China Animal Grave yard

چین میں جانوروں کی قبریں بڑھتی جارہی ہیں

EjazNews

چین کی آبادی ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق ایک ارب تیس کروڑ ہے ۔ جس میں ہر تیسرے چینی شخص کو جانوروں سے محبت ہے ۔ پپٹ رکھنے کارجحان چینیوں کی جانوروں سے محبت کا عکاس ہے۔ ہر تیسرے چھوتے گھر میں کوئی نہ کوئی جانور موجود ہے۔ ایک اندازے کے مطابق پچھلے سال دسمبر تک چین میں دس کروڑ پالتو جانور رجسٹرڈ کروائے گئے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ ہر 13 ویں شخص نے جانور پال رکھا ہے۔ چین میں چھوٹے گھر انے ہونے کی وجہ سے دیکھا جائے تو ہر تیسرے چھوتے گھر میں جانور موجود ہے۔
چین کو اپنے جانوروں سے بہت پیار ہے۔ ان کو پالنے اور دیکھ بھال کے ساتھ ان کے دفنانے پر کافی پیسے خرچ کرتے ہیں۔ شنگھائی میں چینیوں نے پالتو جانوروں کے لیے بڑے بڑے قبرستان بنا رکھے ہیں۔ ایک قبرستان کے مالک نے بتایا کہ کم از کم پچیس فیصد پالتو جانور پھینکنے کی بجائے مٹی میں دبا دئیے جاتے ہیں۔صرف بیجنگ میں تیس لاکھ پالتو جانوروں کی وجہ سے انھیں دبانے کے لیے زیادہ سے زیادہ میدانوں کی ضرورت پڑ رہی ہے۔ 8سے 10 فیصد جانورہر سال مرتے ہیں یعنی کم از کم تین لاکھ جانوروں کودبانے کے لیے میدانوں کی ضرورت ہے۔
ایک قبرستان کے مالک کا کہنا تھا کہ شنگھائی میں جانوروں کو دبانے کے لیے میدانوں کے پھیلاﺅ میں 20 فیصد سالانہ کا اضافہ ہو رہا ہے۔ بیجنگ کی ایک بڑی سینٹیشن کمپنی نے ان پالتو جانوروں کواکٹھا کرنے اور عارضی طور پر جمع کرنے کے لیے851مقامات پر سٹوریج کی سہولیات بھی مفت مہیا کررکھی ہیں۔ اس کمپنی کو حکومت سرکاری خرچے پرچلا رہی ہے۔ تاہم اس کے علاوہ نجی شعبے میں بھی 10 بڑی تنظیمیں جانوروں کو مٹی میں دبانے کے شعبے میں کام کر رہی ہیں اور یہ کام اب ایک صنعت کے طور پرانجام پارہا ہے۔
ایک قبرستان کے مالک کا کہنا تھا کہ اس نے حال ہی میں یہ جگہ خریدی اور تھوڑے ہی عرصے میں چار ہزار جانورمٹی میں دبا دئیے گئے ہیں۔ اس نے بتایا کہ کتے کے لیے تابوت تقریباً ڈیڑھ سو ڈالر سے ڈھائی سو ڈالرمیں تیارہوتاہے جبکہ زیادہ بڑے اورچھوٹے سائز کے جانورکے لیے قیمت زیادہ بھی ہوسکتی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ پورے چین میں جانوروں کے قبرستان کی ایک ہی قیمت ہو۔ زمین کی گرانی اور عدم دستیابی کی صورت میں اس کی قیمتوں میں فرق ہو سکتا ہے۔ چین میں مہنگی ترین قبر 12 ہزار یان کی بھی ہو سکتی ہے۔ چین اگرچہ جانوروں کے تحفظ کی کئی عالمی تنظیموں اور اداروں کا رکن ہے لیکن اس کے باوجود وہاں ممنوعہ جانور جیسا کہ نایاب لومڑی پالنے پر بھی کوئی رکاوٹ نہیںہے۔

یہ بھی پڑھیں:  فیس بک کی ویڈیو کانفرنس سروس