Kashmiri kiled indian army

کشمیر کی جدوجہد آزادی کو جتنا دبائو گے وہ اتنی ابھرے گی

EjazNews

ترجمان پاک فوج کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیاہے کہ بھارت کا پاکستان پر ایل اوسی پار کارروائی اور لاشوں کو تحویل میں لینے کا الزام پروپیگنڈا ہے۔ اس طرح کے جھوٹ اور ڈرامے دنیا کو گمراہ کرنے کی بھارتی چالیں ہیں، تاکہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بڑھتے ہوئے مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹائی جاسکے۔
دوسری جانب بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر شہری آبادی کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنا رہی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق بھارت فوج نے 30اور 31جولائی کی رات وادی نیلم میں معصوم شہریوں کو کلسٹر بموں سے نشانہ بنایا۔بھارتی جارحیت کے نتیجے میں 4سالہ بچے سمیت 2افراد شہید اور 11افراد شدید زخمی ہوئے جو مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ کلسٹر بموں کا استعمال کر کے بھارتی فوج جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ بھارتی فوج کی جانب سے تمام بین الاقوامی اقدار کو بالائے طاق رکھتے ہوئے شہری آبادی پر ممنوعہ ہتھیاروں کا استعمال بھارت کے مکروہ چہرے اور اخلاقی اقدار کو بے نقاب کرتا ہے۔
یہ سچ پر مبنی بات ہے کہ بھارتی فوج جنیوا کنونشن اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی کسی طرح بھی پابندی نہیں کر رہی۔ اور اوپر سے جھوٹا پروپیگنڈا کرنے میں تو ان سے زیادہ مہارت رکھنے والا شاید ہی دنیا میں کوئی ہو۔ جس ڈھٹائی کے ساتھ انڈین میڈیا میں جھوٹا بولا جاتا ہے اس کی مثال دنیا کے کسی میڈیا ہائوس میں آپ کو نہیں مل سکتی۔ ایسی ایسی من گھڑت خبریں اجاگر کی جاتی ہیں کہ آپ سوچ کر دنگ رہ جائیں گے۔
کلسٹر بموں کا استعمال کسی طرح سے بھی انسانیت نہیں ہے۔ لگتا ہے انڈین فوج ،پاکستانی فوج کا جواب بھول چکی ہے، کچھ عرصہ پہلے ہی پاکستانیوں کے ہاتھوں انڈیا پائلٹ پٹ رہا تھا اور طیارہ زمین پر گرا پڑا تھا ۔
انڈین فوج 1947ءمیں کشمیر پر قبضہ کیا تھا کہ راجہ ہمارے ساتھ ہے اور جونا گڑھ پر قبضہ یہ کہہ کر کیا تھا کہ وہاں عوام ہمارے ساتھ ہیں۔ 1947ء سے لے کر آج تک کشمیری اپنی جدو جہد آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور گزرتے وقت کے ساتھ اس میں شدت ہی شدت آرہی ہے۔ انڈین فوج جتنا جدوجہد آزادی کشمیر کو دبا کر رکھے گی یہ اتنا زیادہ ابھرے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی کنگز نے6 وکٹوں کے نقصان پر فتح حاصل کرلی
آزاد کشمیر میں انڈین آرمی کی مسلسل گولہ باری کے بعد کے کچھ مناظر

کلسٹر بموں کے اندر بہت سے چھوٹے بم ہوتے ہیں جو انسانی آبادی کیلئے خطرناک ہو تے ہیں۔ کیا انڈین فوج نہیں جانتی کہ سرحد پر رہنے والے دونوں طرف کےکشمیری خاندان ایک دوسرے کے رشتہ دار ہیں اس کے بعد اگر کوئی کشمیری کوئی کارروائی کر دے گا پھر پوری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹیں گے پہلے ہی ان کو اس انتہا پر کیوں لیجایا جارہا ہے۔ انڈین فوج کی اس طرح کی کارروائی خطے میں نئے کشیدگی پیدا کر رہی ہے جو یہاں بسنے والے ایک ارب سے زائد انسانوں کیلئے ٹھیک نہیں ہے۔ کشمیریوں کو ان کی مرضی سے جینے کا حق ہے اور یہ حق ان سے کوئی کلسٹر بم بھی نہیں چھین سکتا۔
وزیراعظم پاکستان جب سے اقتدار کے ایوانوں میں آئے ہیں وہ انسانیت کی بھلائی کیلئے ہمیشہ سے ہمسایوں سے اچھے تعلقات کے خواہاں رہے ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ سب ہمسایوں سے بہتر تعلقات ہوں۔ لیکن وہ اپنے لوگوں کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری سے بھی غافل نہیں ہے۔

انڈین آرمی کی جانب سے سول آبادی پر کلسٹر بموں کا استعمال جنیوا کنونشن کی صریحاً خلاف ورزی ہے

کلسٹر بم ہوتا کیا ہے:
کلسٹر بم بموں کی ایک ایسی قسم ہے جس کے اندر چھوٹے چھوٹے مزید بم ہوتے ہیں، اس بم کے استعمال سے اس سے نکلنے والے مزید چھوٹے بم وسیع علاقے میں جانی و مالی نقصان کا سبب بنتے ہیں۔ایک کلسٹر بم کے اندر 2000 ہزار تک چھوٹے بم موجود ہو سکتے ہیں۔سب سے پہلے کلسٹر بموں کا استعمال 1940کی دہائی میں شروع ہوا اور عام شہری آبادی نے اس مہلک بارود کے استعمال کی قیمت چکائی اور ایشیا، یورپ اور مشرق وسطیٰ میں ہزاروں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔انٹرنیشنل ریڈ کراس نے بے گناہوں کے اس بھاری جانی نقصان پر بارہا تشویش کا اظہار کیا اور 2000 میں اقوام عالم سے یہ سفاکی روکنے اور اس سلسلے میں بات چیت کی اپیل کی۔تقریباً 7 سال بعد ناروے نے کلسٹر بموں کا استعمال روکنے کی کوششوں کا آغاز کیا اور اسے ‘اوسلو پراسس کا نام دیا گیا۔اس کوشش کا مقصد مہلک ہتھیار کی تیاری، منتقلی اور استعمال روکنے کے لیے بین الاقوامی معاہدہ کرنا تھا۔اس مقصد کے لیے لیما، ویانا، ویلنگٹن اور مختلف براعظموں میں علاقائی اجلاسوں کے بعد 3مئی 2008کو جرمنی کے شہر ڈبلن میں ‘کنونشن آن کلسٹر امیونیشنزمنظور ہوا۔اس کانفرنس میں 100 سے زائد ممالک نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں:  ن لیگی رکن پنجاب اسمبلی گرفتار