا ہے جس میں پنڈت مالوی جی کی اس روش کی مخالفت کی گئی ہو۔ علی گڑھ کالج پر ترک موالات کی زد پڑ چکی تھی، اسلامیہ کالج بھی محفوظنہیں رہا تھا اور مسلمانان ہند کے یہی بڑے تعلیمی مرکز تھے، لیکن بنارس یونیورسٹی پنڈت مالوی جی کے سایہ میں ہر زد سے محفوظ رہی اور کسی گاندھی کو اس پر دھاوے کا خیال تک نہ آیا، جب گاندھی جی قید ہو گئے تو پنڈت مالوی جی ہندوﺅں کے لیڈر بن گئے اور اس دیکھا گیا کہ تمام ہندو کانگریسی اس بات کو قطعاً بھول چکے تھے کہ مالوی جی نے کانگریس کے پروگرام کی مخالفت کی تھی۔
شدھی اور سنگھٹن:
اس کے بعد مالوی جی نے سنگھٹن اور شدھی کی تحریکات جاری کر دیں جن کی وجہ سے مختلف اقوام میں کشمکش انتہائی حد پر پہنچ گئی، لیکن کسی ہندو کانگریسی کو یہ خیال نہ آیا کہ مالوی جی کی مخالفت ضروری ہے بلکہ عملاً سب مالوی جی کے مرید تھے، اگر چہ گاندھی جی کی پیروی کے دعویدار تھے۔ 1926ءمیں مالوی جی نے سوراجیہ پارٹی کیخلاف ایک نئی پارٹی کھڑی کر دی ۔ سوراجیہ پارٹی کا گناہ محض یہ تھا کہ اس کے لیڈر دیشی بندھو داس فرقہ وار انہ معاملات میں انصاف پر کاربند تھے اور انہوں نے بنگال میں میثاق بنگال کے ذریعہ سے مسلمانوں کے جائز حقوق کی حفاظت کا اعلان کردیا تھا۔ کانگریس کی مخالفت کایہ سلسلہ نہرو رپورٹ تک جاری رہا۔
نہر و رپورٹ:
نہرو رپورٹ چونکہ مالوی جی کے ہندوانہ مقاصد کے عین مطابق تھی، لہٰذا وہ اس وقت سے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور اگرچہ انہوںنے بعد ازاں بھی ہر مقام پر اپنی وہی روش قائم رکھی، لیکن گاندھی جی نہ محض مالوی جی کے انتہائی مداح رہے بلکہ سب کام ان کے مشورے سے کرتے رہے، حتیٰ کہ وزیراعظم کو فرقہ وارانہ معاملات میں ثابت بنانے کے لئے مالوی جی نے جو درخواست کی تھی اس کی تائید میں بھی گاندھی جی نے قطعاً تامل نہ کیا۔
کانگریس اور مالوجی جی:
جب کانگریس نے سول نافرمانی کو چھوڑ کر مرکزی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا تو مالوی جی پھر کانگریس کے مخالف بن گئے اس لئے کہ مالوی جی کے دعوے کے مطابق کانگریس نے فرقہ وارانہ فیصلے کے متعلق ”غیر جانبداری“ کا اعلان کیا تھا اور مالوی جی چاہتے تھے کہ کانگریس فرقہ وارانہ فیصلے کی شدت مخالفت کو اپنا دستور العمل بنائے۔ مالوی جی نے مسٹر اینے کو ساتھ ملا کر کانگریس کے خلاف جابجا امیدوار کھڑے کئے، لیکن کانگریس نے گاندھی جی کی قیادت میں یہ فیصلہ کیا کہ مالوی جی اور مسٹر اینے کی مخالفت نہ کی جائے۔ گزشتہ انتخابات میں بھی مالوی جی کانگریس کے ساتھ نہ رہے لیکن جب مرکزی اسمبلی میں یو ۔ پی کی ایک ہندونشست خالی ہوئی تو کانگریس نے جھٹ مالوی جی کے لئے یہ نشست خالی کر دی۔
راجندر بابو کی چال:
ان حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناحؒ نے اگر مالوی جی اور ان کے رفیقوں کے دستخطوں پر اصرار کیا تھا تو کیا ان کا یہ اصرار ہر اعتبار سے درست نہ تھا۔ بابو راجندر پرشاد یا کوئی اور دوسرا کانگریسی مالوی جی کی کانگریس سے نسبت کو کیا سمجھتا ؟ کیا بابو راجندر پر شاد کا مدعا یہ تھا کہ مسلمان کانگریس کے بھروسہ پر فرقہ وارانہ فیصلے سے دستبردار ہو جاتے ۔ دست برداری کے بعد مالوی جی ہندو قوم کو ساتھ لے کر مقابلے کے لئے میدان میں آجاتے اور گاندھی جی یا کانگریسی یہ کہہ کر اپنے مانے ہوئے فارمولے سے الگ ہو جاتے کہ ان کی بات کوئی نہیںسنتا۔ کیا یہ معلوم نہیں ہے کہ اس سے پیشتر بھی گاندھی جی نے ہندوﺅں کی غلط اور غیر منصفانہ روش کی اصلاح کے مطالبہ کا جواب انہی لفظوں میں دیا تھا۔
1935ءمیں کانگرسیوں سے پوچھا جانے والا سوال:
کانگریسوں سے پوچھتے ہیں کہ 1935ءمیں ان کے نزدیک مالوی جی کیا تھے ؟ کانگریسی یا مہا سبھائی؟ اگر کانگریسی تھے تو انہوں نے فارمولے پر دستخط سے انکار کیوں کیا تھا ؟ اگر وہ مہا سبھائی تھے تو پھر کانگریس نے مرکزی اسمبلی کے انتخاب میں ان کے اور مسٹر ایلے کے مقابلے سے انکار کس بنا پر کیا تھا اوران کے روسخ و استحکام کے لئے بار بار گنجائش کس لئے پیدا کی تھی؟ یہ عجیب بات ہے کہ مالوی جی جو چاہیں کریں سارے ہندو انہیں کانگریسی سمجھ رہے ہیں، لیکن فرقہ وارانہ مفاہمت کے فارمولے پر دستخطوں کا وقت آیا تو مالوی جی مہا سبھائی بن گئے اور بابو راجندر پرشاد کو ایک لمحہ کے لئے بھی خیال نہ آیا کہ یہ طرز عمل کانگریس کے لئے اور مالوی جی کے لئے حد درجہ باعث ننگ و عار ہے۔
ہندو مسلم کا امتیاز:
بابو راجندر پرشاد کے بیان سے زیادہ سے زیادہ یہی ثابت ہوتا ہے کہ 1935ءوالا فارمولا صرف اس وجہ سے ناکام رہا کہ مالوی جی یا ان کے چند خاص رفقا اس پر دستخطوں کے لئے تیار نہ ہوئے لیکن بابو راجندر پرشاد یا گاندھی جی یا پنڈت جواہر لعل نہرو بتلائیں کہ 1935ءسے لے کر آج تک انہوں نے مالوی جی کے ساتھ کیا سلو ک کیا، کیا انہیں کانگریس سے علیحدہ کیا؟ کیا ان کے خاص اعزاز و ااکرام کی شرمناک روش ترک کی۔ پنڈت نہرو قائداعظم محمد علی جناحؒکی مخالفت میں خدا جانے کتنے بیان شائع کر چکے تھے لیکن کیا ان کا کوئی بیان پنڈت مالوی جی کی مخالفت میں شائع ہوا؟ پھر کیا ہندوﺅں کیلئے ہر غداری جائز ہے اور مسلمانوں کے لئے اپنے حقوق کی جائز حفاظت کی جدو جہد بھی جائز نہیں؟
مالوی جی کی قربانیاں:
گاندھی جی کہا کرتے تھے کہ مالوی جی نے وطن کے لئے بہت قربانیاں دی ہیں۔ ہم گاندھی جی سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ ہندوستان کا کونسا فرد قربانیوں کی و سعت اور عظمت میں مولانا محمد علی کا مقابلہ کرسکتا ہے، لیکن کیامولانا محمد علی کے ساتھ اختلاف رائے کی حالت میں کانگریس نے یا گاندھی جی نے وہی سلوک روا رکھا تھا جو مسلسل و متواتر مالوی جی کے ساتھ روا رکھا گیا؟ فرقہ پرستی اسی کا نام ہے، ہندویت کو وطنیت اور انصاف پر مقدم رکھنا اسی کو کہتے ہیں ، لیکن گاندھی جی بایں ہمہ وطن پرست ہیں، پنڈت نہرو بایں ہمہ وطن پرست ہیں، مالوجی بایں ہمہ وطن پرست ہیں، البتہ مسلمان مستحق مذمت ہیں، یہ کہاں کا انصاف اور کہاں کی دیانت ہے؟
پنڈت نہرو:
پھر پنڈت نہرو کی روش اب کیا تھی؟ یہ کہ کسی اقلیت کے حقوق کا سوال نہیں اٹھانا چاہیے، اگر اٹھایا جائے گا تو کانگریس اس پر متوجہ نہ ہوگی، کیوں؟ محض اس لئے کہ پنڈت مالوی نے 1935ءمیں ایک فارمولے سے انکار کر دیا تھا اور پنڈت جواہر لعل جانتے ہیں کہ ہندو کوئی ایسا فارمولا قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو ہندوﺅں کی خواہش اقتدار عامہ میں یا ہندو راج کے قیام میں موجب خلل و انتشار ہو۔ حددرجہ مذموم اور باعث صد ننگ و عار فرقہ پرستی یہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنے حقوق کی حفاظت کا مطالبہ کیا تو پنڈت نہرو اسے پس پشت پھینکنے کے لئے عامتہ المسلمین کے ساتھ تعلق کا ڈھونگ رچا بیٹھے، لیکن ہندوﺅں کو عہدے قبول کرنے ضروری معلوم ہوئے تو پنڈت نہرو اپنی دوتین برسوں کی تقریروںڈ پر یک قلم خط نسخ کھینچتے ہوئے یہ کہہ کر عہدوں کے حامی بن گئے کہ عوام کی خواہش یہی ہے۔ مسلمان جو کچھ کہیں وہ اگر ہندوﺅں کو منظور نہ ہو تو پنڈت نہرو کے نزدیک اسلامی رائے عامہ کا آئینہ نہیں، لیکن ہندو جو کچھ کہیں وہ بلا تامل رائے عامہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جتنا وقت قیمتی ہے اس سے زیادہ بچے