heat attack

ہارٹ اٹیک سے ہر سال ہزاروں لوگ انتقال کر جاتے ہیں

EjazNews

برطانوی ماہر کے مطابق سال بھر میں کم و بیش 10لاکھ لوگ سینے میں درد کی شکایت لے کر طبی معائنے کے لیے ہسپتالوں کا رخ کر تے ہیں مگر ان میں صرف 12سے 17فیصد مریضوں کو دل کے دورے کی شکایت ہوتی ہے ان مریضو ں کو طرح طرح کے ٹیسٹوں کا مشورہ دیا جاتا ہے جو انہیں کم و بیش 24گھنٹے تک الجھائے رکھتا ہے۔ لیکن اب سائنسدانوں نے ایک ایسا ٹیسٹ تیار کرلیا ہے جو ان کو 12منٹ میں تیار ہونے والے ٹیسٹ کی خبر دے گا۔ یہ کوئی معجزہ نہیں بلکہ طویل تحقیق کا نتیجہ ہے۔ نیشنل ہیلتھ سسٹم سے وابستہ ڈاکٹروں کے مطابق اس وقت ڈاکٹر سی اے آر ڈی آئی اے سی ۔ ٹی آر این ائی این کی موجودگی کا ٹیسٹ کرتے ہیں ۔ پروٹین کی یہ خاص قسم ہارٹ اٹیک سے متاثرہ پٹھوں میں سے نکلتی ہے۔ پروٹین دل سے نکل کر سینے کے متاثرہ پٹھوں تک پہنچنے میں 3گھنٹے لیتی ہے چنانچہ یہ ٹیسٹ 3گھنٹے سے لینے سے پروٹین کی مقدار کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس عرصے میں پروٹین کی اتنی مقدار جمع ہو جاتی ہے جس سے ہارٹ اٹیک کی تشخیص میں مدد مل سکتی ہے۔ نئے تجربات میں سائنسدانوں نے ایک بنیادی قسم کی پروٹین کا پتہ چلایا ہے۔ ہارٹ اٹیک کے پٹھوں میں یہ پروٹین زیادہ مقدار میں پائی جاتی ہے۔ کنگز رجسٹرڈ کے سپیشل رجسٹرار ٹام کرائر نے اپنے تجربات کی کامیابی کا اظہار کرتے ہوئے مزید تجربات کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید بہتر طور پر 12گھنٹے کے اندر ہارٹ اٹیک کی تشخیص ہو جائے گی۔
برٹش ہارٹ فاﺅنڈیشن کے میڈیکل ڈاکٹر سر سلیش مانی نے اس کی مزید وضاحت کرتے ہوئے ہارٹ اٹیک کی تشخیص میں انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بون میں پروپو پین نامی پروٹین کی مقدار میں کمی ہونے کی صورت میں ہارٹ اٹیک کے اندیشوں کو نظر انداز کر نا درست نہیں۔ لیکن اب یہ تحقیق کرنا باقی ہے کہ بلڈ ٹیسٹ کس حد تک مو¿ثر اور درست نشاندہی کر سکتا ہے۔ اس سے لوگوں کو اندھا دھند لائف سیونگ ڈرگ کھانے سے نجات مل جائے گی۔ ہارٹ اٹیک یوں ہی نہیں ہوتا ،لیکن بہت سے ڈاکٹر ان علامتوں کو سمجھ نہیں پاتے اور غیر متعلقہ دوائیں دے کر وقت ضائع کر دیتے ہیں۔ غلط تشخیص 15سے 16فیصد اموات کا سبب بن سکتی ہیں۔ برٹش ہارٹ فاﺅنڈیشن کی تحقیق سے ہارٹ ٹیک سے بچا جا سکتا ہے اگر ڈاکٹر بروقت صحیح تشخیص کرنے میں کامیاب ہو جائے۔
امپریل کالج لندن کے سائنسدانوں نے برطانیہ میں 2006ءسے دل کے ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کا تجزیہ کیا ۔ خاص طور پر ان مریضوں پر تحقیق کی جو ہسپتال میں داخل ہونے کے بعد 28دن کے اندر اندر زندگی کی بازی ہار گئے۔ ہارٹ اٹیک نے انہیں خبردار کیا تھا۔ سانس کا اکھڑنا ، بے ہوشی یا سینے میں درد کی علامتیں مریضوں میں پائی گئیں۔ ہارٹ اٹیک ایک مہینہ پہلے تک کچھ مریضوں میں یہ علامتیں موجود تھیں۔ ان محققین نے انکشاف کیا کہ ہارٹ اٹیک ایک ماہ تک انہیں خبر دار کرتا رہا لیکن وہ یہ سمجھ نہ سکا کہ سانس کے اکھڑنے سے یا سینے میں درد یا بے ہوشی کی اصل وجہ وہ ہارٹ اٹیک ہے جو کچھ عرصے بعد انہیں ہونے والا ہے۔ اب مستقبل میں ڈاکٹروں کی تحقیق کا نقطہ یہی تحقیق ہے کہ ایک ماہ پہلے سامنے آنے والی ان علامتوں کی صحیح تشخیص کس طرح ممکن بنائی جائے کس طرح یہ پتہ چلایا جائے کہ سانس اکھڑنے کی اصل وجہ کیا ہے۔ ان محققین میں ایک اہم شخصیت ڈاکٹر پرویز ناصربھی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر تشخیص میں کوتاہی کے مرتکب نہ ہوں۔ ”ہارٹ اٹیک کی صورت میں داخلے کے بعدڈاکٹر مریضوں کو بہت اچھی اور معیاری طبی امداد مہیا کرتے ہیں۔ لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ تشخیص تو دل کا دورہ پڑنے سے پہلے ہونا چاہئے تھی“۔
برٹش ہارٹ فاﺅنڈیشن کے ڈاکٹر پروفیسر جیرمی پی این بی اسی نقطہ نظر کے حامی ہیں۔ انہوں نے ہسپتالوں کے ڈیٹا کو پیش نظر رکھتے ہوئے دیکھا کہ زیادہ تر مرنے والوں کی بڑی تعداد ایک ماہ سے ہسپتالوں کا چکر لگا رہے تھے دراصل ان میں ہارٹ اٹیک کی تشخیص ہی نہیں کی گئی۔“ ڈاکٹر جیرمی نے بتایا کہ وارننگ یا علامتوں کو نظر انداز کیے جانے کو تشویش ناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے نقطہ نظر پیش کیا ہے کہ ڈاکٹروں کو مزید چوکس ہونا چاہئے۔ ان کے محتاط ہونے سے علامتوں کو نظر انداز کرنے میں کمی آئے گی جن سے زندگیاں بچانے میں مدد ملے گی۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے مندرجہ ذیل چھ علامتوں کا زیادہ تحقیق کرنے کا مشورہ دیا۔ سینے میں درد: سینے میں کھچاﺅ: بھاری پن یا جلن
بازو میں درد : گردن ، جبڑوں ، کمر یا پیٹ میں درد کچھ افراد میں درد یا کچھاﺅ زیادہ ہوتا ہے جبکہ کچھ افراد اس کو تھوڑی سی بے اطمینانی محسوس کرتے ہیں۔ پسینہ آنا: سر ہلکا محسوس ہونا: سانس اکھڑنا یا شاق بریڈ:الٹی آنا یا سر چکرانا ۔

یہ بھی پڑھیں:  موٹاپے سے نجات آپ کی صحت کے لیے ضروری ہے
کیٹاگری میں : صحت