zil haji

عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت

EjazNews

ذوالحجہ یعنی حج والا مہینہ اس مبارک مہینے میں حج ادا کیا جاتا ہے۔ اور اس مقدس مہینے میںقربانی کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار منائی جاتی ہے یہ دونوں چیزیں فضیلت کے لئے کافی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود حدیثوں میں اس مہینے اور خصوصاً پہلے عشرہ کی زیادہ فضیلت بیان کی گئی ہے۔ ذی الحجہ کا چاند نظر آتے ہی تکبیریں کہنی شروع کردو۔ راستوں میں گلی کوچوں میں چلتے پھرتے اورنماز وں کے بعد تکبیر کو بلند آواز سے کہنا سنت ہے۔ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر اللہ اکبر وللہ الحمد اللہ اکبر اللہ اکبر اللہ اکبر کبیرا سبحان اللہ بکرة واصیلا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب دنوں سے بڑا اور پیارا دن اللہ کے نزدیک ذی الحجہ کے دس دن ہیں ۔ تم ان دنوں میں بہت سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہا کرو ۔ (طبرانی ، ترغیب)
اور فرمایا:
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کو نیک اعمال جس قدر عشرہ ذی الحجہ میں محبوب ہیں اتنے اور ایام میں محبوب نہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ حضرت جہاد فی سبیل اللہ بھی نہیں۔ آپ نے فرمایا: ہاں جہاد بھی ، مگر وہ مجاہد جو جان و مال سمیت اللہ کے راستے میں نکلے اور شہید ہوگیا وہاں سے کوئی چیز واپس نہیں آئی۔(ترمذی)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
عشرہ ذی الحجہ میں عبادت اللہ تعالیٰ کو بہت پسندیدہ ہے ان ایام کے ہر روزے کا ثواب پورے سال کے روزوں کا ثواب ملتا ہے۔ اور ایک رات کا قیام شب قدر کے قیام کے برابر ہے۔(ترمذی ، ترغیب)
لہٰذا جب تم مکہ مکرمہ میں رہو تو ان دنوں میں غافل مت رہو۔ خوب شوق سے نیکیوں میں حصہ لو۔ یہاں ایک نیکی کا ثواب لاکھوں نیکیوں کے ثواب کے برابر ہے۔ حج کی تاریخ آنے تک نفلی طواف و تسبیح و تہلیل اور سبحان اللہ الحمد للہ وغیرہ کثرت سے کہتے رہو۔
خطبات حج
حج میں تین خطبے مسنون ہیں۔ امام الحج سات ذی الحجہ کو ظہر کے بعد خطبہ دیتا ہے جس میں حج کے اسرار و فوائد اور دیگر احکام حج کو بیان کرتا ہے۔ حاجیوں کو ان خطبوں کو سننا چاہئے۔ ان کی سمجھ میں یہ خطبے آئیں یا نہا ٓئیں ۔ دوسرا خطبہ مسجد نمرہ عرفات میں زوال کے بعد ظہر و عصر جمع کرنے سے پہلے تیسرا مسجد خیف منیٰ میں گیارھویں تاریخ کو ظہر کے بعد۔
منی کو روانگی:
اگر تم نے حج تمتع کا احرام باندھا تھا اور عمرہ کر کے حلال ہو گئے تھے تو آٹھویں ذی الحجہ کو جہاں کہیں بھی ہو صبح سویرے غسل اور وضو کر کے احرام باندھ کر دو رکعت نماز پڑھو۔ اور اگر قرآن و افراد کا احرام باندھا تھا تو پہلے کا احرام باقی ہے دوبارہ احرام کی ضرورت نہیں ہے۔ اب تم اپنے معلم کے ساتھ ضروری سامان لے کر لبیک پکارتے ہوئے منیٰ کی طرف چلو۔ منیٰ میں پہنچ کرج ہاں تمہارے معلم نے ٹھہرنے کا انتظام کیا ہے وہاں ٹھہرو جگہ حاصل کرنے کے لئے کسی سے جھگڑا فساد مت کرو۔ جہاں جو ٹھہر گیا وہ اس جگہ کا مستحق ہو گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا (منی مناخ لمن سبق) منیٰ میں جو پہلے پہنچ گیا وہ اس کی جگہ ہے۔ کوئی شخص اس کو ہاں سے نہیں ہٹا سکتا۔
منیٰ میں:
تین کام سنت ہیں۔ (۱) ظہر ، عصر، مغرب، عشاء، فجر کی نماز منیٰ میں ادا کرنی۔ (۲) ذی الحجہ کی آٹھ اور نوکی درمیانی رات منیٰ میں گزارنی (۳) ذی الحجہ کی نویں تاریخ کو سورج نکلنے کے بعد منیٰ سے عرفات کی طرف نکلنا، منیٰ میں ظہر وعصر اور عشا قصر کرو اور مغرب و فجر کو پوری پڑھو۔ ان پانچوں نمازوں کو مسجد خیف میں پڑھو۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر منیٰ تشریف لائے اور ظہر و عصر و مغرب اور عشاءو فجر کی نمازیں منیٰ میں پڑھیں۔
نویں کو عرفات کی طرف روانگی
نویں تاریخ کو جب آفتاب خوب اچھی طرح نکل آئے اور پہاڑوں پر اس کی دھوپ چڑھ جائے تومنیٰ سے عرفات کی حاضری کے لئے میدان عرفات کی طرف چلو۔ منیٰ سے چلتے ہوئے اس دعا کو پڑھتے ہوئے چلو:
ترجمہ: خدایا تو میرے اس صبح کے چلنے کو بہتر اور اپنی رضا مندی کی طرف قریب کرنے والا اور اپنے غصہ سے دور کرنے والا بنا دے۔ اے اللہ میں تیری خوشنودی حاصل کرنے کے لئے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں یا ارحم الراحمین تو میرے حج کو بہتر حج اور مقبول حج اور میری سعی کو قابل قدر بنا دے اور میرے گناہوں کو معاف فرما دے۔(رحلة الصدیق)
اس دعا کو اور دوسری دعاﺅں کوپ ڑھتے ہوئے اور تہلیل و تسبیح و تکبیر اورتلبیہ کہتے ہوئے چلو۔ منیٰ سے کچھ آگے چل کر مزدلفہ کا میدان آئے گا۔ وہاں پہنچ کر سیدھے عرفات کو چلے چلو، یہاں ٹھہرونہیں۔
عرفات میں پہنچنے کا راستہ:
مزدلفہ سے عرفات کو جاتے وقت دو راستے ہوجاتے ہیں ۔ (۱) طریق مازمین (۲) طریق ضب۔ طریق مازمین سیدھا عرفات کو چلا گیا ہے۔ ناواقف عوام اسی راستے سے عرفات کو جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ راستہ عرفات سے مزدلفہ کو واپس آنے کا ہے ۔ طریق مازمین سے جانا سنت کے خلاف ہے، طریق ضب طریق مازمین کی داہنی جانب سے نمہ گیا ہے اسی راستے سے عرفات کو جانا سنت ہے۔
نمرہ:
عرفات کے پہلے ایک میدان کانام نمرہ ہے یہاں پر ایک مسجد بنی ہوئی ہے جس کو مسجد آدم یا مسجد ابراہیم اور مسجد نمرہ بھی کہتے ہیں۔ تم طریق ضب سے آکر اسی جگہ اترو، خیمہ یا کوئی اور سایہ بنا کر اس کے نیچے تھوڑی دیر آرام کر لو۔ غسل ووضو کرلو اور کچھ کھا پی لو اور سورج ڈھلتے ہی ظہر و عصر کی نماز ملا کر جماعت سے مسجد نمرہ میں ادا کرو۔ یہاں پہلے خطبہ ہوگا اسے نسو، پھرنماز باجماعت ملا کر قصر پڑھو جیسا کہ آگے بیان آرہا ہے پھر عرفات کو چلو ، زوال سے پہلےمیدان عرفات میں جانا درست نہیں ہے۔ بلکہ زوال تک نمرہ میں رہنا ضروری ہے۔ اس زمانے میں ناواقف لوگوں نے اس سنت کو چھوڑ دیا ہے اور زوال سے پہلے عرفات میں چلے جاتے ہیں۔
نمرہ میں خطبہ اور نماز
وادی نمرہ کے نشیب میں پہلے خطبہ دینا اس کے بعد نماز پڑھنا سنت ہے۔ امام الحجاج کو چاہئے کہ مسجد نمرہ کے سامنے ذرا بائیں رخ کو ہٹ کر نشیب میں کسی سواری پر سوار ہو کر یا کھڑے ہوکر مختصر خطبہ بیان کرے اس کے بعد اذان دلا کر اور تکبیر کہلوا کر دو رکعت ظہر کی نمازپڑھائے اس کے بعد پھر تکبیر کہلوا کر دو رکعت عصر کی نماز پڑھائے۔ ان دونوں نمازوں کو ساتھ ساتھ جمع کرے۔ آگے پیچھے سنتوں کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ان دونوںنمازوں میں سری قرآت ہو ایک خطبہ کافی ہے۔ بعض دو خطبے کے بھی قائل ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجة الوداع کے موقع پر اونٹنی پر سوار ہو کر اسی جگہ جہاں اب مسجد نمرہ واقع ہے۔خطبہ پڑھا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:  حضرت ابراہیم علیہ السلام کا حج