Earfat

عرفات سے واپسی

EjazNews

ظہر کے بعد سے غروب آفتاب تک میدان عرفات میں وقوف اور ذکر و دعا وغیرہ سے فارغ ہو کر سورج چھپ جانے کے بعد مزدلفہ کی طرف چلو۔ غروب سے پہلے مت چلو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ عرفات کے میدان سے آفتاب کے غروب ہونے سے پہلے ہی چل پڑتے تھے جب کہ سورج لوگوں کے سامنے چمکتا رہتا اور مزدلفہ سے طلوع آفتاب کے بعد جب کہ آفتاب لوگوں کے سامنے چمکتا رہتا چل پڑتے تھے۔ ہم میدان عرفات سے غروب آفتاب کے بعد چلیں گے اور مزدلفہ سے طلوع آفتاب سے پہلے واپس ہوں گے۔ ہم مشرکین اور بت پرستوں کے غلط راستہ کے خلاف صحیح راستہ کی طرف رہنمائی کئے گئے ۔ (بیہقی)
چلنے کی کیفیت
عرفات سے مازمین کے راستہ سے مزدلفہ کو لبیک اور ذکر الٰہی کرتے ہوئے نہایت سکون و وقار اور اطمینان کے ساتھ درمیانی رفتار چلو، نہ کسی کو دھکا دو نہ گراﺅ اور نہ سواریوں کو ماروپیٹو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفات سے مزدلفہ جانے لگے تو راستہ میں اپنے پیچھے لوگوں سے سنا کہ لوگ اونٹوں کو مارپیٹ کر تیز چلاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا
ترجمہ: لوگو! اطمینان سے چلو، اونٹوں کو دوڑانے میں کوئی بھلائی نہیں ہے۔
(آج کل موٹر اور ٹرک چلانے والوں کے لئے بھی یہی حکم ہے)
کھلی جگہوں اور کشادہ میدانوں میں سواریوں کے تیز چلانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں کچلنے وغیرہ کا اندیشہ نہیں ہے۔ حضرت اسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
ترجمہ: جب عرفات سے چلتے تو آہستہ رفتار سے چلتے اور جب کشادہ میدان میں آتے تو سواری تیز کر دیتے۔ (بخاری)
چلتے چلتے اگر راستہ میں پیشا ب و پائخانہ کی ضروتر پیش آجائے تو اتر کر ان ضرورتوں کو پور ا کر لو۔ راستہ میں نمازیں مت پڑھو ۔ بلکہ مزدلفہ پہنچ کر نماز ادا کرو اور حضرت اسامہ بن زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے تشریف لے جارہے تھے راستہ میں اتر کر پیشاب کر کے وضو کیا میںنے عرض کیا نماز پڑھ لیجئے۔ آپ نے فرمایا ”الصلوة امامک“ نماز آگے پڑھیں گے مزدلفہ میں آکر مغرب و عشاءکی نماز ادا فرمائی (بخاری)۔ راستہ میں ذکر الٰہی کرتے ہوئے آﺅ ۔(مغنی)

یہ بھی پڑھیں:  آب زمزم