Umer+Mehboba

ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے:محبوبہ مفتی

EjazNews

بھارت نے آرٹیکل 370ختم کرنے کے بعد پکڑ دھکڑ کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔کشمیرکی اعلیٰ ترین قیادت تو پہلے ہی نظر بند ہے یا پھر جیلوں میں قید ہے۔ سید علی گیلانی ، یاسین ملک اور میر واعظ عمرفاروق جیسے رہنما تو پہلے ہی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں ۔ اب ایسے رہنما جن کا کچھ جھکائوانڈیا کی جانب تھا آج وہ بھی پھٹ پڑے ہیں اور جب آرٹیکل 370کی تنسیخ کا سچ ان کے سامنے آیا تو سواے ماتھا پیٹنے کے اور کوئی چارہ نہ تھا۔ محبوب مفتی ، عمر عبداللہ جیسے کشمیریوں کو بھی نظر بند کر دیا گیا ہے۔ آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بعد گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے۔
محبوبہ مفتی جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے4 اپریل 2016 سے 19 جون 2018 تک وزیراعلیٰ بھی رہی ہیں اور یہی وزیراعلیٰ کو اپنی حیثیت کا اندازہ باخوبی ہو گیا ہوگا۔
جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے عمر عبداللہ 5 جنوری 2009 سے 8 جنوری 2015 تک مقبوضہ کشمیر کے وزیراعلیٰ رہے ہیں۔عمر عبدا للہ کانگریس کے دور میں وزیر اعلیٰ رہے ہیں جبکہ محبوبہ مفتی بی جے پی کے دور میں وزیراعلیٰ رہی ہیں۔
کشمیر میں غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ ہے ۔وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس معطل ہے اور تعلیمی ادارے بھی بند کردیئے گئے ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ آج کا دن بھارت کی جمہوریت کے لیے سیاہ ترین دن ہے، لگتا ہے بھارت کو کشمیر کا علاقہ چاہیے وہ یہاں کے عوام کے لیے فکرمند نہیں ہے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ ہم پاکستان پر بھارت کو ترجیح دینے میں غلط تھے، اب ہم کہاں جائیں؟ وہ لوگ کہاں جائیں جو اقوام متحدہ میں انصاف کے لیے جاتے تھے، بھارت کے یکطرفہ فیصلے کے برصغیر پر دور رس اور تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ آرٹیکل 370 ختم کرنے کےبعد کوئی شک نہیں ہے کہ بھارتی حکومت کے عزائم ناپاک ہیں، بھارت کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں چاہتا ہے اور آج ایک مرتبہ پھر بھارت نے ریاست کو فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم کردیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت نے یونین ٹریٹریز کا نظام رائج کرکے اپنے عزائم واضح کردئیے ہیں، بھارت کشمیر کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، بھارت کشمیر میں ہم مسلمانوں کی اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے اور ہمیں مکمل بےاختیار کرنا چاہتا ہے۔اب کشمیر کو کھلی جیل بنا دیا گیا ہے، کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد میں اضافی تعیناتی کی گئی ہے، ہم سے اختلاف رائے کا حق بھی چھین لیا گیا ہے، مسلم اکثریتی ریاست کے عوام کو اختلاف رائے کا حق نہیں اور بھارت میں رہنے والے مسلمان ہم سے بھی زیادہ بے یارومددگار ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے بھارتی مسلمان نہ صرف تنہا ہوں گے بلکہ خوفزدہ بھی ہوں گے، بھارتی حکومت جموں و کشمیر کو غزہ کی پٹی کی طرح بنانا چاہتی ہے اور بھارت کشمیر کے ساتھ وہی سلوک کرنا چاہتا ہے جو اسرائیل فلسطین کے ساتھ کر رہا ہے۔
جبکہ عمر عبداللہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ بھارتی حکومت کا یک طرفہ اور چونکا دینے والا فیصلہ کشمیریوں کے بھروسے کے ساتھ دھوکا ہے۔آرٹیکل 370 سے متعلق ہمارے خدشات بدقسمتی سے درست ثابت ہوئے۔بھارتی اقدام مقبوضہ کشمیر کے عوام کے خلاف جارحیت ہے اور آرٹیکل 370 ختم کرنے کے بھارتی فیصلے کے خطرناک نتائج ہوں گے، آگے ایک طویل اور سخت جنگ ہے جس کے لیے ہم تیار ہیں۔
یاد رہے بھارتی حکومت کی جانب سے صدارتی حکم نامے کے ذریعے مقبوضہ کشمیر کے خصوصی اختیارات سے متعلق آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے جس کے تحت مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں کہلائے گی اور لداخ بھی بھارتی یونین کا حصہ ہو گا۔بھارت کے ہندو انتہا پسند وزیر داخلہ امیت شاہ کی جانب سے راجیہ سبھا میں جب اس حوالے سے بل پیش کیا گیا تو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ہنگامہ آرائی اور شور شرابہ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:  کرونا وائرس دنیا کے کئی ممالک کی معیشتیں لے ڈوبے گا:اقوام متحدہ