mekah

مکہ شریف میں ٹھہرنے والے حاجیوں کے کام

EjazNews

اگر مکہ میں حج کے دنوں سے پہلے پہنچ چکے ہو تو ان کو قیمتی سمجھو، یہاں با ر بار آنا مشکل ہے۔ جس قدر ہو سکے نیک کاموں میں مشغول رہو۔
نماز قصر
مکہ شریف میں یا اور کسی جگہ 19 دن سے زیادہ ٹھہرنے کا پختہ خیال ہے تو پوری نماز پڑھتے رہو۔ اور اگر 19 روز یا اس سے کم رہنے کا خیال ہے تو نماز قصر کرو۔ حضرت ابن عبا سؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس سف19دن قیام فرماتے تو دو رکعت نماز قصر کرتے تھے۔
ہم نے بھی قیام کعبہ کے دوران میں19دن کے قیام میں قصر کرتے تھے اور 19 دن سے زیادہ قیام کرتے تو پوری نماز ادا کرتے تھے۔ (بخاری)
تردد اور تذبذب کی حالت میں قصر کرتے رہو۔ تردد کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ کام ہوگیا تو آج جائیں گے کل جائیں گے اسی طرح کرتے کرتے مہینوں گزر گئے تو ایسی حالت میں قصر ہی کرتے رہو اور اس تردد کی کوئی حد نہیں۔
بیت اللہ شریف میں نماز
(۱) جہاں تک ہو سکے مکہ شریف میں نہایت پابندی کے ساتھ پانچوں نمازیں جماعت کے ساتھ بیت اللہ شریف میں ادا کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بیت اللہ شریف میں ایک نماز پڑھنے سے لاکھ نماز پڑھنے کا ثواب ملتا ہے۔ مسجد نبوی اور بیت المقدس میں 50ہزار نمازوںکا ثواب ملتا ہے۔ (ابن ماجہ)
(۲) نماز با جماعت کی بہت فضیلتیں حدیثوں میں ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر گھر میں نماز پڑھے تو ایک نماز کا ثواب ملتا ہے، اگر نماز محلہ کی مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کی جائے تو 25نمازوں کاثواب ملتا ہے اگر جامع مسجد میں نماز پڑھی جائے تو پانچ سو نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔ (۳) بیت اللہ شریف میں ہر وقت نماز پڑھ سکتے ہو ، عصر و فجر کے بعد اور طلوع و غروب کے وقت بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر وقت طواف و نماز جائز ہے ۔ کسی کو منع کرنے کا حق نہیں ہے (ترمذی)۔
طواف کی بڑی فضیلت ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےف رمایا کہ بیت اللہ کا طواف کرنے اور دو رکعت نماز پڑھنے سے غلام آزاد کرنے کا ثواب ملتا ہے جو شخص پچاس طواف کرے گا وہ گناہو ں سے ایسا پاک و صاف ہو جاتا ہے گویا وہ آج ہی ماں کے شکم سے پیدا ہوا ہے۔
پچاس طواف سے یہ مراد ہے کہ سات پھیرا لگا کر دو رکعت نماز پڑھو۔ یہ ایک طواف ہوا۔ اسی طرح پچاس طواف کرو ایک ہی دن میں کرو یا متعدد دنوں میں پورے کرو۔ (۴) قیام مکہ کے دوران میں اگر بیت اللہ شریف کے اندر داخل ہونے کا موقع ملے تو اندر داخل ہونا مناسک حج سے نہیں ہے لیکن فضیلت ضرور ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں:
ترجمہ: جو بیت اللہ میں داخل ہوگ یا گویا وہ جنت میں داخل ہوگیا اور اس سے باہر نکلتے وقت بخشا گیا۔(ابن خزیمہ، بیہقی)
اور اس میں داخل ہونابھلائی کا سبب اور بخشش کا ذریعہ ہے۔ (فتح الباری)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بیت اللہ میں چار مرتبہ داخل ہونا منقول ہے۔ اول فتح مکہ کے دن، دوسرے فتح مکہ کے دوسرے دن، تیسرے حجة الوداع میں ، چوتھے عمرہ میں قضا میں، مگر ان میں روایتیں مختلف ہیں۔ فتح مکہ کے دن کی روایت صحیح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، عثمان بن طلحہ کنجی بردار اور حضرت اسامہ و بلال کو ساتھ لے کر اندر داخل ہوئے تھے اور سامنے کے رخ دیوار سے تین ہاتھ ورے باب کعبہ کی پشت تھی۔ تین ستونوں کے پیچھے اور ایک ستون داہنے اور دو ستون بائیں جانب تھے اور دو رکعت نماز پڑھی کہ اس وقت اندرون کعبہ میں چھ ستون تھے۔ (بخاری و مسلم)
بیت اللہ میں داخل ہوتے وقت اس دعا کو پڑھو:
ترجمہ: الٰہی تو نے اپنے گھر میں داخل ہونے والوں کےل ئے امن دینے کا وعدہ کیا ہے تو بہت ہی بہتر مہمان نواز ہے۔ خدایا مجھے اس امن کی ضرورت ہے کہ مجھے دنیا کی تمام تکلیفوں اور ہر ایک خوف سے کفایت کرے تاکہ میں تیری مہربانی سے جنت میں داخل ہو جاﺅں۔ (رملة الصدیق)
اس دعا کو پڑھ کر دروازے سے چند قدم آگے چل کربیٹھ جاﺅ اور اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بجالاﺅ اور توبہ و استغفار وتکبیر وتہلیل کرو اور سامنے منہ کر کے دروازے کی جانب پیٹھ کر کے دو رکعت نفل ادا کرو۔ سلام پھیر کر اللہ کی حمد بیان کرو۔ پھر سامنے والی دیوار پر آﺅ، اس پر اپنا چہرہ و رخسار اور سینہ رکھ کردین ودنیا کی بھلائی مانگو، توبہ استغفار کرو، پھر چاروں گوشوں میں پھر کر تسبیح و تہلیل و تکبیر کہو۔ پھر بیت اللہ شریف کے دروازے کے سامنے آکر دو رکعت نماز پڑھ کر نکل آﺅ۔
تنبیہ : (۱) بیت اللہ میں داخل ہونے کے لئے رشوت مت دو۔ (۲) کعبہ شرفی کے ستونوں کامعانقہ مت کرو جیسا کہ بعض نادان کرتے ہیں۔ (۳) وسط کعبہ میں ایک میخ ہے اس کو عوام سرة الدنیا (دنیا کا ناف) کہتے ہیں۔ اس پر اپنا ناف رکھتے ہیں یا سمنے کی دیوار میں ایک کڑا ہے اس کو کعروة الوژفی کہتے ہیں یہ سب عوام کی خود ساختہ باتیں ہیں، ایسا ہرگز نہ کرو۔ (۴) بیت اللہ کے اندر داخل ہوتے وقت کسی کو تکلیف مت دو،۔ ایذا رسانی ہر جگہ حرام ہے۔ ہر جگہ سنت کا خیال رکھو، بدعنوانی سے اجتناب کروے۔
حطیم: حطیم بیت اللہ شریف کا ایک حصہ ہے۔ نفقہ کم ہونے کی وجہ سے قریش مکہ نے تعمیر کعبہ کے وقت اس کو چھوڑ دیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حطیم کی داخلی نماز پڑھنی بیت اللہ کی داخلی نماز پڑھنی جیسی ہے، اس میں نماز سیدھے رخ جیسا کہ بیت اللہ میں پڑھی جاتی ہے، پڑھنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:  فضائل مدینہ منورہ