fata

خیبر پختونخوا میں ضم شدہ علاقے آپ کی مزید توجہ کے طالب ہیں

EjazNews

قیام پاکستان سے پہلے انگریزوںنے اور قیام پاکستان کے بعد ہماری حکومتوں نے اپنے قبائلی علاقوں کو نظر انداز کیا۔ انگریزوں نے بھی فاٹا میںجمہوری نظام نافذ کرنے کی بجائے قبائلی عمائدین کے ذریعے سے نظم و نسق کو چلایا، انتظامی ڈھانچے میں ماہدین کو ہی اہمیت اور فوقیت دی گئی ۔ایک فرد ایک ووٹ کا جمہوری نظریہ فاٹا میں یکسر نظر انداز کیا گیا ۔ہم نے بھی یہی روش جاری رکھی اور سات دہائیاں گزرنے کے باوجودایک مضبوط سیاسی ، سماجی ڈھانچہ قائم کرنے میں ناکام رہے۔ کچھ قبائلی ایجنسیاں ہمیں ورثے میں ملی تھیں اور کچھ ہم نے1947ءکے بعد نظم و نسق چلانے کے لیے قائم کیں۔
پاکستان کے قبائلی کے علاقوں خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے قبائلی علاقوں میں پاکستانی آئین کی کوئی عملداری نہیں تھی۔خود آئین کے آرٹیکل 247میں یہ واضح طور پر درج تھا کہ مجلس شوریٰ کے بنائے ہوئے آئین کی کسی ایک شق کا اطلاق بھی فاٹا میں نہیں ہوگا۔تاہم 182ملکی قوانین ان ایجنسیوں اور فرنٹ ائیرز میں نافذ ہیں۔ بلوچستان میں بھی اوسی ایریاز میں ہمارے دوسرے علاقوں کی طرح آئین اور قانون کی عملداری نہیں ہے۔بلوچستان میں اب بی ایریاز بہت کم رہ گئے ہیں۔ تاہم خیبرپختونخوا کی ایجنسیوں اور ریجنز میں کوئی پیش رفت نہیں تھی اور یہ بھی کہا جاتا تھا کہ بعض قبائلی علاقوں میں نادرہ کے شناختی کارڈ سے زیادہ اہمیت پولیٹیکل ایجنٹ کے جاری کردہ وطن کارڈ کو دی جاتی ہے۔چیک پوسٹوں پر بھی اسی وطن کارڈ کے ذریعے سے آمدو رفت ہوتی تھی۔ فاٹا میں آئینی شخصیات اور عہدیداروں کے مقابلے میں پولیٹیکل ایجنٹ کہیں زیادہ طاقتور تھا۔ وہ بنا پوچھے کسی بھی شخص کو تین سال کے لیے جیل بھیج سکتا ہے۔ فرنٹئیر ،ریگولیشنز مجریہ 1908کے سیکشن 40اس کے اختیارات کی ایک متعین کرتا ہے یا یوں کہہ لیجئے کہ کسی حد کا تعین نہیں کرتاتھا۔ پولیٹکل ایجنٹ اس میں مرکزی کردار کا حامل تھا۔ بے تحاشا اختیارات اور محدود مالی وسائل کے باعث پولیٹیکل ایجنٹ طاقت ور شخصیت تو بن گیا لیکن کسی بھی دور میں فاٹا کے تین بڑے مسائل کے خاتمے میں کوئی کردار ادا نہ کر سکا۔ غربت، پسماندگی اور ناخواندگی فاٹا کے تین بڑے مسائل ہیں۔ جنہیں دور کرنے کے لیے نہ تو اچھے تعلیمی ادارے بنائے گئے نہ ترقیاتی سکیمیں شروع کی گئیں اور نہ ہی سماجی بہتری کے لیے کوئی دوررس اقدامات کیے گئے۔ انسداد دہشت گردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ بننے کے بعد پاکستان کو امریکہ سے 22ارب ڈالر کی فوجی ، سماجی اور بجٹ کے اہداف پورے کرنے کے لیے امداد ملی۔ اس کا آخری حصہ شکیل آفریدی کی گرفتار ی کے بعد نہ مل سکا۔
آپریشن ضرب عضب کے بعد بھی حکومت پاکستان نے وسیع پیمانے پر ترقیاتی فنڈز کا اجراءکیا اور مشرف دور میں فاٹا میں جن ترقیاتی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی تشکیل اور استحکام کے لیے کام ہوا تھا۔ اسی زمانے میں امریکہ نے فاٹا میں ری کنسٹرکشن زونز بنانے کی منظوری بھی دے دی تھی۔ امریکی کانگریس نے ان زونز سے متعلق بل بھی منظور کر لیا تھا۔ لیکن ڈومور کے مطالبات اس میں بھی رکاوٹ بن گئے۔ جنرل مشرف کے بعد ترقیاتی کام جاری رہا۔ لیکن سرمایہ کاری بہت محدود تھی۔نواز شریف حکومت نے بھی طویل المعیاد 21ارب کا ترقیاتی پلان منظور کیا تھا۔ فاٹا ایک الگ محدود اکائی کی صورت میں دکھائی دیتا تھا۔ پنجاب ، سندھ اور بلوچستان سے فاٹا کے قبائلی علاقوں تک رسائی آسان نہیں۔ دشوار گزار راستے کا تصور ہی پریشان کن ہے۔یہی صورت فاٹا کے قبائلی علاقوں کے اندر بھی ہے۔ مختلف ایجنسیاں اور فرنٹ ائیر ریجن کے درمیان مواصلاتی نظام نہ ہونے کے برابر ہے۔ قبائلی پہاڑوں کے بیچ و بیچ بسا اوقات عمودی اور بسا اوقات افقی اطراف میں دوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ سفر قبائلیوں کے لیے آسان اور ہمارے لیے خوفناک ہے۔ ایک عام آدمی کا دل ان راستوں کے تصور سے ہی کانپ اٹھتا ہے۔ اس طرح پاکستان کا انتہائی خوبصورت ، 272مربع کلو میٹر پر مشتمل یہ انتہائی خوبصورت علاقہ دوسرے علاقوں سے زمینی راستوں سے جڑا ہواہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ایٹم بم گرا،لیکن اس کے باوجود میڈ ان جاپان پوری دنیا پر چھایا
آج بھی قبائلی روایات سے جڑے ہوئے ہیں

فاٹا میں باوجود کوشش کے کسی قسم کا سیاسی ڈھانچہ قائم نہیں کیا جاسکا۔ تاہم حکومت نے 2017ءکے آخر میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ عالمی اداروں کو بھی اسی قسم کی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں کہ فاٹا میں منتخب بلدیاتی ڈھانچہ قائم کر دیا جائے گا۔ حلقہ بندیوں کا تعین ،ووٹوں کی رجسٹریشن ، پولنگ سٹیشنوں کا قیام کوئی آسائی بات نہیں تھی ۔ ایک مشکل مرحلہ خواتین ووٹروں کی رجسٹریشن کے وقت سامنے آیا تھا پاکستان میں اس وقت بھی سوا کروڑ سے زائد خواتین بالغ ہونے کے باوجودووٹرلسٹوں میںرجسٹرڈ نہیںہیں۔چاروں صوبوں میں ایسی ہی صورتحال ہے۔ پنجاب میں بھی کئی حلقوں میں خواتین کے رجسٹرڈ ووٹر ان کے کل ووٹوں کے تقریباً 40فیصد ہیں۔
2002ءمیں لوکل باڈی سسٹم اور 2004ءمیں پولیٹیکل ایجنٹوں کے ذریعے سے ہر قبائلی ایجنسی میں ایجنسی قونصل بنانے کی تجاویز سامنے آئیں تھیں۔ یہ دونوں سٹم ناکام رہے۔ 2012ءمیں ایک مرتبہ پھر لوکل گورنمنٹ سسٹم نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تھی مگر اس میں بھی ناکامی ہوئی۔ ماضی کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ کہاجاسکتا ہے کہ فاٹا میں بلدیاتی انتخابات کا انعقاد جوئے شیر لانے سے کم نہیں تھا۔
اپریل 2005ءمیں سابق گورنر خیبرپختونخوا ایف بی آر ریفارمز کمیٹی بنائی۔ جسٹس (ر) میاں محمد اجمل کمیٹی کے سربراہ تھے۔ مذکورہ کمیٹی نے ایف سی آر میں متعدد ترامیم پیش کیں۔ ان پر بھی عملدرآمد نہ ہو سکا۔ 2006ءمیں صاحبزادہ امتیاز کی سربراہی میں کمیٹی نے صورتحال کا بغور جائزہ لیا۔ تاہم وہ کوئی جامع رپورٹ پیش نہ کر سکی۔ اسی کمیٹی کی رپورٹ پر ان علاقوں کے لیے سیفرون کی نئی وزارت قائم کی گئی۔ 2008ءمیں اس وقت کے وزیر قانون نیاز اے نائیک کی سربراہی میں بھی ایک کمیٹی بنی۔ اس کی کچھ تجاویز کو ایف سی آر میں ترامیم کے ذریعے سے 1911 ءسے ایف سی آر میں شامل کر لیا گیا۔ ان ترامیم میں بچوں اور خواتین کا تحفظ بھی شامل تھا۔ 2014ءمیں گورنر خیبرپختونخوا نے اس وقت کے چیف سیکرٹری اعجاز احمد قریشی کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنائی۔ اس کی تجاویز پر بھی عمل نہ ہوسکا۔ یوں گزشتہ ایک عشرے سے فاٹا اصلاحات سرکاری حلقوں میں زیر بحث رہیں۔ ارکان اسمبلی بھی اس سلسلے میں اپنی اپنی تجاویز پیش کر تے رہے۔ اس سلسلے میں تین بڑی تجاویز سامنے آئیں۔ ایک فاٹا کو الگ صوبہ بنا دیا جائے ،دوفاٹا کو خیبرپختونخواہ میں شامل کر دیا جائے، تین فاٹا میں لیجسلیٹو کونسل قائم کر کے گلگت بلتستان کی طرز پر ایک نئے نظام قائم کر دیا جائے۔ الگ صوبہ بنانے کی تجویز میں فاٹا کی ایجنسیوں میں باہمی رابطوں کا فقدان رکاوٹ بنا۔ فاٹا کی ایجنسیاں اور سنٹرل ریجنز الگ اکائی کے طور پر قائم رہے ہیں۔البتہ کرم ایجنسی ، باوجوڑ اور ایف آر پشاور کے قبائلی عمائدین فاٹا کے خیبرپختونخوا کے انضمام کے مخالف تھے۔ وہ اپنا جداگانہ تشخص برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ البتہ دس بڑی سیاسی جماعتیں فاٹا کی خیبرپختونخوا میں شمولیت کی حامل ہیں۔ تاہم محمود خان اچکزئی اور مولانا فضل الرحمن اس تجویز کے مخالف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  مقامی حکومتیں ۔۔۔دنیا کے بہت سے ممالک میں کلیدی حیثیت کی حامل
فاٹا میں الیکشن ہو چکے ہیں

فاٹا میں اصلاحاتی عمل کے آغاز کے لیے 7مئی 2012ءکو خیبر پختونخوا اسمبلی نے ایک متفقہ قرار داد منظور کی۔ 7ستمبر 2016ءکو 19ارکان پارلیمنٹیرنز نے 22ویں آئینی ترمیم کا مسودہ پیش کیا۔ فاٹا سے تعلق رکھنے والے ان 19ارکان پارلیمنٹ نے فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کی تجویز پیش کی ۔ چنانچہ حکومت نے ان تمام تجاویز کو پیش نظر رکھتے ہوئے ایک کمیٹی بنا دی۔ جس کا مقصد ہی فاٹا میں اصلاحات کے لیے تجاویز پیش کرنا تھا۔ مذکورہ کمیٹی کی چیئرمین شپ اس وقت کے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز کے پاس تھی جبکہ گورنر خیبرپختونخوا ظفر اقبال جھگڑا وفاقی وزیر برائے سیفرون ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وفاقی وزیر قانون زاہد حامداور نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر خان جنجوعہ اس کے ممبر تھے۔ سیکرٹری سیفرون کے بعض ارکان نے بطور سیکرٹری فرائض سرانجام دئیے تھے۔ کمیٹی کے روبرو وہ تمام تجاویز تھیںجو اب تک پیش کی گئی تھیں۔کمیٹی نے یہ بات بھی پیش نظر رکھی کہ دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کا 118ارب ڈالر کا مالی نقصان ہو چکا تھا جبکہ 45ہزار کے قریب سول اور ملٹری کے جوان شہید ہو چکے تھے۔ آپریشن ضرب عضب اور نیشنل ایکشن پلان کا دائرہ فاٹا تک بھی وسیع کیا گیاتھا۔ لیکن افغانستان کی سرحد کے ساتھ پھیلے ہوئے لمبے بارڈر کے باعث دوسرے ممالک سے آمدو رفت کو روکنا آسان نہیںتھا۔ رپورٹ کے مرتبین نے فاٹا کی 2سوسالہ تاریخ بھی پیش نظر رکھی۔جب اس خطے میں نہ سیاسی استحکام تھا اور نہ ہی معاشی ترقی۔ گزشتہ تین عشروں سے فاٹا کا افغان بارڈر عدم استحکام سے دو چار ہے۔ 1979ءمیں روسی حملے کے نتیجے میں 2000ءکے بعد انتہا پسندی نے جڑ پکڑنا شروع کی تھی۔
فاٹا کو خیبرپختونخوا میں شامل کرنے کے بعد 5سالہ عبوری دور کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں فاٹاکو این ایف سی ایوارڈ میں سے تین فیصد یعنی 90ارب روپے ملیں گے جو موجودہ دس سالہ پلان کے تحت ملنے والے 21ارب روپے کے علاوہ ہوں گے۔ ان 90ارب روپے میں سے تقریباً 30ارب روپے بلدیاتی اداروں کے ذریعے خرچ کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ فاٹا ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو مضبوط بنانے اور مقامی انتظامیہ کے اختیارات میں اضافے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی۔ فاٹا ڈویلپمنٹ کمیٹی اس وقت 40کروڑ روپے تک کے پراجیکٹ منظور کر سکتی تھی۔ تجویز کر دہ اصلاحات میں اس کا دائرہ کار 2ارب روپے تک بڑھا دیا جائے گا۔ فاٹا ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی 20کروڑ روپے کا فنڈ منظور کر نے کی مجاز تھی۔ اس کے اختیارات 1ارب روپے کے پراجیکٹ تک بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اگر فاٹا کو خیبرپختونخواہ میں ضم کرنے کی صور ت میں گریڈ وائس کا ایک چیف ایگزیکٹو کا عہدہ بھی قائم کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ ایک سینیٹر اور ایم این اے پر مشتمل گورنر ایڈوائزری کونسل بھی بنانے کی تجویز تھی۔ فاٹا کے طالبعلموں کا کوٹہ صحت اور تعلیمی اداروں میں دو گنا کر دیا جانا تھا اور یہ دس سال تک برقرار رکھنے کی تجویز بھی تھی۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام بیت المال اور مائیکروٹ فنانس کی سکیموں میں فاٹا کو زیادہ حصہ ملے گاایسا بھی کہا گیا تھا۔ فاٹا میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے افسران کو 20فیصد اضافی پراجیکٹ الاﺅنس ملے گا جبکہ فاٹا کی تمام پوسٹوں کو خیبرپختونخواہ کے برابر لایا جائے گا۔ الیکشن کمیشن آفس میں فاٹا کے لیے ایک الگ یونٹ بنانے کی تجویز بھی پیش کی گئی تھی جبکہ آڈیٹر جنرل آفس اور نیب کا دائرہ کا ر بھی فاٹا تک بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھا دیا جانا تھا۔ تاہم ایف سی آر کو منسوخ کر کے اس کی جگہ ٹرائیبل ایریا رواچ ایکٹ نافذ کرنے کی تجویز بھی اس وقت زیر غورتھی۔ یہ تجویز ارکان قومی اسمبلی بھی کئی مرتبہ پیش کر چکے ہیں۔ سول اور فوجداری مقدمات میںجرگہ بھی فیصلے کر یںگے تاہم اسے جدید مغربی طرز پر استوار کیا جائے گا۔ جیوری سسٹم دنیا بھر میں قابل قبول ہے اس کے لیے بھی کچھ معیارات طے کر کے جیوری کی طرز پر رواچ ایکٹ نافذ ہوگا۔ لیویز کی پوسٹوں میں 20ہزار کا اضافہ کیے جانا تھا اور 24گھنٹے سکیورٹی کی یقین دہانی بھی کروائی گئی تھی۔ ان سب اصلاحات میں سے بہت سے حکومت نے پوری بھی کی ہیں لیکن ابھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔
فاٹا کا زیادہ تر رقبہ مشترکہ ملکیت میں ہے۔ اسی لیے خریدو فروخت میں کچھ رکاوٹیں حائل ہیں۔ بینکنگ سسٹم کی ترقی کے لیے پراپرٹی کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور زمینوں کی جمع بندی جیو گرافی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے کی جائے ۔ بہت سی اصلاحات حکومت کر بھی رہی ہے اور مزید کرنے کی ضرورت بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے بچوں کو ذہنی و جسمانی طور پر صحت مند بنانا ہوگا