np-seeds-arriving

ایٹمی جنگوں کے خوف سے دنیا نے بیج بھی محفوظ کرنا شروع کر دئیے ہیں

EjazNews

ترقی یافتہ ممالک قدرتی آفات اور ایٹمی جنگوں سے خوفزدہ ہیں۔ کسی بھی وقت چھڑ جانے والے جنگوں سے بچاﺅ کیلئے انہوں نے دنیا بھر میں مختلف اقسام کے بیچوں میں سینکڑوں ذخائر قائم کر رکھے ہیں۔ جن میں ذخائر کو بہت بڑا کہا جاسکتا ہے۔ ایسا سب سے بڑا ذخیرہ ناروے میں تقریباً 9ارب روپے سے اپنے ایک پرما سوس میں قائم کیا ہے۔ مشرق وسطیٰ امریکہ اور یورپ سے تقریباً 8لاکھ80ہزار بیچوں کو پرما سوس میں دفن کر دیا گیا ہے۔ بیچوں کے ذخیرے کو svalbard Global Sead Vaultکہا جاتا ہے۔ اس کا درجہ حرارت منفی تین فارن ہائیٹ ہے۔

بیجوں کے تحفظ کا اندرونی منظر

بجلی آئے یا جائے اس کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بیج کم درجہ حرارت کے باعث صدیوں تک محفوظ رہ سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل درجہ حرارت بڑھنے کے باعث کچھ برف پگلی اور پانی برما سوس میں داخل ہو گیا۔ لہٰذا سائنس دانوں نے اس کی دیواروں کو پکا کرنا شروع کر دیا ہے تاکہ برف پگلنے کی صورت میں اس کا پانی بیجوں تک نہ پہنچے۔ یہ ذخیرہ ایٹم بم پروف ہے اور موسمیاتی تبدیلیوں کا بھی اس کا اثر نہیں ہوگا۔ سطح سمند ر سے 130فٹ بلندی پر ہونے کے باعث سیلاب کا بھی کوئی خطرہ نہیں ۔ اس ذخیرہ میں گندم ، مکئی، چوئی ، جو ، بینگن ، سلاد، چاول اور آلوﺅں سمیت کوئی کھانے پینے کی چیز ایسی نہیں جو محفوظ نہ ہو۔

یہ بھی پڑھیں:  سائنسدان Spinachکے پتے سے دل کی دھڑکن کا پتہ لگانےمیں کامیاب