Maqboza kashmir

کشمیریوں کو کبھی بھی بندوق کے زور پر غلام نہیں بنا جاسکتا

EjazNews

پاک بھارت سرحد دنیا کی بڑی سرحدوں میں شمار ہوتی ہے۔ لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر 3323 کلومیٹر محیط ہے۔ 2121کلو میٹر کا انٹرنیشنل بارڈر اور 740کلو میٹر لائن آف کنٹرول جموں و کشمیر کے ساتھ ساتھ ہے۔ بھارت نے پاکستان کے شہریوں پر متعدد حملے کیے۔ مودی سرکار کے برسراقتدار آنے کے بعد سے متواتر گولہ باری جاری ہے، بھارتی سانحات کے پیش نظر پاکستان کو بھی جوابی فائرنگ کرنا پڑتی ہے جس کے نتیجے میں وہاں بھاری تعداد میں فوجی اور سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہلاک ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے لائن آف کنٹرول اور انٹرنیشنل بارڈر پر تعیناتی کا سنتے ہی بھارتی فوجیوں پر خوف طاری ہو جاتا ہے یہ خوف آج کا نہیں طویل عرصے سے ہے۔ مقبوضہ کشمیر اور لائن آف کنٹرول پر تعینات بھارتی فوجیوں اور بارڈر فورسز میں بگوڑوں اور خودکشی کرنے والے جوانوں کی تعداد وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔ ظاہر ہے یہ نفسیاتی مسائل کی علامت ہے۔ بی ایس ایف مقبوضہ کشمیر میں تعینات لاکھوں بھارتی نفسیاتی مسائل میں مبتلا ہیں ان کا بڑھتا ہوا تشدد ان کی ذہنی کیفیت کی علامت ہے کئی تو سرعام سوشل میڈیا پر اپنے مسائل اجاگر کر چکے ہیں ان میں سے کئی مرچکے ہیں اور کئی لا پتہ ہیں۔
چنار کے درخت کسی زمانے میں شکاریوں سے اٹے ہوئے تھے ان کے قدموں کی چاپ ہر لمحہ دکھائی دیتی اب ان کی جگہ فوجی بوٹوں نے لے لی ۔1989ءسے ہزاروں لاکھوں کشمیری نوجوان آزادی کے متوالے بھارتی تسلط سے نبرد آزما ہیں۔ شہادتوں کی تعداد 1لاکھ سے تجاوز کر چکی۔ اس کشمکش میں کشمیریوں کے کاروبار بھی ختم ہو گئے اور فن بھی ۔1990ءکے بعد سے اس وادی میں صرف فوجی بوٹ اور بندوق کی آواز سنی جارہی ہے۔تہاڑ جیل کا نام سنتے ہی بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا ہے حریت پسندو ں کو اسی جیل میں ٹھونسا جاتا ہے۔ خالصتان تحریک کے سکھوں کو بھی گرفتاری کے بعد اسی جیل میں ڈالا گیا تھا۔
کشمیر میں لاکھوں فوجیوں کی موجودگی ، بیلٹ گولیوں کا استعمال اور فوجی تشدد کسی سے ڈھکا چھپا ہے بس عالمی ضمیر سو رہا ہے اور کچھ نہیں۔ بھارت کی فوج دنیا کی تیسری بڑی فوج ہے اور ہتھیاروں پر خرچ کرنے والا یہ پانچواں بڑا ملک ہے۔ لیکن بھاری بھرکم جدید ترین فیکٹریوں میں بننے والی بندوقیں کشمیریوں کے جذبہ آزادی کا نہ مقابلہ کر سکی ہیں نہ کر سکتی ہیں اورنہ کر سکیں گی۔

یہ بھی پڑھیں:  بے نظیر بھٹو: ایک مثالی شخصیت
کشمیریوں کی زندگیاں روز ایسی صورتحال دیکھتی ہوئے گزری ہیں اور گزر رہی ہیں

اگر کشمیریوں کی موجودہ صورتحال کا ہم جائزہ لیں تو آپ دنگ رہ جائیں گے کہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد 70فیصد ہے جبکہ ملازمتوں میں حصہ 48فیصد ہے اور یہ بھی نچلی ملازمتیں ہیں اونچے درجے پر مسلمانوں کو فائز کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کو سب سے زیادہ خطرناک فوجی خطہ کہا جاسکتا ہے اور اسی فوجی خطے میں جہاں روزانہ بھارتی فوج آزادی کے متوالوں پر بندوقوں سے گولیوں اور آنسو گیس سے فائرنگ کرتے ہیں ۔
نیشنل انٹرسٹ کی تحریک میں درجنوں اگر مگر لگے ہوئے ہیں یہ ہوتا تو وہ ہوتا ویسا ہوتا توایسا ہوتا ۔ تاریخ اگر مگر پر یقین نہیں رکھتی جوہونا تھا وہ ہو گیا۔ جس ملک کی قسمت میں جو لکھا تھا اس کو وہ مل گیا ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آج ہم ویتنام اور افغانستان جیسے خطوں سے سبق حاصل کریں اور کسی نئی جنگ میں کودنے سے گریز کریں۔ خطوں کے عوام کو ان کی سوچ کے مطابق نظام زندگی چلانے کا اختیار دیں اور اپنی طاقت کے نشے یا پیسے کے گھمنڈ میں ان کی ان خواہشات کو اپنے اختیار سے بلڈوز نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیں:  کراچی خوابوں کا شہر، مگر حالت کیا بنا دی ہے اس کی ہم نے ؟