dronz

چین میں ڈرونز کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے

EjazNews

گزشتہ چند سالوں میں امریکہ ، یورپ اور چین میں ڈرون انڈسٹری کو بہت تیزی سے فروغ حاصل ہوا ہے۔ افغانستان سمیت بعض دوسرے ممالک میں جاسوسی اور بیوپاری کے لیے بدنام ہونے والے ڈرونز میں فوٹو گرافی اور میڈیا کوریج کو فروغ دے کر کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں۔ لیکن یہی ڈرونز اب ہماری فضا کے لیے خطرہ بنتے جارہے ہیں۔
چین کے ایک سٹیڈیم میں فٹ بال میچ کے دوران اچانک ایک ڈرون میدان میں گھس آیا جسے فوراً ہی انتظامیہ انٹری ڈرونز گن کی مدد سے گراﺅنڈ میں اتار لیا۔ اینٹی ڈرونز گنزنے گھس بیٹھیے ڈرونز کے سگنل جام کر کے اسے بے بس کر دیاتھا مگر اب یہ اینٹی ڈرون گن ہر قسم کے ڈونز کے لیے مو¿ثر نہیں رہی۔ بعض کمپنیوں نے ایسے ڈرونز بنانا شروع کر دئیے ہیں جن کے سگنلز کو جام کر نا ممکن نہیں۔ اسی لیے چین نے بھی اینٹی ڈرونز گنز کے ساتھ ساتھ طاقت ور سسٹم بھی تیار کرلیے ہیں جو ایک سے چار کلو میٹر کی حدود میں کسی بھی ڈرون کو پکڑنے میں مدد دے سکتے ہیں۔ ایک کلو میٹر کی رینج میں ڈرون کو قابو کر نے کے لیے چین میں عوام 18ہزار ڈالر میں اینٹی ڈرون گن خرید سکتے ہیں۔
کئی ممالک میں فوجی مقاصد کے ساتھ ساتھ سول مقاصد کے لیے بھی ڈرونز کا استعمال بڑھتا جارہا ہے۔ ان ممالک میں چین بھی شامل ہے۔ چین میں سینکڑوں افراد نے اپنی حفاظت اور دیگر مقاصد کے لیے ڈرونز کی خریداری کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ ڈرون انڈسٹری چائنہ میں بہت تیزی سے فروغ پا رہی ہے۔ چین میں ڈرونز کا بڑھتا ہوا استعمال اور خریداری پر فی الحال کسی کو کوئی خطرہ نہیں۔ نہ ہی کسی نے اس سلسلے میں کوئی اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ اپنی حفاظت کرنا سب پر لازم ہے ۔ اس لیے یہ ڈرونز بھی چین میں مقبول ہوتے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈونیشیا کے انسان نما بھوت