arfat

میدان عرفات کی اہمیت

EjazNews

عرفات ایک کشادہ میدان ہے جس میں لاکھوں آدمی آسانی سے جمع ہو جاتے ہیں۔ مکہ مکرمہ سے تقریباً پندرہ میل کے فاصلہ پر ہے اس جگہ پر حاجیوں کا آنا اور ٹھہرنا فرض ہے اور عرفہ میں وقوف کرنا یعنی ٹھہرنا حج کے رکنوں میں سے ایک رکن اعظم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: عرفہ میں ٹھہرنا حج ہے۔ (ترمذی)
جو عرفہ میں نہیں ٹھہرے گا اس کا حج نہیں ہوگا۔ یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: تم اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو ۔ کیونکہ تم سب اپنے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی موروثہ زمین پر ہو۔
اس مقدس اور مبارک میدان میں تم اپنے گناہوں کا اقرار کرو اور اپنے نفس کو میدان محشر سے آشنا کراﺅ اس لئے اس کا نام عرفات پڑا کہ دنیا کے سب حاجی اس میدان میں جمع ہو کر ایک دوسرے کی جان پہچان حاصل کرتے ہیں اور اس حالت کو حشر کا نمونہ سمجھ کر اس موقف اکبر میں کھڑے ہونے کی استعداد پیدا کرتے ہیں۔
یوم عرفہ اور میدان عرفہ کی فضیلت:
عرفہ یعنی ذی الحجہ کی نویں تاریخ کی بڑی فضیلت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: اللہ کے نزدیک عرفہ کےد ن کی بڑی فضیلت ہے اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پرنزول فرماتا ہے اور زمین والوں کے ساتھ آسمان والوں سے فخر کر کے فرماتا ہے کہ میرے بندوں کو دیکھو دور دراز سے پراگندہ سرگرد آلودہ دھوپ کی تکلیف برداشت کرتے ہوئے یہاں پر آئے ہیں میری رحمت کی امید کرتے ہیں اور میرے عذاب کو دیکھا نہیں۔ اس نویں تاریخ کو بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے۔
عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ فرشتوں کے ساتھ فخر کرتا کہ میرے بندو ں کو دیکھو پراگندہ سرگرد آلوددور دراز سے دھوپ میں میرے پاس آئے ہیں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ ان سب کو میں نے بخش دیا۔ فرشتے کہتے ہیں کہ ان میں ایک شخص گنہگار ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے ان سب کو معاف کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عرفہ کے دن اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو دوزخ سے آزاد کرتا ہے۔(ابن خزیمہ، ترغیب)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کے دن فرمایا لوگو اللہ تعالیٰ اس دن میں حاضری کی وجہ سے فرشتوں کی جماعت پر فخر کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تمہارے گناہوں کو معاف کرتا ہوں مگر حق العباد کو نہیں۔ نیک لوگوں کی خطاﺅں کو معاف کرتا ہوں اورنیکوں کے سوال کو پورا کرتا ہوں۔ اللہ کانام لے کر مزدلفہ چلو۔ مزدلفہ میں بھی اللہ تعالیٰ نیکوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ان کی سفارش قبول فرماتا ہے اور رحمت خداوندی سب کو گھیر لیتی ہے۔ زمین میں اس کی مغفرت پھیل جاتی ہے اور جس نے اپنی زبان اور ہاتھ کی نگرانی کی ہے ان کو وہ رحمت گھیر لیتی ہے ابلیس اور اس کی ذریات عرفات کے پہاڑوں پر چڑھ کر حاجیوں کو دیکھ کر پریشان ہو کر چیختے چلاتے ہیں۔ (ترغیب)
حضرت عباس بن مرداس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کی مغفرت کے لئے دعا فرمائی۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جواب ملا کہ آپ کی تمام امت کو بخش دوں گا۔ مگر مظالم اور حقوق العباد کو نہیں معاف کروں گا۔ جب تک کہ ظالم سے مظلوم کو حق نہ دلا دوں آپ نے عرض کیا خدایا اگر تو چاہے۔
ترجمہ: تو مظلوم کو اس کا حق جنت سے دے سکتا ہے اور ظالم کو معاف فرما سکتا ہے۔
اس شام کو بھی آپ کی درخواست منظور نہیں ہوئی۔ مزدلفہ میں صبح کو آپ نے پھر اسی دعا کو دہرایا فا جیب آپ کی دعا مقبول ہوئی۔
حدیث کا راوی بیان کرتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ حضرت ابوبکر ؓ و عمر ؓ نے عرض کیا ۔ حضرت اس وقت آپ کے ہنسنے کا معمول نہیں ہے آپ کیسے ہنس پڑے ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ ہنساتا رہے۔
آپ نے فرمایا:
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے دشمن ابلیس نے جب میری دعا کی قبولیت کی بابت معلوم کر لیا تو وہ واویلا کرتا ہوا اپنے سر پر مٹی ڈالنے لگا۔ اس کی اس رسوائی کو دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی۔ (بیہقی، ابن ماجہ)
حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں ٹھہرے ۔ آفتاب غروب ہونے کے قریب حضرت بلال ؓ سے فرمایا ”انصت للناس“لوگوں کو خاموش کر دو۔ حضرت بلال ؓ نے کھڑے ہو کر لوگوں سے فرمایا (انصتو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تم سب خاموش ہو جاﺅ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ابھی ابھی حضرت جبرئیل علیہ السلام تشریف لائے تھے اور خدا کا سلام پیغام مجھے پہنچایا اور فرمایا:
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے عرفات والوں کو بخش دیا ہے۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ ہم صحابہ کے لئے خاص ہے یا سب امت کے لئے ۔ آپ نے فرمایا:
ترجمہ: یہ تمہارے لئے اور تمہارے بعد قیامت تک کے آنے والوں کے لئے ہے۔ (ترغیب)
بعض کا قول ہے کہ میدان عرفات کے پورب کی طرف وادی نعمان ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے روز اول میں ہم سب سے فرمایا تھا (الست بربکم ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں۔ ہم سب نے اس کے جواب میں (بلی) کہا تھا۔ بے شک آپ ہمارے رب ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  دوران حج و طواف دعا کی قبولیت کے مقام