Dr-Firdos-ashiq

وزیراعظم نے عرفان صدیقی کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا:ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان

EjazNews

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد پریس بریفنگ دی جس میں ان کا کہنا تھا وفاقی کابینہ میںحالیہ دہشت گردی اور فوجی طیارے میں شہید افراد کے لیے فاتحہ خوانہ کی گئی ۔
ان کا کہنا تھا وزیراعظم نےقیدیوں کی حالت زار سے متعلق خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ڈیٹا اکٹھا کرکے حقائق سامنے لائے جائیں۔مستحق اور نادار قیدیوں کو مفت قانونی معاونت فراہم کی جائیگی۔ صوبائی حکومتوں کیساتھ ملکر جیل اور قیدیوں کے متعلق معاملات کو حتمی شکل دینگے۔
کمیٹی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے کمیٹی کو واضح ہدایات دی ہیں کہ وہ پاکستان بھر کی جیلوں کے اعدا وشمار اکٹھا کرکے حقائق سامنے لائے اور حکومت ایسے مستحق اور نادار قیدی جن کے پاس وکیل کرنے کی سکت نہیں ہے ان کو مفت قانونی امداد اور ان کے جرمانے ادا کرنے کے حوالے سے جو مسائل ہیں حکومت اس کی ذمہ داری لے گی۔فردوس عاشق اعوان کا کہ کہنا تھا کہ جو بچے چھوٹے جرائم کی سزا بھگتے رہے ہیں ان کو دوسرے قیدیوں سے الگ رکھنے کے لیے جیل اصلاحات ایجنڈا کمیٹی کے سپر کردیا گیا ہے اور کمیٹی جلد اس حوالے سے اپنی تجاویز سامنے لائے گی اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر جیل کے اندر جو نظام ہے اس تبدیل کرنے کی طرف پیش رفت ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے برسوں سے زیرالتوا اپیلوں کو سن کر کریمنل درخواستوں کو صفر کرنے اور اپنے ادارے میں جو اصلاحات لے کر آئے ہیں اور مقدمات کے خاتمے کے لے آن لائن جوسلسلہ شروع کیا ہے ۔ کابینہ نے اس کو سراہا اور نچلی سطح میں ضلعی عدالتوں تک اس کو کیسے لے جایا جاسکتا ہے اور بہتری کیسے لائی جاسکتی ہے اس پر بات ہوئی اور چیف جسٹس کے اس قدم کو سراہا۔
ان کا کہنا تھا کہ موٹرویز کے انتظامات اور معاملات میں نیشنل روڈ سیفٹی کونسل کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے، نیشنل روڈ سیفٹی اسٹیرنگ کمیٹی اور سیفٹی سیکرٹریٹ کا بھی قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس کا مقصد بڑھتے ہوئے حادثات اور ٹریفک کے دباؤ سے نمٹنا ہے۔
وفاقی کابینہ نے سول ایوی ایشن میں سروسز اور ریگولیشن کے شعبوں کو الگ کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے۔ایئرپورٹ میں موجود سہولیات کے معیار کو بہتر کیا جارہا ہے۔
کابینہ نے کامسٹ یونیورسٹی کی مجموعی قواعد و ضوابط کی منظوری دی گئی ہے جبکہ عمران ناصر خان کو منیجنگ ڈائریکٹر پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن تعینات کیا ہے۔
قومی کمیشن برائے انسان حقوق کے چیئرمین اور اراکین کی تعیناتی کے لیے اشتہار جاری کرنے کی منظوری دی ہے اور قومی کمیشن برائے حقوق اطفال کے لیے اشتہار کی بھی منظوری دی گئی ہے۔
کابینہ نے دادو میں سیپکو اہلکارسے بدسلوکی کا نوٹس لیا۔ سیپکو اہلکار سے ہونیوالی بدسلوکی پر آئی جی سندھ کو طلب کیا ہے۔ کابینہ نے کراچی میں حالیہ بارشوں سے ہونیوالی تباہی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔کابینہ نے حیدرآباد اور کراچی میں بارش سے تباہی ہوئی ہے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔کراچی اور حیدرآباد میں حالیہ بارشوں سے گڈ گورننس کا راگ الاپنے والے بے نقاب ہوئے۔جبکہ کابینہ نے ٹیکس گوشواروں کے متعلق اطمینان کا اظہار کیا ہے.چیئرمین ایف بی آر کی کاوشیں مثبت سمت میں گامزن ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا پی ایم پورٹل میں ساڑھے 7لاکھ شکایات کا ازالہ کیا جاچکا ہے۔پورٹل میں موجود بقایا شکایات کا تعلق زیادہ تر سندھ سے ہے۔کابینہ کو پاکستان میں جاری غربت سروے سے متعلق بھی آگاہ کیا گیا۔ معذور افراد کی سہولت کیلئے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔معذور افراد کی سہولت کیلئے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔راولپنڈی ،اسلام آباد کی سوسائٹیوں کو تمام سہولیات کی فراہمی کے بعد این او سی جاری کیا جائیگا۔ جبکہ اسلام آباد ماسٹر پلا ن سے متعلق قائم کمیشن نے سہولیات کے حوالے سے آگاہ کیا۔صاف پانی کے حوالے سے کابینہ نے متعلقہ محکموں کو ہدایات جاری کی ہیں۔
مولانا فضل الرحمن سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمان اسلام کی آڑ میں ذاتی مفادات کی تکمیل کے خواہاں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان اسلام کی آڑ میں ذاتی مفادات کی تکمیل کے خواہاں ہیں۔ مولانا فضل الرحمان کو عوام کی نہیں منسٹر انکلیو کی یاد ستا رہی ہے۔مولانا مذہب کے نام پر ذاتی ایجنڈے کو فروغ دے رہے ہیں۔حکومت کسی صحافی ،میڈیا ورکر اور اسکے ساتھ جڑے کسی بھی فریق کو ہدف بنانا نہیں چاہتی.صحافیوں کو سیاست کی بجائے صحافت کرنے پرتوجہ مرکوز رکھنی چاہے۔
سابق مشیر عرفان صدیقی سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا صحافیوں کو سیاست کرنے کی بجائے صحافت کرنے پرتوجہ مرکوز رکھنی چاہیے۔کابینہ میں تما م فیصلے مشاورت سے ہوتے ہیں۔ پیشہ ورصحافی کا بیانیہ کبھی بھی کسی سیاست جماعت کیساتھ نہیں ہوتا۔عرفان صدیقی کی گرفتاری پر سب سے پہلے میں نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ وزیراعظم عمران خان نے عرفان صدیقی کی رہائی میں اہم کردار ادا کیا۔ وزیراعظم نے روٹی اور نان کی قیمت بڑھنے کا بھی سخت نوٹس لیا۔روٹی کی سابقہ قیمت بحال کرنے کیلئے خصوصی اقدامات کیے جارہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:  وزیراعظم کا غربت کے خاتمے کیلئے پروگرام کا آغاز