Muhammad rafi

محمد رفیع کا جسم تو ختم ہوگیا لیکن آواز آج بھی زندہ ہے

EjazNews

برصغیر پاک و ہندکی موسیقی سے محمد رفیع کا نام نکالنا ممکن نہیں ہے۔آج بھی برصغیر پاک و ہند کی موسیقی میں ان کا نام روشن ستارے کی طرح چمکتاہے۔ محمد رفیع ہم میں نہیں ہے لیکن ان کی آواز آج بھی کروڑوں کانوں میں گونجتی ہے اور وہ اس سے محظوظ ہوتے ہیں۔ لاہور سے تعلق رکھنے والے موسیقی کی دنیا کے بے تاج بادشاہ محمد رفیع گائیکی کا ایسا ہنر لے کرپیدا ہوئے تھے جو قدرت کسی کسی کو عطا کرتی ہے، سروں کے شہنشاہ محمد رفیع 24دسمبر 1924ء کو امر تسر کے گائوں کو ٹلہ سلطان سنگھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لاہور ریڈیو سے پنجابی نغموں سے اپنے سفر کی ابتداء کی ، موسیقی کا شوق انہیں ممبئی لے آیا اور پھر فلم انمول گھڑی کے گانے سے کیرئیر کا آغاز کیا۔انہوں نے کلاسیکی ، شوخ اور چنچل ہر طرح کے گیت گانے میں مہارت پائی تھی ۔ محمد رفیع نے 40ہزار کے قریب گانے گائے۔
محمد رفیع نے ہندی فلموں کے 4516ءہندی کے علاوہ دوسری زبانوں میں 112اور پرائیویٹ 328گانے ریکارڈ کرائے۔ ان کے مشہور گانوں میں چودھویں کا چاند ہو ، یہ دنیا یہ محفل میرے کام کی نہیں، میری محبو تجھے ، یہ ریشمی زلفیں اور دل جو نہ کہہ سکا کے علاوہ دیگر شامل شامل ہیں۔محمد رفیع نے اردو ، ہندی ، میراٹھی، گجراتی ، بنگالی، بھوجپوری اور تامل سمیت بہت سی دوسری زبانوں میں بھی گیت گائے۔

یہ بھی پڑھیں:  اداکار عمران عباس کے والد انتقال کر گئے
دنیا کے دو بڑے لوگ جن کا ان کے شعبے میں کوئی ثانی نہیں

محمد رفیع نے اپنے کیرئیر میں بطور پلے بیک سنگر متعدد ایوارڈز حاصل کیے، جن میں نیشنل فلم ایوارڈ، 6بار فلم فیئر ایوارڈ اور انڈین گورنمنٹ کی جانب سے سرکاری اعزاز پدم شری شامل ہیں جو انہیں 1967ء میں دیا گیا جبکہ ان کے انتقال کے 20بر س بعد 2000ء میں انہیں بہترین سنگر آف میلینیم کے اعزاز سے نوازا گیا تھا۔
محمد رفیع 31جولائی 1980ء کو وفات پا گئے۔ ان کی گائیکی آج بھی برصغیر میں مقبول ہے، آج انہیں ہم سے بچھڑے ہوئے بہت سال ہو گئے ان کا جسم تو مٹی میں مل گیا ہو گا لیکن ان کی آواز آج بھی زندہ ہے۔ وہ اپنی آواز کے ذریعے آج بھی اپنے لاکھوں چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔