zam zam

آب زمزم

EjazNews

سعی و حجامت وغیرہ سے فارغ ہونے کے بعد چاہ زمزم پر آکر زمزم کا پانی پیو اور خوب شکم سیر ہو کر پیو کہ پسلیاں تن جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ: ہمارے اور منافقین کے درمیان یہ نشانی ہے کہ آب زمزم سے منافقین کی پسلیاں نہیں تنتیں اور مسلمانوں کی پسلیاں تن جاتی ہیں ۔
زمزم کی فضیلت کے بارے میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں ، چند حدیثیں ذیل میں لکھی جاتی ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ، آب زمزم جس ارادے سے پیا جائے وہ پورا ہو جاتا ہے۔ اگر تم شفا کے ارادے سے پیو گے تو اللہ تعالیٰ تم کوشفا دے گا اور اگر تم شکم سیری کے لئے پیو گے تو اللہ تعالیٰ آسودہ کر دے گا اور اگر پیاس کی دوری کی نیت سے پیو گے تو اللہ تعالیٰ پیاس کو دور کر کے گا یہ حضرت جبرئیل ؑ کا کھود ا ہوا ہے اسمعیل ؑ کا سقاوہ ہے۔ آب زمزم برکت والا ہے بھوکوں کے لئے کھانا ہے اور بیماروں کے لئے شفا ہے۔
آب زمزم پینے کا ادب اور اس کی دُعا
زمزم کا پانی قبلہ کی طرف منہ کر کے اور کھڑے ہو کر تین سانس میں پینا چاہئے اور ہر دفعہ شروع میں بسم اللہ اور آخر میں الحمد للہ کہنی چاہئے اور اتنا پینا چاہئے کہ جس سے پسلیاں خوب تن جائیں کیونکہ منافق اتنا نہیں پیتا جس سے پسلیاں تن جائیں ۔ (دارق طنی، نیل)
اور پیتے وقت یہ دعا پڑھنی چاہئے ۔ حضرت ابن عباس ؓ زمزم پیتے وقت اس دعا کوپڑھتے تھے:
ترجمہ: اے اللہ میں تجھ سے نفع دین والا اور کشادہ روزی اور ہر بیماری سے تندرستی کا سوال کرتا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:  حج اور عمرہ میں فرق