climate change

صدر ٹرمپ کا دور کلائمنٹ چینج پر بہت بھاری گزرا

EjazNews

امریکہ میں نئے صدارتی انتخابات قریب آرہے ہیں ۔ امیدواروں نے بھی اعلانات کردئیے کہ کون کون صدر کیلئے الیکشن لڑ رہا ہے۔ لیکن ہم گزشتہ انتخابات میں صدر ٹرمپ کے کلائمنٹ چینج کے موقف کو دیکھتے ہیں کہ وہ کس قدر اپنے اس وعدہ میں کامیاب رہے ہیں ۔
اپنی گزشتہ انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے موسمیاتی تبدیلیوں کے قوانین کو منسوخ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اقتدار میں آنے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے جو پہلے احکامات صادر کیے ان میں سے ایک کلائمنٹ چینج کے لفظ کو ہی کالعدم قرار دینا تھا۔ صدر ٹرمپ نے امریکہ میں موسمیاتی تبدیلی کا لفظ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ ان کا جاری کردہ یہ ایگزیکٹو آرڈر موسم پر تحقیق کرنے والوں پر بجلی بن کرگرا تھا۔ صدرٹرمپ نے تمام صدارتی دستاویزات ، تمام سرکاری فائلوں اور پالیسیوں میں سے کلائمنٹ چینج کا لفظ حرف غلط کی طرح مٹانے کا کہہ دیا تھا۔ ڈیپارٹمنٹ آف انرجی نے اسی حکم کی روشنی میں تمام ریاستوں کو خصوصی مراسلے بھی جاری کر دئیے تھے۔ ٹرمپ کے اس حکم کیخلاف 24ریاستوں نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا تھا۔ سپریم کورٹ نے اگرچہ صدرٹرمپ کے اس فیصلے کیخلاف حکم امتناعی جاری کر دیا تھا لیکن سائنسدانوں کو تشویش اس بات کی ہے کہ صدرٹرمپ مستقبل میں مزید ایسے اقدامات کریں گے چنانچہ ان کوروکنا انتہائی ضروری ہے۔ صدرٹرمپ موسمیاتی تبدیلی یا کلائمنٹ چینج کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہیں ان کاکہنا ہے کہ یہ قدرت کے اختیار میں ہے نہ انسان موسم کو بدل سکتا ہے نہ اس کو ٹھنڈا کر سکتا ہے نہ گرم کر سکتا ہے۔ موسمی اتار چڑھاﺅ صرف قدرت کے ہاتھ میں ہے۔ وسیع تر معانوں میں یہ بات ہم بھی مانتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  روس اور چین خلا میں امریکی برتری محدود کرنے کے چکر میں ہیں:پینٹاگون
سابق صدر اوبامہ نے قلیل المعیاد پروگرام کے ذریعے سے کوئلے کے تمام پلانٹ گیس پر تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے

لیکن سائنسدانوں کو تشویش ہے کہ اس وقت دنیا بھرمیں بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث سمندری طوفانوں اور میدانوں میں آلودگی انسانی جان اور صحت دونوں کیلئے خطرناک ہے۔ برازیل کے مرکزی شہر درپن میں شہری ماسک کے بغیرنہیں نکل سکتے۔ یہی حال نئی دہلی کا ہے۔ نئی دہلی کی گرد آلود ہوائیں وہاں کے شہریوں کیلئے تو عذاب ہیں ہی ساتھ ہی وہ پاکستان میں لاہور سمیت پنجاب کے کئی شہروں میں وہاں کی گرد آلود دھند چلنا پھرنا دشوار بنا دیتی ہے۔ شہروں میں دھند سے اس قدر اندھیرا چھا گیا کہ دن میں بھی لائٹیں جلانا پڑیں۔ اس قدر آور دھند سے سانس اور نظام ہاضمہ کی بیماریوں نے جنم لیا۔
سائنسدانوں کو یہ بھی اندیشہ ہے کہ کچھ ریجن میں تیزی سے درجہ حرارت بڑھ رہاہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ علاقے دنیا کے دوسرے علاقوں کے با نسبت دگنی رفتار سے گرم ہورہے ہیں ارضیاتی سائنسدانوں نے ان ریجن میں برف کے پگھلنے کو خطرناک قرار دیا ہے، برف پگھلنے سے بعض علاقوں میں پوری بستیوں کے تمام لوگ ہجرت کر گئے۔ الاسکا کی ساحلی پٹی پر بھی ایسا ہی ہوا، زمینی کٹاﺅ نے شہریوں کا جینا دشوار کر دیاچنانچہ بہت سے لوگ ہجرت کرگئے۔
سمندروں میں برفانی تودے گرنے کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں۔ الاسکا کے موسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ الاسکا سے آرٹیک کا ریجن موسمی تبدیلیوں سے زیادہ متاثر ہواہے۔ پہاڑوں پر پرانی برف ختم ہو رہی ہے۔ محققین کے مطابق 1985ءمیں قطبی حصے پر 20فیصد برف چار سال پرانی تھی۔ لیکن لگ بھگ تیس سال میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کے باعث یہ 20فیصد حصہ کم ہوکر صرف 4فیصد رہ گیا۔ توانائی کا شعبہ موسمیاتی تبدیلیوں کا سب سے بڑا ذمہ دار تھا۔ ہزاروں میگا واٹ بجلی کوئلے کے پلانٹ سے تیار کی جارہی ہے۔ سابق صدر اوبامہ نے قلیل المعیاد پروگرام کے ذریعے سے کوئلے کے تمام پلانٹ گیس پر تبدیل کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔ کلائمنٹ ایکشن پلان کے تحت جاپان میں ہونے والے معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلیوں سے بچاﺅ کے لیے آلودگی پیدا کرنے والے تمام عناصر پر ٹیکسوں میں اضافہ کیاجانے لگا۔ کار ہو یا فیکٹری کاربن ٹیکس کی شکل میں سب کو ہی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ شہری حکومت نے بھی کاربن ٹیکس کی تجویز پر عملدرآمد شروع کر دیا۔اس کاربن ٹیکس کے خلاف امریکہ میں احتجاج ہوئے ۔
اب ایک طرف زمین کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت اس سے پیدا ہونے والے امراض ، پہاڑوں پر بڑھتے ہوئے درجہ حرارت سے پگھلنے والی برف اور اس برف کے نتیجے میں آنے والے سمندری طوفان سائنس دانوں کے پیش نظر ہیں۔ ساحلی علاقوں میں ان طوفانوں نے اربوں ڈالر کا نقصان کیا ہے۔ مگر دوسری طرف طاقتور پیسے دینے والی انرجی سیکٹر کی لابیاں ہیں۔ ری پبلکن پارٹی کے کرتا دھرتا ان لابیوں کی مٹھیوں میں ہیں۔ کروڑوں ڈالر ری پبلکن کی انتخابی مہم میں اسی لابی نے پھینکے۔ سابق صدر اوبامہ کی شکست کا ایک سبب ان کے موسمیاتی تبدیلی کے قوانین بھی تھے یہ سارا کام اندر خانے ہوا اس لیے عوام سمجھ نہ سکی۔
دنیا کے سینکڑوں سائنسدان سیاسی عزائم نہیں رکھتے لیکن وہ صدر ٹرمپ کیخلاف متحد ہو رہے ہیں۔ دنیا کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سائنسدانوں نے کسی فیصلے کیخلاف اکٹھے ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ سائنسدانوں نے عوام سے بھی اپیل کی تھی کہ وہ بھی اٹھ کھڑے ہوں ورنہ موسمیاتی تبدیلیاں ان کی جائیدادوں ، رہائش گاہوں اور کاروباری مراکز کے لیے خطرناک ہوں گے۔ ان تبدیلیوں کا ادراک ابھی انسان کو نہیں ہے۔ لیکن ہوجائے گا۔ لیکن اس وقت تک وقت ان کے ہاتھ میں نہیں ہوگا۔ایسا سائنسدانوں کا کہنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:  انڈیا نے لائن آف کنٹرول پر تجارت معطل کر دی