Senat

اپوزیشن گٹھ جوڑ مل کر بھی چیئرمین سینٹ کو نہ ہٹا سکا

EjazNews

چیئرمین سینٹ کیخلاف تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی ۔ میر حاصل خان بزنجو نے 50 ووٹ حاصل کیے اور صادق سنجرانی نے 45 ووٹ حاصل کیے۔پریزائڈنگ افسر بیرسٹر سیف نے ووٹنگ کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد مطلوبہ اکثریت تک ووٹ حاصل نہ کرسکی جس کی وجہ سے اسے مسترد کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق کی جانب سے چیئرمین سینیٹ کے خلاف پیش کی گئی تحریک عدم اعتماد پر 64 اراکین نے حمایت کی۔
اجلاس کے دوران 100 سینیٹرز ایوان میں موجود رہے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے چوہدری تنویر ملک سے باہر ہونے کی وجہ سے ایوان میں حاضری یقینی نہ بناسکے۔دوسری جانب جماعت اسلامی کی جانب سے ووٹنگ کے عمل پر غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کے 2 سینیٹرز بھی ایوان میں تشریف نہیں لائے۔

حکومتی اراکین کی جانب سے نعمان وزیر جبکہ اپوزیشن کی جانب سے جاوید عباسی کو پولنگ ایجنٹ مقرر کیا گیا جس کے بعد ووٹنگ کا باقاعدہ آغاز کیا گیاتھا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی چیئرمین سینیٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ ہوئی ہے۔
چیئرمین سینٹ کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک ناکام ہونے پر انصار عباسی لکھتے ہیں کہ میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اپوزیشن چیئرمین سنجرانی کو اکثریت رکھنے کے باوجود نہیں ہٹا سکتی کیونکہ پاکستان کی ایک تاریخ ہے جسے بدلنا مشکل ہے۔
عاصمہ شیرازی لکھتی ہیں معجزہ۔۔ سنجرانی صاحب جیت گئے، تحریک عدم اعتماد ناکام ہو گئی

یہ بھی پڑھیں:  اپنی قوم سے وعدہ کرکے جارہا ہوں کہ میں اس طرح کشمیر کا کیس اقوام متحدہ میں پیش کروں گا جو آج تک کسی نے نہیں کیا:وزیراعظم عمران خان