Kutba Hajat Ul widha

حجة الوداع کا خطبہ

EjazNews

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹنی پر سوار ہو کر ذیل کے خطبہ کو بیان فرمایا تھا۔ اس خطبہ میں آپ نے نصیحت بیان فرمائی ہے یہ بہت بڑا فصیح و بلیغ خطبہ تھا۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں جستہ جستہ یہ خطبہ منقول ہے ہم ان سب کا مجموعہ نقل کرتے ہیں یہ خطبہ اس لائق ہے کہ اس کے ایک ایک حرف کو زبانی یاد کر کے اپنا لائحہ عمل بناﺅ، مسجدنمرہ میں اگر امام اس خطبہ کو پڑھے تو خیرو رنہ تم خود ہی پڑھ کر حجة الوداع کی یادگار بنالو حمدو صلوٰة کے بعد فرمایا:
ترجمہ: اے لوگو میرے خیال میں آئندہ کبھی بھی ہم اور تم اس جگہ جمع نہیں ہوں گے ۔
تمہاری جانیں اور تمہارا مال اور تمہاری عزتیں اور آبروئیں آپس میں ایک دوسرے پر اس طرح حرام ہیں جس طرح یہ دن یہ شہر یہ ماہ با حرمت ہیں تم سب عنقریب خدا سے ملاقات کرو گے وہ تمہارے عملوں کے بارے میں پوچھے گا۔
خبردار ہو جاﺅ میرے بعد تم گمراہ نہ بن جانا کہ ایک دوسرے کو تم قتل کرنے لگو۔
جاہلیت کے تمام رسم و رواج میں اپنے قدموں کے نیچے مسلتا ہوں۔
جاہلیت کے تمام خون اور لڑائی جھگڑوں کو نیست و نابود کرتا ہوں اور سب سے پہلے میں اپنے خاندان ربیعہ بن حارث کے فرزندہ کا خون ملیا میٹ کرتا ہوں جس کو ہذیل نے بچپن ہی میں مار ڈالا تھا۔
جاہلیت کے تمام سود بیکار کر دئیے گئے اور سب سے پہلے اپنے خاندان کا سود یعنی چچا عباس ؓ کے سود کو میں بے کار کرتا ہوں کہ سب کو میں چھوڑتا ہوں۔
اللہ تعالیٰ سے تم اپنی بیویوں کے بارے میں ڈرتے رہو۔ کیونکہ تم نے اللہ تعالیٰ کے امن و عہد و پیمان کے بموجب ان کو لیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلمات کے ذریعہ یعنی ایجاب و قبول سے تم نے ان کو حلال کیا ہے۔ تمہارا حق ان عورتوں پر یہ ہے کہ تمہارے گھر میں وہ کسی غیر کو جس کا آنا تم کو ناگوار ہو نہ آنے دیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو ایسی مار مارو جو زیادہ تکلیف دہ نہ ہو۔ ان عورتوں کا حق تم پر یہی ہے کہ ان کو اچھی طرح رکھو اور اچھی طرح کھلاﺅ اور پہناﺅ۔
تمہارا حق عورتوں پر ہے اور عورتوں کا حق تمہارے اوپر ہے۔
ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔
تم اپنے غلاموں کو خیال سے رکھو تم اپنے غلاموں کا خیال رکھو جو خود کھاﺅ وہی ان کو بھی کھلاﺅ اور جو خود پہنو وہی ان کو بھی پہناﺅ۔ تمہیں وہ چیزیں دے کر جارہا ہوں کہ اگرتم اسے مضبوطی سے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو سکتے وہ اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ لوگو نہ تو میرے بعد کوئی نیا نبی آئے گا اور نہ تمہارے بعد کوئی نئی امت پیدا ہوگی۔ دیکھو خبردار ہو جاﺅ کہ تم اپنے رب کی عبادت کرو اور پانچوں وقت کی نماز ادا کرتے رہو ۔ رمضان کے روزے رکھو اور خوش دل سے اپنے مال کی زکوٰة دیتے رہو اور بیت اللہ شریف کا حج کرتے رہو اور اپنے مسلمان حاکموں کی فرماں برداری کرتے رہو۔ تو اپنے پروردگار کی جنت میں داخل ہو گے۔
اللہ تعالیٰ نے ہر حق دار کے حق کو دیدیا ہے لہٰذا اب کسی وارث کے حق میں وصیت کرنا جائز نہیں ہے۔
لڑکا اسی کا ہے جس کے بستر پر ہو۔ بدکار زنا کار کے لئے سنگساری ہے اور ان کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔
جو اپنے باپ کے سوا اور کسی کے نسب سے ہونے کا دعویٰ کرے یا جو غلام اپنے آقا کے علاوہ اور کسی کی طرف اپنی نسبت کرے تو اس پر خدا کی لعنت ہے۔
خبردار ہو جاﺅ کسی عورت کے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ بغیر خاوند کی اجازت کے اس کے مال میں سے کسی کو کوئی چیزدے۔
قرض ادا یکاجائے اور رعایت واپس کی جائے۔ عارضی عطیہ مدت ختم ہونے کے بعد لوٹا دیا جائے۔ ضامن تاوان کا ذمہ دار ہے۔
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام مجمع کی طرف جس کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ تھی کو مخاطب ہو کر فرمایا:
ترجمہ :قیامت کے دن میری بابت تم سے پوچھا جائے گا تم کیا جواب دو گے۔
صحابہ کرام ؓنے عرض کیا:
ترجمہ: ہم خدا کے سامنے گواہی دیں گے کہ آپ نے سب احکام پہنچا دئیے اور اپنا منصبی فرض ادا کر دیا اور سب کو خیر خواہی کی باتیں بتا دیں ۔
اس کے بعد آسمان کی طرف اُنگلی اٹھائی اور تین بار فرمایا:
ترجمہ: اے اللہ تو گواہ رہ۔
پھر آپ نے اس کے بعد فرمایا:
ترجمہ: خوب سن لو جو یہاں موجود ہیں وہ ان کو جو یہاں حاضر نہیں میری یہ سب باتیں پہنچا دیں۔ اس لئے کہ بعض وہ لوگ ہیں جن کو تبلیغ کی جاتی ہے زیادہ یاد رکھنے والے ہیں ان لوگوں سے جواس کے سننے والے ہیں۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس خطبہ سے فارغ ہوئے تو مندرجہ ذیل آیت کریمہ اسی جگہ نازل ہوئی:
ترجمہ: آج میں نے تمہارے لئے تمہارے دین کو مکمل کردیا ہے اور تم پر اپنی نعمتیں پوری کردی ہیں اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا ہے۔ (المائدة )
تنبیہ، یہ خطبہ سارا ایک ہی خطبہ ہے آپ نے دو خطبے نہیں پڑھے اور نہ درمیان میں بیٹھے۔ خطبہ سے فارغ ہو کر حضرت بلالؓ کو اذان دینے کا حکم دیا۔ حضرت بلال ؓ نے اذان دی۔ پھر اقامت کہی۔ پہلے آپ نے ظہر یک دو رکعتیں پڑھائیں ان میں قرا¿ت بالجہر نہیں کی۔ حالانکہ جمعہ کا دن تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی نماز نہیں تھی بلکہ ظہر کی نمازتھی۔ اس کے بعد پھر دوبارہ اقامت ہوئی اور آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائیں ظہر سے پہلے اور دونوں نمازو ں کے درمیان سنتیں نہیں ادا فرمائیں۔ نماز کے بعد آپ نے غسل فرمایا، پھر اونٹنی پر سوار ہو کر موقف میں تشریف لائے۔ اور پہاڑی کے نیچے صحرا وات کے پاس آکر کھڑے ہوئے اور فرمایا:
ترجمہ: یہاں میں ٹھہر گیا ہوں اورس ارما میدان عرفہ ٹھہرنے کے لائق ہے۔ (مسلم)
پھر آپ نے قبلہ رو ہو کر دُعا پڑھتے ہوئے دونوں ہاتھ سینہ تک اٹھائے اور سورج کے غروب ہونے تک دعا اور ذکر الٰہی میں مصروف رہے اور فرمایا کہ بہترین عبادت اس دن کی دعا مانگنا ہے یعنی آج قبولیت کا دن ہے خوب گریہ وزاری سے دعا مانگنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  حطیم اور مطاف کا بیان