World Alliance for Breastfeeding Action

ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک

EjazNews

dr gulam sidiq

ہر سال دنیا بھر میں یکم سے 7 اگست کو ورلڈ بریسٹ فیڈنگ ویک کے طور پر منایا جاتا ہے ۔ اس کا آغاز ۱۹۹۲ میں کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ہر سال یہ ہفتہ منا یا جاتا ہے ۔ ماں کے دودھ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئےدنیا کے تمام ممالک میں ہر سال اگست کے پہلے ہفتے ،ایک تا سات تاریخ کوورلڈ برسٹ فیڈنگ ویک مناتے ہیں ۔ اس سال بھی جمعرات پہلی اگست تا بدھ سات اگست کو یہ ہفتہ منایا جائے گا ۔یہ ہفتہ ایک بین الاقوامی تنظیم ) WABA (World Alliance for Breastfeeding Action ورلڈ الائنس فار بریسٹ فیڈنگ ایکشن اور) WHO (World Health Organization) اور UNICEF (United Nations International Children’s Emergency Fund) کے زیر انتظام منایا جاتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ ماں اپنے نوزائیدہ بچے کو کم از کم چھ ماہ تک دودھ پلائے جس سے بچے کی صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ اور اس کے ساتھ بچہ بہت سارے مہلک امراض اور بیماریوں مثلا یرقان ،نمونیا ،ہیضہ وغیرہ سے بھی بچا رہتا ہے ۔

میڈیا اور دیگر ذرائع سے بچے کے لئے ماں کے دودھ کی اہمیت کے حوالے سے شعوراور آگاہی دی جاتی ہے ۔ڈبلیو ایچ او اور AAP ( the American Academy of Pediatrics ) کا اس کردار اس سلسلے میں بہت اہم ہے جو اس بات پر بہت ذیادہ زور دے رہی ہیں کہ بریسٹ فیڈ نگ سے ماں اور بچے کی صحت پر بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔بین الاقوامی طور پر اس بات کی پرزور سفارش کی جاتی ہے کہ مائیں کم از کم پیدائش کے چھہ ماہ بعد تک اپنا دودھ پلائیں اور بعد میں دو سال کی عمر تک دوسری ٹھوس غذاوں کے ساتھ اپنا دودھ بھی ضرور پلائیں۔ماوں کے لیے یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ان کو اپنے بچے کی حفاظت اور صحت کی کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جائے جس میں بریسٹ فیڈنگ بھی شامل ہو۔ مسلسل مدد اور آگہی سے ہم اپنا یہ مقصد ضرور حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کام کے لیے فیملی،کمیونٹی لیڈرز،ٹرینڈ ہیلتھ ورکرز،مقامی ماہرین،دوستوں اور والدین کی مدد انتہائی ضروری ہے۔

بریسٹ فیڈنگ کی تاریخ

قدیم مصر ،یونان،اور روم میں مائیں عام طور پر بچوں کو اپنا دودھ ہی پلایا کرتی تھیں۔ جاپان میں تو بعض اوقات بالغ ہونے تک بچوں کو دودھ پلانے کے واقعات ملتے ہیں۔ تاہم شاہی خاندان کی خواتین عام طور پر اپنے بچوں کے لیے دایہ کا اہتمام کرتیں تھیں جن کوwet nursesکہا جاتا تھا ۔ یہ طریقہ کئی زمانوں پر محیط ہے ۔ بعد میں یورپ میں بھی امیر گھرانوں کی خواتین اپنے بچوں کو دایہ کا دودھ پلوانے لگ گئیں ۔ کئی ترقی پذیر ممالک میں مشترکہ بریسٹ فیڈنگ کا طریقہ آج بھی جاری ہے یعنی ایک عورت کئی بچوں کو دودھ پلاتی ہے۔اسلام میں تو اس بات پر خاص زور دیا گیا ہے قرآن پاک میں اللہ کا ارشاد ہے۔
( اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں یہ (حکم) اس شخص کے لئے ہے جو پوری مدت تک دودھ پلوانا چاہے۔ اور دودھ پلانے والی ماؤں کا کھانا اور کپڑا دستور کے مطابق باپ کے ذمے ہوگا۔ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دی جاتی (تو یاد رکھو کہ) نہ تو ماں کو اس کے بچے کے سبب نقصان پہنچایا جائے اور نہ باپ کو اس کی اولاد کی وجہ سے نقصان پہنچایا جائے اور اسی طرح (نان نفقہ) بچے کے وارث کے ذمے ہے۔ اور اگر دونوں (یعنی ماں باپ) آپس کی رضامندی اور صلاح سے بچے کا دودھ چھڑانا چاہیں تو ان پر کچھ گناہ نہیں۔ اور اگر تم اپنی اولاد کو دودھ پلوانا چاہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ تم دودھ پلانے والیوں کو دستور کے مطابق ان کا حق جو تم نے دینا کیا تھا دے دو اور خدا سے ڈرتے رہو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو دیکھ رہا ہے)

اٹھاروئیں صدی عیسوی میں مرد ڈاکٹروں نے پریگننسی اور ڈلیوری کے معاملات کو اپنانا شروع کر دیا جبکہ پہلے یہ تمام معاملات صرف خواتین ہی دیکھا کرتی تھیں،اسی دوران یورپ میں امیر عورتوں کے اپنے بچوں کو دایہ سے دودھ پلوانے کے خلاف باقاعدہ مہم کا آغاز کیا گیا ۔اس سلسلے میں اس بات کی ہدایت کی گئی اور بعض جگہوں پر قانونا اس بات پر زور دیا گیا کہ مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلائیں ۔ 1748میں ایک تحقیق کی گئی جس میں بتایا گیا کہ بریسٹ فیڈنگ سے بچوں کی اموات میں کافی کمی لائی جا سکتی ہے ۔ ماں کا دودھ ایک کرشماتی خصوصیات کا حامل مشروب قرار دیا گیا ۔اس کو پینے والے بچے نہ صرف بیماریوں سے محفوظ رہتے ہیں بلکہ وہ ذیادہ ذہین بھی ہوتے ہیں ۔جبکہ اسی دور میں ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو دودھ پلانے کے عمل کو جانوروں سے تشبیہ دیتے تھے ۔انیسویں صدی میں امریکہ میں تقریبا تمام بچوں کو مائیں اپنا دودھ پلایا کرتیں تھیں۔اسی طرح ڈچ خواتین بھی تقریبا تمام بچوں کو اپنا ہی دودھ پلایا کرتیں تھیں۔ماں کا دودھ بچوں کے لیے بہترین تصور کیا جاتا تھا لیکن اس کی کوالٹی مختلف ہوتی تھی۔ وہ دودھ اچھا تصور کیا جاتا تھا جس ماں کی خوراک متناسب،جو جسمانی ورزش کرنے والی،اور ذہنی طور پر صحت مند ہوتی تھی۔ اگرچہ یورپ اور امریکہ میں لوگ فارمولہ ملک کا سہارا بھی لیتے تھے لیکن اس کو صحت کے کیے خطرناک تصور کیا جاتا تھا۔
1800 صدی کے دوسرے نصف سے لیکر 1960کی دہائی تک مغربی دنیا میں بریسٹ فیڈنگ کے ٹرینڈ میں خاطر خواہ کمی واقع ہو گئی تھی۔جبکہ1950کی دہائی کے دوران تو یہ رویہ پروان پا چکا تھا کہ بریسٹ فیڈنگ صرف ان پڑھ اور غریب غربا کا کام ہے ۔ اس کو پرانا فیشن بلکہ قابل نفرت تک خیال کیا جانے لگا ۔لیکن بلآخر 1960کی دہائی کے بعد بتدریج پڑھی لکھی اور اونچے خاندان کی خواتین میں بریسٹ فیڈنگ دوبارہ جڑھ پکڑنے لگی ۔اس سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ بھی 2018میں سامنے آیا جب ایک ہیجڑے نے اپنے لے پالک بچے کو اپنا دودھ پلا یا ۔یہ دنیا کی تارخ کا ایک پہلا اور یادگار واقعہ تھا۔
کینیڈا میں 1994میں کیے گئے ایک سروے میں سامنے آیا کہ اس وقت 73% خواتین بریسٹ فیڈنگ کروا رہی تھیں جبکہ یہ تعداد 1963 میں38% تھی اور90% سے ذائد خواتین کا خیال تھا کہ فارمولہ ملک کی نسبت ماں کا دودھ بچے کے لیے ذیادہ مفید ہے ۔ جبکہ بریسٹ فیڈنگ نہ کروانے والی خواتین کا خیال تھا کہ فارمولہ ملک سے فیڈنگ ذیادہ آسان ہے ۔ بریسٹ فیڈنگ کا تعلق عموما ماں کی شادی شدہ زندگی،تعلیم اور فیملی انکم پر منحصر ہوتی ہے ۔
بہت سارے ممالک میں عوامی دباو کے زیر اثر بریسٹ فیڈنگ کی اہمیت پر زور دیا جانے لگا ہے۔ بلکہ بہت سارے ممالک مین تو پبلک مقامات پر بریسٹ فیڈنگ کے لیے قانون سازی بھی کی گئی ہے جس کے تحت ماں کو دودھ پلانے کےدوران تحفظ فراہم کیا جے گا ۔اس سلسلے میں ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور بہت ساری این جی اوز نے مل کر کام کیا ہے ۔ اس کے تحت بریسٹ فیڈنگ کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی جاتی ہے بلکہ اس کے فوائد کے بارے میں آگہی بھی دی جاتی ہے۔ خاص طور پر ۲۵ سال سے کم عمر ماوں کو بریسٹ فیڈنگ کی طرف راغب کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  جسمانی صحت، ذہنی صحت سے جڑی ہے

ماوں کے لیے یہ بات بہت اہمیت کی حامل ہے کہ ان کو اپنے بچے کی حفاظت اور صحت کے بارے میں بروقت آگاہ کیا جائے جس میں بریسٹ فیڈنگ بھی شامل ہو

اگر ماں بچے کو اپنا دودھ نہیں پلا سکتی اور دایہ کا بھی انتظام نہیں ہو سکتا تو پھر دودھ کے لیے متبادل ذرائع ،مثلا گائے ،بھینس یا بکری وغیرہ کا دودھ پلایا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی بہت اہمیت کی حامل ہے کہ جب ماں بچے کو اپنا دودھ چھڑائے تو اس کو پہلی غذا کون سے دی جانی چاہئے۔
بچوں کو دودھ پلانے کے مختلف برتن ۲۰۰۰ سال قبل از مسیح کے دور کے مصر سے ملے ہیں ۔اسی طرح روم، پہلی صدی عیسوی میں بچوں کی قبروں میں مٹی کے برتن ملے ہیں جو دودھ پلانے کے کام آتے ہوں گے۔
نویں تا پندرھویں صدی عیسوی کی بہت ساری تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ بچوں کو مختلف جانوروں سے ملنے والا دودھ پلایا جاتا تھا۔ خاص طور پر بکری کا دودھ ذیادہ استعمال ہوتا تھا ۔ انیسویں صدی میں آٹے اور دوسری اجناس کو پانی اور یخنی میں ملا کر بچوں کو دودھ کے متبادل دیا جاتا تھا ۔ لیکن یہ طریقہ ذیادہ دیر تک نہ چل سکا اور بہت جلد ختم ہو گیا۔ اس زمانے میں سہری اور دیہی علاقوں میں ایک فرق یہ نظر آیا کہ دیہی خواتین شہری خواتین کی نسبت ذیادہ دورانئیے تک بچوں کو دودھ پلاتی تھیں ۔
1860کی دہائی میں ہنری نیسلے نے پہلی بار انفینٹ فارمولہ ملک متعارف کروایا تھا مگر اس کو دوسری جنگ عظیم کے بعد زبردست پذیرائی حاصل ہوئی۔
آئیے اب بریسٹ فیڈنگ کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ اس سے مراد بچہ پیدا ہونے کے بعد ماں کا اپنی چھاتیوں سے بچے کو دودھ پلانا ہے ۔ اس بارے میں ناہرینکی رائے یہ ہے کہ بچے کو پیدا ہونے کے پہلے گھنٹے کے دوران ہی ماں کا دودھ پلانا شرع کر دینا چاہیے ۔انگریزی میں دودھ پلانے کے عمل کو لیکٹیشن کہتے ہیں ۔ بچے کے چھاتی کو چوسنے کے عمل کے دوران ایک ہارمون پیدا ہوتا جس کو اوکسیٹوسین کہتے ہیں ( یہ وہی ہارمون ہے جو گوالے بھینسوں کو لگا کر دودھ حاصل کرتے ہیں)اس ہارمون کے زیر اثر دودھ بہ کر نپل کے پیچھے جمع ہونے لگتا ہے اور پھر بچے کے منہ میں چلا جاتا ہے۔
پریگننسی سے قبل بریسٹ ذیادہ تر چکنائی پر مشتمل ہوتی ہے لیکن پریگننسی کے دوران اس میں تبدیلیاں آنے لگتی ہیں اور زنانہ سیکس ہارمونز کے زیر اثر بریسٹ میں دودھ بننا شرع ہو جاتا ہے اس کے ساتھ ساتھ بریسٹ کو خون کی سپلائی میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے ۔شروع میں ایک گاڑھا مادہ (کلوسٹروم ) بنتا ہے اور شروع کے تقریبا دو دن تک یہ گاڑھا کلوسٹروم ہی بچے کی غذا بنتا ہے جس کے بعد دودھ کی پیداوار شروع ہو جاتی ہے ۔ کولوسٹرم اگرچہ گاڑھا ہوتا ہے لیکن دودھ کی نسبت آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے ۔ یہ قبض کشا تاثیر کا حامل ہوتا ہے جس کے سبب بچے کو بار بار پاخانے آتے ہیں جو جسم سے بلی روبن کے اخراج کا باعث بن کر یرقان سے بچاو کا ذریعہ بنتا ہے ۔
بریسٹ ملک کی تمام خصوصیات کے بارے میں تو ذیادہ علم نہیں ہے لیکن اس میں جو اجزا پائے جاتے ہیں وہ ماں کے خون اور جسم میں پائے جانے والے غذائی اجزا پر مشتمل ہوتے ہیں اور اس میں قدرتی طور پر چکنائی ،شوگر ،پانی اور پروٹین کی مناسب ترین مقدار پائی جاتی ہے جس قدر کہ بچے کو ضرورت ہوتی ہے ۔ بریسٹ فیڈنگ سے بچے کے اندر بائیوکیمیکل ری ایکشن سٹارٹ ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے بچے کے اندر انزائمز ،ہارمونز ،گروتھ فیکٹرز امیونٹی پیدا کرنے والے مادے پیدا ہونے لگتے ہیں جس سے بچے کا جسمانی دفاعی نظام طاقتور ہونے لگتا ہے ۔اس کے علاوہ ماں کے دودھ میں ایسے کیمیائی مادے بھی پائے جاتے جاتے ہیں جو بچے کی آنکھوں اور دماغ کی نشونما کرتے ہیں ۔
بریسٹ فیڈنگ پیدا ہونے کے فورا بعد شروع کر دینی چاہیے ۔ماہرین کے مطابق بچہ فورا دودھ پینا شروع نہیں کر دیتا بلکہ اس سے پہلے وہ ماں کے چہرے بلکہ آنکھوں میں دیکھتا ہے اور پھر کچھ وقت کے بعد دودھ پینا شروع کرتا ہے ۔خیال کیا جاتا ہے کہ بچے اور ماں کے درمیان ینٹر ایکشن کا یہ دورانیہ آنے والے وقت میں ماں اور بچے کے درمیان جذباتی وابستگی میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ماہرین اس بات کی بھی سفارش کرتے ہیں کہ پیدا ہونے کے بعد وزن کرنا ،جسمانی پیما ئیش کرنا ،نہلانا وغیرہ سب پہلی بریسٹ فیڈنگ کے بعد کرنی چاہیے۔
وقت سے قبل پیدا ہونے والے بچوں کو بریسٹ فیڈنگ میں دشواری ہوی ہے اس لیے انہیں یا تو دودھ ماں کی چھاتیوں سے نکال کر پلایا جا سکتا ہے یا فارمولا ملک دیا جا سکتا ہے ۔ لیکن اس کے لیے کسی بوتل یا فیڈنگ ٹیوب کا سہارا نہیں لیا جانا چاہیے بلکہ کسی کپ کی مدد سے فیڈنگ کرنی چاہیے ۔ ہاد رکھیں جن بچوں کی زبان میں تندوا ہو ان کو بھی بریسٹ فیڈنگ میں مشکل پیش آ سکتی ہے ۔
عام طور پر پہلے چار ہفتوں کے دوران بچہ ایک تا دو گھنٹے بعد دودھ پینا چاہتا ہے گویا دن میں آتھ تا دس بار دودھ پلانا پڑتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نوزائیدہ بچے کا معدہ بہت چھوٹا ہوتا ہے جس میں ۵ ملی لیٹر دودھ آتا ہے یعنی ایک چھوٹا چمچہ دودھ ۔تین دن تک یہ مقدار بیس تا تیس ملی لٹر تک جا پہنچتی ہے اور ساتویں دن ساٹھ ملی لٹر ہو جاتی ہے اللہ کی قدرت کہ ماں کی چھاتیوں میں بھی بچے کی ضرورت کے مطابق دودھ کی پیداوار بڑہتی جاتی ہے ۔
نوزائیدہ بچوں میں بریسٹ فیڈنگ کا ایک دورانیہ ۲۰ تا ۳۵ منٹ کا ہوتا ہے ۔ بچے کو پہلے چھ ماہ کے دوران صرف ماں کا دودھ پلانا چاہیے اور اس دوران پانی،جوس،دوسرا کوئی دودھ ،یا کسی قسم کی غذا نہیں دینا چاہیے ہاں البتہ وٹامنز ،منرلز ،اور ادویات دی جا سکتی ہیں ،کچھ ممالک میں وتامن ڈی سپلیمنٹ روزانہ دیا جا سکتا ہے ۔چھ ماہ کی عمر کے بعد ٹھوس غذا شروع کر دینی چاہیے مگر اس کے ساتھ ساتھ بریسٹ فیڈنگ بھی جاری رہنی چاہیے،اسلام میں دو سال تک دودھ پلانا جائز ہے جس کے بعد اس کی اجازت نہیں ہے۔ایک نکتہ ذہن میں رکھیں کہ تقریبا تمام مائیں ابتدائی چھ ماہ تک بچے کی ضروریات کے مطابق کافی دودھ پیدہ کرتی ہیں اور دودھ کی پیداوار میں بچے کی ڈیمانڈ کے مطابق اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔لیکن اگر فیڈنگ کے دوران تمام دودھ بریسٹ کو اچھی طرح خالی نا کیا جائے یعنی بچہ پوری طرح دودھ نہ پیے تو دودھ کی پیداوار میں کمی ہونے لگتی ہے ۔
ماں کا دودھ نہ صرف بچے کے لئے مفید ہے بلکہ ماں کی اپنی صحت کے لئے بھی کار آمد ہے ۔بچے کو دودھ پلانے کے فوائد میں بچے کا صحت مند ہونا، بیماریوں سے حفاظت، ہڑیوں کی مضبوطی، پیدائش کے بعد موت کے امکانات میں کمی، ماں کے غیر ضروری وزن میں کمی، زچگی کے بعد پیدا ہونے والی پیجیدگیوں کا بروقت رفع ہوجانا، چھاتی کے کینسر کے امکانات کا کم ہونا، ممتا کی قوت میں اضافہ ، عموما خواتین کو درپیش صحت کی شکایات میں کمی واقعہ ہونا، خاندانی منصوبہ بندی میں مددگار ، بچے کے لئے سب سے آسان طریقہ خو راک اوربازار کے دودھ یا خوراک سے متعلق غیر ضروری اخراجات کی بچت شامل ہے ۔
ہمارے ہاں روایتی طور پر بچے کو دودھ پلانا اچھا سمجھا جاتا ہے مگر اس کے فوائد کا لوگوں کو علم نہیں ہوتا۔ اس لئے بعض دفعہ اس کی اہمیت کو نظر انداز کیا جاتا ہے ۔ آج کل کی خواتین اپنی مصروفیات اور خاص طور سے پڑھائی یا دفتروں میں کام کی وجہ سے بھی بچے کو مناسب وقت میں دودھ پلانے سے قاصر رہتی ہیں ۔ بعض دفعہ ماں کو مناسب خوراک نہ ملنے، کسی حادثہ، بیماری ، ذہنی دباؤ ، نقل مکانی یا زچگی کے دوران ماں کی موت کی وجہ سے بچہ ماں کے دودھ سے محروم ہوجاتا ہے۔لیکن اگر کوئی ماں کم علمی یا مصروفیات کی وجہ سے اگر بچے کودودھ نہیں دیتیہے تو وہ بچہ اور ماں دونوں کی صحت کے لئے نقصان دہ ہے ۔ ہمارے ہاں خواتین کے چھاتی کے کینسر کے بڑھتے ہوئے واقعات اسی کا پیش خیمہ ہیں جبکہ بچوں کا قد، وزن اور صحت کے دیگر مسائل بھی اسی کہ وجہ سے پیش آتے ہیں۔بچے کو دودھ دینا بچے کا بنیادی حق ہے ۔ بچے کو ان کی ماں کے دودھ سے محروم رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس لئے بچہ اور ان کی ماں دونوں کے لئے مناسب ماحول کی فراہمی ضروری ہے۔ ماں کا مناسب خوراک، صحت، مناسب ماحول، حفاظت اورسردی گرمی سے بچاؤ کے لئے مناسب اقدامات کے ذریعے ہی بچہ کو دودھ نصیب ہوسکتا ہے۔ ماں اگر کسی دفتر، فیکٹری یا کسی اور جگہ کام کرتی ہے تو ان کو دن میں چار سے پانچ مرتبہ بچے کو دودھ دینے کے لئے وقت دیا جانا چاہئے اور وہ وقت اس کے کام کے وقت میں شمار کیا جانا چاہئے تاکہ وہ بچہ دودھ سے محروم نہ ہوسکے۔ اس ضمن میں دنیا کے کئی ممالک میں قوانین پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں کم علمی کی وجہ سے اس پر تو جہ نہیں دی جاتی۔ بلکہ کام کی جگہ پر خاتون بچے کو دودھ پلانے کے لئے وقت مانگے تو اس کو ذہنی اذیت سے دو چار کیا جاتا ہے۔ بچوں کے حقوق کا عالمی کنونشن خاص طور سے حکومتوں سے بچوں کی نشونماء اور مناسب خوراک اور والدین کی مناسب تربیت اور مدد کے لئے اقدامات کا تقاضا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  طبی معلومات
کیٹاگری میں : صحت