Imran khan-Meeting

مقبوضہ کشمیر کے عوام کو مصائب و مظالم کی گہری تاریک رات سے نجات دلوانے کا وقت آن پہنچا ہے:وزیراعظم عمران خان

EjazNews

وزیراعظم عمران خان نے اپنے ٹویٹ میں لکھا ہے کہ میں جنگ بندی لکیر کے اس پار سے عالمی انسانی حقوق کا قانون اور روایتی ہتھیاروں کے حوالے سے 1983 کے کنونشن کے تحت عائد پابندیاں روندتے ہوئے کلسٹر بموں کے ذریعے شہری آبادی پر بھارتی حملے کی شدید مذمت کرتا ہوں۔سلامتی کونسل کو عالمی امن و سلامتی کو لاحق خطرات کا فوری نوٹس لینا چاہئے۔
مقبوضہ کشمیر کے عوام کو مصائب و مظالم کی گہری تاریک رات سے نجات دلوانے کا وقت آن پہنچا ہے۔ انہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرادادوں کی روشنی میں حق خودارادیت ملنا چاہئے۔ جنوبی ایشیاء میں امن و سلامتی کا نسخہ تنازعہ کشمیر کے پرامن اور انصاف پر مبنی حل ہی میں پوشیدہ ہے۔
صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کی پیشکش کی جس کا یہی وقت ہے کیونکہ قابض بھارتی افواج کے نئے جارحانہ اقدامات کے باعث مقبوضہ وادی میں اور جنگ بندی لکیر کیساتھ صورتحال ابتر ہورہی ہے اور اس سے علاقائی بحران پھوٹنے کے بھی قوی امکانات موجود ہیں۔
وزیراعظم عمران خان کی جدوجہد دیکھنے والے جانتے ہیں کہ ان کی ساری سیاسی زندگی تشدد سے پاک ہے۔ وہ ہمیشہ سے جنگ کے مخالف رہے ہیں لیکن جب کوئی حد سے گزرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ساتھ یہ بھی کہتے ہیں کہ پاکستان جواب دینے کا سوچے گا نہیں بلکہ جواب دے گا۔
جبکہ سرحد کی دوسری جانب مودی سرکاری اپنے پرتشدد سیاست کی وجہ سے ہی مشہور ہے اور یہ کسی سے ڈھکی چھپی ہوئی بات نہیں ہے۔
وزیراعظم آزاد کشمیر کا کہنا ہے کہ کنٹرول لائن کی دونوں طرف کشمیریوں کوپاکستان پرمکمل اعتماد ہے۔جبکہ اقوام متحدہ کے مبصرین نے لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے پھینکے گئے کلسٹر بموں سے متاثرہ علاقوں کا معائنہ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  ابھی مشکل وقت آنا ہے۔ اللہ کا شکر ہے ابھی تک ہمیں بچا کے رکھا ہوا ہے: وزیراعظم