parliman house

اگر جنگ ہوئی تو ہم خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوں کہا ہے کہ بھارت نے جو فیصلہ کیا اس کے اثرات پوری دنیا پر ہوں گے، یہ بہت اہم ہے کہ تحمل سے سنیں کہ آج یہاں سے بہت اہم پیغام جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میری حکومت کی اولین ترجیح تھی کہ پاکستان میں غربت کو ختم کیا جائے اس کے لیے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کیے جائیں کیونکہ عدم استحکام کے اثرات شرح نمو پر مرتب ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں نے تمام پڑوسیوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ خطے میں سرمایہ کاری آئے گی تو غربت کا خاتمہ ہوگا، میں نے بھارت سے رابطہ کیا کہ آپ ایک قدم ہماری طرف بڑھائیں گے ہم دو بڑھائیں گے، افغانستان، چین اور دیگر ممالک کا دورہ کیا اور حال ہی میں امریکہ کا دورہ کیا۔امریکہ کا دورہ اسی کوشش کی کڑی تھی کہ ماضی میں جو بھی مسائل تھے وہ ختم ہوں تاکہ پاکستان کو استحکام ملے، ترقی ملے اور غربت کا خاتمہ ہوسکے۔وزیر اعظم نے کہا کہ نریندر مودی نے پاکستان میں دہشت گردوں کی موجودگی کے خدشات کا اظہار کیا تھا، ہم نے انہیں سمجھایا کہ 2014 میں سانحہ آرمی پبلک سکول ہوا تو تمام سیاسی جماعتوں نے نیشنل ایکشن پلان (نیپ) منظور کیا تھا کہ پاکستان کی زمین کو کسی دہشت گرد گروہ کی جانب سے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا لیکن وہ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے تھے، اس کے بعد پلوامہ واقعہ ہوا۔ پلوامہ میں نریندر مودی کو سمجھایا کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں تھا، لیکن اس وقت بھارت میں انتخابات تھے اور انہیں کشمیر میں ہونے والے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانی تھی۔ بھارت کا مقصد جنگی جنون اور پاکستان مخالف جذبات پیدا کر کے الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا تھا، بھارت نے ڈوزیئر بعد میں بھیجا طیارے پہلے بھیجے اور پاک فضائیہ نے بھرپور جواب دیا، ہم نے ان کا پائلٹ پکڑا تو یہ بتانے کے لیے رہا کیا کہ ہم جنگ نہیں چاہتے۔اس کے بعد ہم بھارتی انتخابات تک خاموش ہوگئے، بشکیک میں منعقد کانفرنس میں بھارت کا رویہ دیکھ کر ہمیں احساس ہوا کہ وہ ہماری امن کی کوششوں کو غلط سمجھ رہے ہیں ،اسے ہماری کمزوری سمجھ رہے ہیں، اس لیے ہم نے مزید بات چیت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دو طرفہ طور پر یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ رہا اور برصغیر میں مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ایک ارب افراد متاثر ہورہے ہیں اس لیے امریکی صدر سے ملاقات میں بات کی کہ وہ ثالثی کا کردار ادا کریں اور بھارت کا رد عمل آپ کے سامنے تھا۔اس حوالے سے مجھے جو شبہ تھا وہ کل سامنے آگیا۔
انہوں نے جو کیا وہ یونائیڈ اسمبلی کے مخالفت ہے وہ شملہ معاہدے کی مخالفت ہے۔ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے۔ سارے انٹرنیشنل اور نیشنل قوانین کی خلاف ورزی کی ۔وہ مکمل طور پر اپنی آئیڈیالوجی پر چل رہے ہیں ۔ انہوں نے قانون پاس کر دیا ۔انہوں نے پانچ سال سے جو آئیڈیالو جی اپنائی ہوئی ہے اس کے تحت انہوں نے آزادی کی تحریک کو مزید دبانا ہے۔وہ پانچ سال سے جو ان پر ظلم کررہے ہیں ،اب یہ تحریک اور شدت پکڑے گی اور لیول پر چلی جائے گی۔ یہ ہم سب کو سمجھنا ہے کہ یہ بڑا اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ یہ انہیں اپنے برابر کے انسان نہیں سمجھتے اگروہ انہیں اپنے برابر کے انسان سمجھتے تو وہ لوگوں کو اپنے برابر لے کر آتے وہ انہیں تباہ کرنے کی کوشش کریں گے جب وہ ایسا کریں گے تو پلوامہ جیسے حملے ہوں گے۔ میں آج کہہ رہا ہوں کہ پلوامہ جیسے بہت سے حملے ہوں گے ۔پھر انہوں نے کہنا ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی آئی سب کو معلوم ہے کہ اس دہشت گردی سے پاکستان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ مجھے خوف ہے۔ انہوں نے کشمیر کو مزید دبانا ہے ایتھنک کلنگ کرنی ہے اور پھر پاکستان کو بلیم کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پلوامہ حملے کے بعد سپیکر صاحب ہمارا نقصان ہوتا تو ہماری ائیر فورس نے بھی ٹارگٹ کیا ہوا تھا۔ لیکن دو نیوکلیئر پاور ایسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتی۔لیکن میں دیکھ رہا ہوں ان کے اندر تکبر ہے، یہ اپنے تکبر میں کچھ کر سکتے ہیں۔انہوں نے ایکشن لینا ہے اور ہم نے جواب دینا ہے اور یہ ہوکیسے ہوسکتا ہے کہ یہ حملہ کریں گے تو ہم جواب نہ دیں۔ اس کے بعد کیا ہو گا ،وار ہو گی اور اس کے دو نتیجے نکل سکتے ہیں ۔ہو سکتا ہے ہم ہاریں یا جیتیں گے۔اس کے بعد ہمارے پاس دو راستے ہوں گے، ایک ٹیپو سلطان کا اور دوسرا بہادر شاہ ظفر کا اور ہم خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے۔ جب ہم خون کے آخری قطرے تک جنگ لڑیںتو اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس سے صرف ہمارا گردونواں نہیں بلکہ دنیا بھی متاثر ہو گی۔
وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ یہ جو حرکتیں کر رہے ہیں یہ وہی حرکتیں جو نازی پارٹی کرتی تھی۔ انہوں نے ہندوستان کی اپوزیشن کو دیوار کے ساتھ لگا دیا ہے۔اور ہر وہ کام کیا جو نازی پارٹی کرتی تھی۔انہوںنے بھارت کی ساری سیکولر ازم کو دیوار سے لگا رہے ہیں یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جس نے مہاتما گاندھی کو قتل کیا۔ اگر ان کو آج نہیں روکا گیا تو پھر ہم ذمہ دارنہیں ہوں گے۔ ایسا نہ ہو جب ہٹلر کو روکنے کا وقت تھا تب اس سے بات چیت ہوتی رہی ہوں ۔
ان کا کہنا تھا ہم ہر فورم پر کشمیر کیلئے لڑیں گے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ انٹرنیشنل کورٹ میں کیسے جا سکتے ہیں، ہم دنیا کے ہیڈ آف سٹیٹ سے بات کریں گے۔ آج مغربی دنیا جن اصولوں پر کھڑی ہے ۔ یہ حرکت ان تمام اصولوں کی نفی ہے۔کشمیر یوں کے ساتھ سارے پاکستان کی نہیں دنیا کی آواز ہے ۔ میں مغرب کو بڑی اچھی طرح سے جانتا ہوں ۔ان کو نہیں معلوم کہ کشمیر پر کتنا ظلم ہو رہا ہے۔ ان کو پتہ ہی نہیں کشمیر میں کیا ہو رہا ہے، ہمارا کام ہے ہم اس کو دنیا میں اٹھائیںگے ۔یہ چاہتے ہیں ہم ان کو سپیئر ئیر مانیں لیکن یہ ہو نہیں سکتا کہ ہم ان کو سپیرئیر مانیں ۔

یہ بھی پڑھیں:  جے آئی ٹی نے سانحہ بلدیہ ٹاﺅن سے متعلق کیا سفارشات کیں تھیں؟

کشمیر کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس شروع ہو چکا ہے۔ یہ پارلیمانی اجلاس بہت اہمیت کا حامل ہے۔
اجلاس کی ابتداءمیں اعظم سواتی نے ایجنڈا پڑھ کر سنایا ۔ اس کے بعد شیری مزاری کو بولنے کا کہاگیا جس پر اپوزیشن نے ہنگامہ آرائی کی اور اجلاس کو 20منٹ تک ملتوی کرنا پڑا۔

یاد رہے مقبوضہ کشمیرکی صورتحال پربھارتی پارلیمنٹ کااجلاس ہوا، جس میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی بھی شریک ہوئے۔بھارتی وزیرداخلہ امیت شاہ نے مقبوضہ کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی ایک کے سوا تمام شقیں ختم کرنے کا اعلان کردیا ہے۔بھارتی وزیرداخلہ نے کشمیر کی نیم خودمختاری ختم کرنے کا بل پیش کردیا، تجویز کے تحت غیر مقامی افراد مقبوضہ کشمیر میں سرکاری نوکریاں حاصل کرسکیں گے اور آرٹیکل370 ختم ہونے سے مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوجائےگی۔

بھارتی صدر نے بھی آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بل پر دستخط کر دئیے ہیں اور گورنر کاعہدہ ختم کرکے اختیارات کونسل آف منسٹرز کو دے دیئے، جس کے بعد مقبوضہ کشمیرکی خصوصی حیثیت ختم ہوگئی۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی میں رین ایمرجنسی نافذ